کراچی :کراچی میں ای چالان نظام کی خامی کے باعث کوئٹہ میں رجسٹرڈ گاڑی کا چالان غلطی سے ایک نجی ہوٹل کے مالک کے نام جاری کر دیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ’AA-540‘ نمبر پلیٹ والی یہ گاڑی 1997 میں چوری ہونے والی مہران تھی، جبکہ ای چالان ایک سوزوکی آلٹو پر جاری ہوا تھا۔
دس ہزار روپے کا جرمانہ موصول ہونے پر جب مالک نے معاملہ اٹھایا تو ٹریفک پولیس نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چالان کے وقت نظام اے وی ایل سی اور سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک نہیں تھا، جس کی وجہ سے چوری شدہ گاڑی کی نشاندہی نہ ہو سکی۔
ای چالان انتظامیہ کے مطابق اب تمام متعلقہ محکمے کیمروں کے ذریعے منسلک ہو چکے ہیں، اور مستقبل میں ایسی غلطیوں کے امکانات کم ہوں گے۔ تاہم ٹریفک پولیس نے خبردار کیا ہے کہ چوری شدہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس استعمال کرنے کے واقعات ابھی مزید بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں ای چالان کے نئے نظام کو شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ لوگ جرمانوں کی زیادہ رقم اور شہر کی خستہ حال سڑکوں کو مسائل کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ اس حوالے سے دائر درخواست پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی۔