Wed, September 16, 2026

حسینہ واجد،مکافاتِ عمل کا شکار

حسینہ واجد،مکافاتِ عمل کا شکار

یہ 5اگست 2024ء کی صبح تھی۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو وزیراعظم ہائوس میں روزانہ کی سرگرمیوں کا شیڈول بتایا جا رہا تھا کہ آج کن سے ملاقات ہے اور کیا سرکاری امور نمٹانے ہیں۔ انہیں خفیہ اداروں کی طرف سے مسلسل رپورٹس بھی مل رہی تھیں کہ احتجاجی مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں لیکن وہ ’’ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا ‘‘ مقولہ کے مطابق پُر سکون تھیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ گزشتہ 16 برس سے بلا شرکت غیرے بنگلہ دیش پر حکومت کر رہی تھیں۔ ان کا کہا قانون بن جاتا تھا‘ اپنے مخالفین کو انہوں نے جیلوں میں قید کر رکھا تھا اور ان کا خیال تھا کہ وقت سدا ایک جیسا ہی رہنا ہے۔انہیں اپنی طاقت اور حکومت پر بڑا گھمنڈ تھا اور انہیں یقین تھا کہ یہ مظاہرے جلد ختم ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو بزورِ طاقت انہیں کچل دیں گی ۔ بنگالی عوام میں لاوا اندر ہی اندر پک رہا تھا اوران کا صبر جواب دے گیا تھا‘ طلبہ کے مظاہروں نے عوام کے صبر کو زبان دے دی تھی ۔ وہ ملک میں تبدیلی کے خواہشمند تھے کیونکہ شیخ حسینہ واجد نے بنگال کے عوام کا ناطقہ بند کر رکھا تھا۔ مذکورہ صبح انہیں پیشگی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ عوام کے جم غفیر کو روکنا اب شاید ممکن نہ رہے اور وہ کسی بھی وقت وزیراعظم ہائوس پر حملہ آور ہو سکتے ہیں ۔اس کے جواب میں انہوں نے گولی چلانے کا حکم دیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس وقت جو حالات ہیں طلبہ کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلبا وطالبات جان کی بازی ہار جائیں گے‘ ویسے بھی بنگالی فوج نے اپنے عوام پر گولی چلانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب16برسوں میں انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ بنگال کی سرزمین ان پر تنگ پڑنے لگی ہے۔ ایسے میں شیخ حسینہ واجد کے سامنے دو راستے تھے یا وہ حالات کا مقابلہ کرتیں کہ اس صورت میں انہیں اپنا مستقبل تاریک ترنظر آ رہا تھا اور دوسری صورت یہ تھی کہ انہیں جو آفر دی گئی تھی کہ آپ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت پہنچا دیا جائیگا، اسے قبول کر لیں ۔ انہوں نے کچھ لمحے توقف کے بعد دوسرے آپشن کو قبول کر لیا اور انہیں بنگلہ دیش سے راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔ ایک ایسی حکمران عورت جو 50برس سے سیاست کر رہی ہو اور کئی بار ملک کی وزیراعظم منتخب ہوئی ہو اور سب سے بڑھ کر گزشتہ 16برس سے مسلسل حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہو اچانک حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہ اسی سرزمین سے بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ آخری مغل بادشاہ بہاد ر شاہ ظفر کوجب انگریز نے تخت سے اتار کر گرفتار کر لیا اور اقتدار ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پابندِ سلاسل کر دیا تو انہوں نے یہ مشہورِ زمانہ شعر کہا تھا ’’ صبح کے تخت نشین شام میں مجرم ٹھہرے، ہم نے پل بھر میں حالات کو پلٹتے دیکھا‘‘ ۔ شیخ حسینہ واجد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ ان کا ہیلی کاپٹر جونہی بنگلہ دیش کی حدود سے باہر نکلا ان کے 16سالہ اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ بنگلہ دیشی عوام حسینہ واجد کے بھارت کی طرف حد سے زیادہ جھکائو سے سخت نالاں تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ بھارت ہمارے ملک کو اپنی ایک کالونی بنانے کا خواہاں ہے اور شیخ حسینہ واجد اس کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ کسی صورت یہ قبول کرنے پر تیار نہ تھے کہ ان کی مذہبی شناخت ان سے چھن جائے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ یہ وہی صورتحال پیدا ہو چکی تھی جو قیام پاکستان کی وجہ بنی تھی اور مسلمانوں نے تحریک پاکستان کا آغاز کیا تھا۔ اس برصغیر ( پاکستان، بھات،بنگلہ دیش) میں مسلمان اور ہندو کئی سو برس سے اکٹھے رہ رہے تھے ‘ یہاں مسلمانوں نے تقریباً 900برس حکومت کی ۔ مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے مذہبی رواداری کامظاہرہ کیا اور یہی وجہ تھی کہ ہندوئوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل رہی۔ جب انگریز یہاں پر قابض ہو گئے تو انہوں نے چونکہ اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا اس لیے انہوں نے ان کا ناطقہ بند کر دیا اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔ ہندوئوں نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کر کے اعلیٰ عہدے اور جاگیریں حاصل کر لیں ۔ ہندو مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینا چاہ رہے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ وہ انگریز کے جانے کے بعد اس برصغیر پر اپنی حکومت قائم کریں ‘ پھر یہاں ہندو ئوں کے مذہبی عقائدکے مطابق مسلمانوں کو زندگی بسر کرنے پر مجبور کریں۔ اُس دور میں مسلمانوں کے سیاسی شعور کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1857ء میں انگریز اس خطہ پر مکمل قابض ہو گئے تو28برس بعد 1885ء میں ہندوئوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے نام سے سیاسی جماعت بنا کر اپنے مفادات کے حقوق کا تحفظ شروع کر دیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے 49برس بعد1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے جماعت بنائی اور اُس وقت بھی مسلم رہنمائوں کی اکثریت ہندو مسلم اتحاد کی داعی تھی۔ تاہم رفتہ رفتہ ہندو رہنمائوں کے عزائم کھل کر سامنے لگے اور وہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے خلاف کھلم کھلا باتیں کرنے لگے تو مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت قائم رکھنے کیلئے الگ اسلامی ریاست کے قیام کی تحریک کا آغاز کر دیا ۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش کے عوام نے دوسری بار اپنے مذہبی شناخت کو بچانے کیلئے تحریک چلائی اور کامیاب ٹھہرے۔ شیخ حسینہ واجد کے ملک سے فرار کے بعد ان پر متعدد مقدمات زیر سماعت تھے اور اب دو روز قبل انہیں بنگلہ دیش کی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ انہیں اپنی حکومت بچانے کیلئے مظاہرین پر کریک ڈائون کے دوران انسانیت کیخلاف جرائم پر سزا دی گئی۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جس عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے انہیں سزا سنائی ، وہ خود شیخ حسینہ واجد نے قائم کی تھی۔ ان کے دورِ حکومت میں اسی ٹریبونل نے ان کے کئی سیاسی مخالفین بالخصوص جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اور اپوزیشن بی این پی کے رہنماؤں کو 1971ء کے واقعات میں پاکستان کی حمایت کرنے پر پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔اب شیخ حسینہ واجد خود اس کا شکار ہو گئی ہیں۔ مومن خان کے شعرکے ایک مصرعہ پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں ’’ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ‘‘۔

ٹیگز: