Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش میں 'پوسٹ حسینہ واجد' دور کے پہلے الیکشن: پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت بلند

بنگلہ دیش میں 'پوسٹ حسینہ واجد' دور کے پہلے الیکشن: پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت بلند

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں 15 سالہ آمریت کے خاتمے اور جولائی انقلاب کے بعد ہونے والے پہلے تاریخی عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل پرامن طور پر مکمل ہو گیا ہے۔ ملک بھر کے ہزاروں پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دستی گنتی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ حتمی سرکاری نتائج کا اعلان جمعہ کی صبح متوقع ہے۔
یہ انتخابات اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان میں حسینہ واجد کی عوامی لیگ شریک نہیں ہے۔ میدان میں دو بڑے حریف آمنے سامنے ہیں۔
     طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اقتدار کی پوزیشن مضبوط سمجھی جا رہی ہے۔جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے اس اتحاد کو "نیشنل سٹیزن پارٹی" (انقلابی طلبہ کی جماعت) کی حمایت حاصل ہے، جو اسے نوجوان ووٹرز میں بے حد مقبول بنا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دوپہر تک ووٹنگ کا تناسب 33 فیصد کے قریب رہا، تاہم شام تک لمبی قطاروں کے باعث ٹرن آؤٹ میں غیر معمولی اضافے کی توقع ہے۔ بنگلہ دیش کے 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے 299 نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ آئینی ترامیم کے ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔
 تقریباً 45 لاکھ نئے ووٹرز نے پہلی بار اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو کسی بھی جماعت کی جیت میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سروے رپورٹس کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان بہت کم مارجن ہے، جس کی وجہ سے 75 سے زائد نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہے۔
 امریکہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی بڑی تعداد اس عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ٹیگز: