ستارہ امتیاز کو حدیقہ کیانی سے نوازا گیا۔ حدیقہ کیانی کو سب سے بڑا شہری اعزاز ملنے پر مبارکباد۔ اس قسم کے جملے گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گردش کر رہے ہیں۔ یہ جملے ثابت کرتے ہیں کہ وطن عزیز میں حدیقہ کیانی کی شکل میں کوئی ایک شخصیت تو ایسی ہے جسے معاشرے کے تمام طبقات پسند کرتے ہیں۔ یہ امر بھی اطمینان کا باعث ہے کہ اس بار تقسیم کیے جانے والے اعزازات منظورِ نظر لوگوں کی بجائے حق دار لوگوں تک پہنچے ہیں کہ اب تک کسی ایک بھی اعزاز کے حوالے سے ویسا رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا جیسا 23مارچ 2019کو ایک اداکارہ یا اس کے بعد ایک صاحب مسند کے لیے مخصوص طرز کا جوتا تیار کرنے والے کاریگر کو اعزاز ملنے پر سامنے آیا تھا۔ ماضی میں تو اعزازات ہی نہیں عہدوں کی بھی ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر بندربانٹ ہوتی رہی ہے اور اکادمی ادبیات یا مجلس ترقی ادب جیسے اداروں کے سربراہوں کے تقرر پربھی خاصی لے دے دیکھنے میں آئی تھی۔جو لوگ ستارہ امتیاز کو سب سے بڑا شہری اعزاز سمجھ رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ سب سے بڑا نہیں بلکہ تیسرا بڑا اعزاز ہے۔ سب سے بڑا اعزاز نشان امتیاز جبکہ دوسرا بڑا اعزاز ہلال امتیاز ہے۔ پاکستان کے شہری اعزازات کے چھ مختلف زمرے ہیں جنہیں پاکستان، شجاعت، امتیاز، قائد اعظم، خدمت اور پرائڈ آف پرفارمنس کے نام دیئے گئے ہیں اور ان کا فیصلہ مختلف خدمات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ان میں سے پہلے پانچ زمروں میں سے ہر ایک کے چار مختلف مدارج ہیں جبکہ چھٹے زمرے پرائڈ آف پرفارمنس میں کوئی درجہ نہیں۔ یہ ایک ہی اعزاز ہوتا ہے۔ باقی پانچ زمروں میں سب سے پہلا درجہ نشان کہلاتا ہے، دوسرا ہلال، تیسرا ستارہ اور چوتھا تمغہ کہلاتا ہے۔ یعنی پاکستان کے پانچ اعزازات سب سے بڑے اور ہم مرتبہ ہیں۔ ان میں نشان پاکستان، نشان شجاعت، نشان امتیاز، نشان قائد اعظم اور نشان خدمت شامل ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز کا نام بھی نشانِ حیدر ہے۔ہر بار کی طرح اس بار بھی کچھ شخصیات کو ستارہ امتیاز سے بڑے اعزازات ملے ہیں جن میں سب سے نمایاں نام کرکٹر شاہد خان آفریدی کا ہے جنہیں ایوان صدر میں ہونے والی مرکزی تقریب میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ ان دونوں کے علاوہ بہت سی دیگر شخصیات بھی اعزازات کی حقدار قرار پائی ہیں جن میں سے کچھ کے اعزازات تو ہمیں اپنے اپنے سے لگنے لگے ہیں اور اس کی وجہ ان سے کسی نہ کسی حوالے سے تھوڑا یا زیادہ ذاتی تعلق ہے۔ ان میں سب سے پہلا نام مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کا ہے جنہیں ایوان صدر میں بعد از مرگ سب سے بڑے اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ عرفان صدیقی کے ساتھ کبھی براہ راست رابطہ نہیں رہا لیکن تعلق یوں بنتا ہے کہ یہ سطور اب اسی جگہ شائع ہو رہی ہیں جہاں کبھی عرفان صدیقی کا مضمون شائع ہوا کرتا تھا۔ یوں عرفان صدیقی کی رحلت سے خالی ہونے والی نشست راقم کے حصے میں آئی ہے۔ایک اور اعزاز جو بہت اپنا اپنا سا لگا وہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کو گورنر ہاو¿س لاہور میں ملنے والا تمغہ امتیاز ہے۔ ارشد انصاری کا شمار لاہور کی صحافی برادری کے مقبول ترین قائدین میں ہوتا ہے۔ وہ چودھویں بار پریس کلب کے صدر بنے ہیں جبکہ صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بھی منتخب سیکریٹری ہیں اور ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے صحافیوں کو صحافی کالونی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اس وقت بھی صحافی کالونی کا فیزٹو دلانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ان دو کے علاوہ جن اعزازات سے اپنائیت محسوس ہوئی ان میں ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں ادب کے شعبے کا عطاالحق قاسمی کو ملنے والا نشان امتیاز، اصغر ندیم سید کو ملنے والا ہلال امتیاز، گورنر ہاو¿س لاہور میں نصیر احمد ناصر کو ملنے والا ستارہ امتیاز اور ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کو ملنے والا تمغہ امتیاز شامل ہیں۔ یہ اعزازات اس لیے اپنے لگے کہ یہ سب مشاہیر ادب کی جس معتبر تنظیم حلقہ ارباب ذوق کے قافلہ سالاروں میں شامل ہیں، راقم بھی گزشتہ سال کے دوران اس کا منتخب عہدے دار رہنے کی سعادت حاصل کر چکا ہے بلکہ اصغر ندیم سید اور ناصر عباس نیئر کی صدارت میں تو حلقے کے اجلاس بھی منعقد کرائے گئے جبکہ عطاالحق قاسمی صاحب نے حکمران طبقے میں اپنے اثرورسوخ کی بدولت پاک ٹی ہاو¿س کی بحالی میں اپنا اہم کردار ادا کیا تھا۔گزشتہ برسوں میں ممتاز ادیبہ آپا سلمی اعوان اور کالج کے ہم جماعت سرور گوندل کو ملنے والے ستارہ ہائے امتیاز بھی ہمیں اپنے ہی لگتے ہیں۔ سرور گوندل سرکاری افسر ہیں جو اس وقت ادارہ شماریات میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور پاکستان میں ڈیجیٹل مردم شماری کرانے میں ان کا مرکزی کردار رہا۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ کسی اپنے کو عزت ملے تو اس میں اپنی ہی عزت افزائی ہوتی ہے۔ذکر چلا ہے اعزازات کا تو یونہی خیال آیا کہ اگر ان اعزازات کا فیصلہ کرتے ہوئے عوامی حلقوں سے بھی مشاورت کی جائے تو مزید حقدار افراد تک بھی یہ اعزازات پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بات یوں ذہن میں آئی کہ گزشتہ دنوں کراچی کی ایک ادبی تنظیم بزمِ زباں فہمی نے لاہور کی جامعہ پنجاب میں فارسی کی استاد ڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کے لیے قومی اعزاز کی سفارش کی تھی۔ چونکہ راقم ڈاکٹر عظمیٰ سے واقف ہے، اس لیے کراچی کی تنظیم کی جانب سے لاہور کی استاد کے لیے سفارش میں بہت وزن محسوس ہوا۔ ڈاکٹر عظمیٰ زریں کا اقبال، تصوف اور فارسی زبان و ادب کے حوالے سے خاصا کام ہے اور اہل ایران ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ڈاکٹر عظمیٰ کا نام تو یونہی برسبیل تذکرہ یاد آ گیا۔ نہ جانے ایسے کتنے گوہر نایاب ہمارے درمیان موجود ہیں جو اپنی کم آمیز طبیعت اور سادہ مزاجی کے باعث زیادہ نمایاں نہیں ہو پاتے جن کے اگر نام لینا شروع کیے جائیں تو ایک طویل فہرست بن سکتی ہے۔ سو اعزازات دینے کے لیے اگر عوامی حلقوں کی رائے بھی شامل کر لی جائے تو ”حق بہ حق دار رسید“ کا عملی نمونہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔