Wed, September 16, 2026

تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کا بل سینیٹ کی کمیٹی میں مسترد

تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کا بل سینیٹ کی کمیٹی میں مسترد

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف قانون سازی کے لیے پیش کیا گیا بل کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے کی، جس میں سینیٹر محسن عزیز نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام سے متعلق بل پیش کیا۔ بل میں تجویز دی گئی تھی کہ کسی طالبعلم کا منشیات ٹیسٹ مثبت آنے پر پہلی بار وارننگ، دوسری بار 15 روز کی معطلی اور تیسری بار جرمانے کے ساتھ سزا دی جائے۔

انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے حکام نے بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو متاثرہ فریق سمجھا جانا چاہیے، جبکہ اصل مجرم وہ لوگ ہیں جو منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق 80 فیصد تعلیمی اداروں میں اسکیننگ مکمل کر لی گئی ہے، لیکن طلبہ کے ٹیسٹ کرانا اے این ایف کی ذمہ داری نہیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے بل کو صوبائی اختیارات میں مداخلت قرار دیا، جبکہ وزارتِ قانون نے بھی مؤقف اپنایا کہ اس معاملے کو اے این ایف کے بجائے محکمہ تعلیم دیکھے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نہ کوئی صوبائی حکومت، نہ تعلیمی ادارے اور نہ ہی وزارت تعلیم اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔

بل کے خالق سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اُن کا مقصد نوجوانوں کو منشیات سے بچانا ہے اور وہ بل واپس نہیں لیں گے، چاہے کمیٹی اسے رد کر دے۔بعد ازاں،  بل کو کثرتِ رائے سے مسترد کر دیاگیا۔

ٹیگز: