اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے حوالے سے اپنے تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے ڈائریکٹر جنرل گرائم بیگر کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
اس ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی سمگلنگ، فرانزک تحقیقاتی ٹیکنالوجی اور پولیس کی تربیت جیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔
دونوں فریقین نے فیصلہ کیا کہ انسدادِ منشیات اور این سی سی آئی اے (نیشنل کرائم اینڈ کنٹرول ایجنسی) کے افسران کے لیے تربیتی کورسز کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ساتھ ہی بچوں کی آن لائن ہراسانی کے مسئلے پر تعاون بڑھانے اور اس کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
ملاقات میں ایکسٹراڈیشن (ملزمان کی حوالگی) کے معاملات میں بھی تعاون کو فروغ دینے پر بات کی گئی، اور اس حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پانچ ایم او یوز (مفاہمتی یادداشتوں) کو جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
گرائم بیگر نے اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے تمام تانے بانے ہمسایہ ملک سے جا ملتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید فرانزک ٹیکنالوجی اور تربیتی پروگراموں کی مدد سے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈی جی نیشنل کرائم ایجنسی، گرائم بیگر نے پاکستان کے ساتھ جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر انسدادِ منشیات میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔