کائنات کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جو بے مصرف ہو۔ فضا میں زمین پر زیر زمین اور زیر آب جو کچھ ہے وہ بس یونہی تخلیق نہیں کیا گیا، ہم اس کی اہمیت جاننے کی کوششوں میں جتے ہوئے ہیں لیکن کائنات کے رازوں تک پہنچنا چنداں آسان نہیں، اس کے لئے ایک نہیں شاید ہزاروں جنم درکار ہوں اور کچھ عجب نہیں ہم اس کے باوجود بس اتنا علم حاصل کر سکیں جسے کل کائنات کے مقابلے میں ایک ذرہ ہی کہا جا سکے۔
سورج کے بارے میں ہم اتنا ہی جان پائے ہیں کہ روشنی دیتا ہے، حرارت مہیا کرتا ہے، اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ ستاروں کا ایک جہاں آباد ہے، ہم ہزاروں برس بعد ایک ستارے کے بارے میں یقین سے بس اتنا ہی جان پائے ہیں کہ وہ جنوب کی سمت کا پتہ دیتا ہے، اسے قطبی ستارے کا نام دیا گیا ہے۔
ستاروں کی چال دیکھ کر مستقبل کا حال سنانے والے ہر زمانے میں ہر دور میں ملتے ہیں، یہ علم درحقیقت ہے کیا اس میں صداقت کتنی ہے ابھی تو یہ معاملہ حل نہیں ہوا چہ جائیکے کہ ستارہ شناسوں اور ان کی پیش گوئیوں پر یقین کر لیا جائے۔ حالیہ چند روزہ پاک بھارت جنگ میں شکست خوردہ بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے کردار سوامی یوکی قریباً ایک برس قبل کی پیش گوئی کا بھارت میں بہت چرچا ہے جس میں اس نے جاری برس کے ماہ مئی میں ایک بڑی پاک بھارت جنگ کی پیش گوئی کی تھی، جس جنگ میں دونوں ملکوں کے ایک سو سے زائد لڑاکا جہاز فضا میں ایک دوسرے پر جھپٹنے کیلئے پہنچ جائیں، اسے بڑی جنگ نہ کہیں تو اور کیا کہیں لیکن بھارتیوں نے اپنی شکست کے زخم چاٹنے کے بعد اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دینا شروع کی ہے کہ اصل بڑی جنگ تو ابھی ہونا ہے اور ماہ مئی میں ہی ہونا ہے، اس سے قبل جو کچھ ہوا وہ فقط ٹریلر تھا، فلم ابھی باقی ہے اور کم دورانیے کی انگریزی فلموں کی طرح ہاف ٹائم کے بعد شروع ہو گی جب تک موج میلے دیکھتے رہیے۔
سوامی یو کے مطابق یہ جنگ 18مئی کے بعد شروع ہو گی۔ پاکستان ائیرفورس نے بھارت کی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب لگائی ہے جو چند روز میں تو ٹھیک ہونے والی نہیں اس میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ ہمارے ریڈار سسٹم نے بھارتی فضائیہ کے تمام جہازوں کی آنکھیں نکال لیں وہ اندھے ہو گئے جب انہیں نظر آنا بند ہو گیا تو اپنے قریبی ہوائی اڈوں پر اترنے پر مجبور ہو گئے۔ اب انہیں دنیا کے کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے علاج کرانا ہے، ان کے درد اور کھوئی ہوئی بصارت کیلئے اسرائیل ، امریکہ اور یورپ سر جوڑے بیٹھے ہیں۔
ہمارے یہاں پائی جانے والی خوش فہمیوں کا کبھی تصور نہ کیا جا سکتا تھا، آج ہر طرف ان کے انبار ہیں، بعض اخبارات نے سرخیاں جمائیں کہ 1971ء کی شکست کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ ملازم نے اخبار میرے سامنے رکھا تو یہ سرخی پڑھتے ہی دیوانہ وار گھر سے باہر نکلا میرا خیال تھا کہ مقبوضہ کشمیر فتح ہو چکا ہے ہم نے یقینا بھارت کی ہزاروں سپاہ کو قیدی بنا لیا ہے۔ ملک بھر میں اس کا جشن شروع ہو چکا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہ تھا، ہم جسے جنگ بندی کہہ رہے ہیں، بھارتی وزیراعظم اسے فائرنگ میں وقفہ کہہ رہا ہے۔ ہارے ہوئے معرکے کے بعد وہ اپنے عوام کو کیا منہ دکھائے اور کیا کہہ کر تسلی دے یہ عام فہم ہے مگر اس سوال کا جواب نہیں مل رہا کہ اگر بھارتی وزیراعظم کی طرف سے دھمکی موجود ہے تو پھر شکرانے کے نفل پڑھنے کے بعد سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔
ہم بفضل خدا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں، اسلامی تاریخ کے روشن ابواب ہر کسی کو ازبر ہیں۔ تاریخ اسلام کی پہلی جنگ غزوہ بدر تھی اللہ کے نام پر اس کے دین کی حفاظت کیلئے نکلنے والوں کی تعداد 313 تھی۔ سامان حرب چند تلواروں، چند گھوڑوں پر مشتمل تھا، بیشتر کے پاس ذرہ بکتر نہ تھی، کچھ کے پاس تھی تو حد درجہ شکستہ، تیر اندازوں کی کمانیں اچھی حالت میں نہ تھیں حتیٰ کہ کچھ تیر بھی زنگ آلودہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و مہربانی سے مسلمان فاتح رہے، کفار کو شکست ہوئی، شکرانے کی نماز ادا ہوئی، کوئی ڈھول ڈھمکا نہ ہوا، کوئی جشن نہ منایا گیا، شہیدوں کے لاشے دفنائے گئے، ان کے اہل خانہ کی خبر گیری کی گئی اور دشمن کے کسی نئے حملے سے نپٹنے کی تیاری ترجیح قرار پائی۔ جنگ احد کے بعد بھی ہمیں تاریخ میں کوئی جشن نظر نہیں آتا، بعض جنگوں میں ہزاروں صحابہ کرامؓ نے جام شہادت نوش کیا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ جنگ خیبر سے بڑا معرکہ اور اس سے بڑی فتح کیا ہو گی۔ مسلمانوں نے چالیس روز تک خیبر کا محاصرہ جاری رکھا۔ زبردست جنگ کے بعد درِ خیبر اکھاڑ پھینکا تو مسلمان اس میں داخل ہوئے، اس جنگ کے بعد بھی سب خدا کے حضور جھک گئے، جشن نام کا کوئی ہلہ گلہ کہیں نہ تھا۔
پاکستانی قوم کو ایک مکار دشمن کا سامنا ہے۔ وہ کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، اس نے قیام پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ وہ آج جنگ بندی کو بھی تسلیم کرنے سے منکر ہے، اس کی وجہ صرف اس کی شکست ہے۔ وہ جب ’’ون اپ‘‘ رہا اس نے جنگ بندی تسلیم کی، اس نے مشرقی پاکستان کو کاٹ ڈالا پھر اس کے بعد جنگ بندی تسلیم کر لی۔ سہ روزہ جنگ میں ناکامی کا طوق بھارتی وزیراعظم نے اپنی مسلح افواج کے گلے میں ڈال دیا ہے اور خود کو بچانے کی کوششیں کی ہے۔ بھارتی افواج اپنے وزیراعظم نریندر مودی کو جسے اب بھارت میں سرنڈر مودی کے نام سے پکارا جاتا ہے، اسے بتا چکی تھیں کہ ان کے لئے جنگ لڑنا مشکل ہے لیکن سرنڈر مودی کو پاکستان دشمن ممالک کی طرف سے جنگ شروع کرنے کیلئے اشارہ اس شرط پر دیا گیا تھا کہ وہ بھارت کی بھرپور مدد کریں گی۔ پاکستان پر خدا کی مہربانی اس کے خلاف ہونے والی سب تدبیریں الٹی ہو گئیں، ورنہ بھارت کی طرف سے فضائی یلغار کا پورا پروگرام تھا۔ بھارت اپنے رافیل طیاروں کے نابینا ہونے سے سخت پریشان ہے، وہ ہمارے جام کر دینے کی صلاحیت کا جائزہ لے رہا ہے، اسے اس میں کامیابی نہ بھی ملی تو جب بھی اس کی طرف سے سٹرائیک کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے،اب جشن ختم کیجئے ، جوش برقرار رکھئے اپنے آپ کو ڈانس پارٹیوں سے باہر نکالئے اور زمین کو دشمن کے مقابلے کیلئے تیار کیجئے۔
بھارت اصل جنگ کی تیاری کے حوالے سے صرف مقبوضہ کشمیر میں مختلف جگہوں پر بیس ہزار پکے بنکر تیار کر چکا ہے جہاں حملے کی صورت میں بھارت کے زیر قبضہ علاقوں میں مقیم شہری پناہ لیں گے جبکہ فوج کے زیراستعمال بنکر تو کئی برس قبل بن چکے ہیں۔ بھارت 2019ء سے ایک بڑی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے، ہمیں اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرنا چاہئے۔ جارح قوتوں کا نیا منصوبہ غزہ، یوکرین اور آزاد کشمیر جو جہاں گھس جائے گا باہر نہیں نکلے گا۔ امریکہ اسی طرح کا مسئلہ کشمیر حل چاہتا ہے۔