غزہ آج دنیا کے ضمیر پر ایک کھلا زخم بن چکا ہے۔ یہ محض ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے مفادات کا میدان ہے، جہاں خون انسانی بہتا ہے مگر فیصلے طاقت کے ایوانوں میں ہوتے ہیں۔ فلسطینی عوام کی برباد بستیاں، تباہ حال زندگیاں اور اجڑی ہوئی امیدیں اب بین الاقوامی قوتوں کے لیے ایک کیک کی مانند ہیں، جس کے ہر ٹکڑے پر کوئی نہ کوئی طاقت اپنا حصہ چاہتی ہے۔
غزہ کا تنازع انسانی نہیں بلکہ سیاسی اور جغرافیائی مفادات کا کھیل بن چکا ہے۔ امریکہ، یورپ، روس اور چین جیسے طاقتور ممالک اس خطے کو انسانی ہمدردی کے بجائے اپنے سٹریٹیجک فائدے کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ امریکہ کے لیے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں اس کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے، اسی لیے واشنگٹن کے ہر بیان میں فلسطینی حقِ خود ارادیت کے بجائے اسرائیل کے دفاع کا راگ سنائی دیتا ہے۔ یورپی ممالک انسانی حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر اسرائیلی جارحیت پر اکثر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اخلاقی دکھ اپنی جگہ ہے، مگر عملی ردِعمل سیاسی نقصان کے مترادف ہے۔
روس اور چین اس تنازع کو مغرب کے خلاف سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ روس کے لیے فلسطین کی حمایت ایک موقع ہے کہ وہ امریکہ کا اخلاقی متبادل بن کر ابھرے، جب کہ چین اس مسئلے کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دونوں طاقتوں کے لیے غزہ ایک انسانی مسئلہ نہیں، بلکہ تذویراتی موقع ہے۔ یوں فلسطینی عوام کی بقا عالمی طاقتوں کی شطرنج پر محض ایک مہرہ بن چکی ہے۔
مسلم دنیا کا کردار اس تصویر میں سب سے
زیادہ افسوسناک ہے۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے دعوے تو بلند ہیں، مگر عملی میدان میں ہر ملک اپنی مصلحت کا قیدی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک غزہ کے لیے بیانات، امداد اور سفارتی دباؤ تو ڈالتے ہیں، مگر ان کی کوششیں بین الاقوامی دباؤ اور داخلی کمزوریوں کے باعث محدود رہتی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی ریاست کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے اور موجودہ بحران میں بھی انسانی امداد، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی بیانات کے ذریعے اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کر رہا ہے، مگر اس کے پاس وہ طاقت نہیں جو عملی تبدیلی لا سکے۔
سعودی عرب ایک محتاط اور سفارتی رویہ رکھتا ہے۔ وہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے عالمی دباؤ کے باوجود کہتا ہے کہ تعلقات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی ریاستی مسئلہ حل نہ ہو۔ مگر اس کے اپنے مفادات، معاشی اصلاحات اور امریکی تعلقات کے توازن نے اسے کھلے محاذ پر جانے سے روک رکھا ہے۔ ترکی نسبتاً زیادہ جرأت مندانہ رویہ اپناتا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی جارحیت پر کھل کر تنقید کی، انسانی امداد بھیجی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر دبا بڑھایا، لیکن انقرہ کی اپنی معاشی مجبوریوں اور نیٹو کے دبا نے اسے مکمل مزاحمت سے روک دیا۔
عرب دنیا کے دیگر ممالک جیسے مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رویے بھی مصلحت آمیز ہیں۔ مصر انسانی امداد کی راہداری تو فراہم کرتا ہے مگر اسرائیل سے تصادم نہیں چاہتا۔ اردن داخلی سلامتی کے خوف میں مبتلا ہے، جب کہ امارات اور بحرین اسرائیل کے ساتھ ابراہیم ایکارڈ کے بعد کھلے تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ اس پس منظر میں امتِ مسلمہ کا اتحاد محض ایک نعرہ بن گیا ہے، جس کی گونج جذباتی جلسوں تک محدود رہ گئی ہے۔اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی بے بسی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں ویٹو کی نذر ہو جاتی ہیں، انسانی حقوق کے ادارے بیانات تک محدود رہتے ہیں اور مغربی میڈیا اسرائیلی بیانیے کے زیرِ اثر کام کرتا ہے، جہاں مظلوم کو دہشتگرد اور قابض کو مدافع بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو عالمی انصاف کے پورے ڈھانچے پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
تاہم اس اندھیرے میں چند کرنیں اب بھی موجود ہیں۔ دنیا بھر میں عوامی سطح پر فلسطینی حمایت میں مظاہرے ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا نے اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کیا ہے، اور نوجوان نسل اب روایتی پراپیگنڈے سے آزاد ہو کر سچائی دیکھ رہی ہے۔ مسلم ممالک کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں کم از کم انسانی امداد، جنگ بندی کے مطالبے اور فلسطینی ریاست کے قیام پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو غزہ کی تباہی آنے والی نسلوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا ناسور بن جائے گی۔
غزہ آج ایک علامت ہے طاقت کی ہوس، انسانیت کی شکست اور انصاف کی مصلحت پسندی کی۔ جو طاقتیں خود کو دنیا کی محافظ کہتی ہیں، وہی آج ظلم کی محافظ بن چکی ہیں۔ فلسطین کا خون صرف زمین نہیں رنگ رہا، بلکہ عالمی ضمیر کو بھی داغدار کر رہا ہے۔ غزہ کا مسئلہ مشرقِ وسطی کا نہیں، انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر دنیا نے اس بار بھی مفادات کو انسانیت پر ترجیح دی تو تاریخ اسے بے حسی کے دور کے طور پر یاد رکھے گی۔ شاید یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ غزہ آج بھی جل رہا ہے، اور دنیا اس کی راکھ پر اپنے مفاد کا کیک کاٹ رہی ہے۔ مگر قدرت کے قانون کی چال سے کوئی واقف نہیں جو حرکت میں آنے کو ہے، بارود کے ڈھیر پر بیٹھی قوتیں کب خود قیامت کو دی ہوئی دستک کے نتیجے میں تاریخ میں ڈھیر ہو جائیں گی شاید اپنی تاریخ بھی خود نہ لکھ پائیں۔