محترم ساجد حسین ملک روزنامہ نئی بات کے سینئر کالم نگار ہیں۔ چند ماہ پہلے انہیں عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی تو انہوں نے اس سفر کی روداد اپنے کالموں میں تحریر کی۔ یہ کالم قارئین میں کافی مقبول ہوئے۔ میں خود بھی نہایت دلچسپی سے ان کے سفر حجاز کی کہانی پڑھتی رہی۔ ساجد ملک صاحب نے بہت اچھا کیا کہ ان تحریروں کو کتابی شکل میں ایک جگہ اکھٹا کر دیا ہے۔ مجھ سمیت بہت سے قارئین عقیدت، سجدوں، آنسووں اور مناجات میں گندھے اس سفر کو با ر بار پڑھنا چاہتے ہیں۔ دیار حجا ز میں ، کا شمار ایسی کتابوں میں ہوتا ہے جو پڑھی نہیں جاتیں، بلکہ دل سے محسوس کی جاتی ہیں۔ اس کتاب کا عنوان دیکھ کر ہمیں اللہ کی اور اس کے گھر کی یاد آنے لگتی ہے۔ ہم میں سے جنہیں سفر حجاز کی سعادت حاصل ہوئی ہے، وہ اپنے اس سفر کی یاد میں کھو جاتے ہیں۔ دیار حجاز میں، کو پڑھتے ہوئے آپ محسوس کرتے ہیں جیسے آپ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں گھوم رہے ہوں۔ یا اس مسجد میں چل پھررہے ہوں جسے میرے حضور نے اپنے مبارک ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا۔ساجد صاحب جب اپنے طواف کا واقعہ بیان کرتے ہیں تو قاری بھی خود کو بیت اللہ کے گرد طواف کرتا محسوس کرتا ہے۔ روضہ رسول کی حاضری کی روداد پڑھتے ہوئے اپنے نبی پاک کے روضہ مبارک میں حاضری لگوانے جا پہنچتا ہے۔
دیار حجاز میں، موصول ہوئی تو واقعتا بہت خوشی ہوئی۔ مجھے اس کتاب کی اشاعت کا انتظار تھا۔ اس کی وجہ یہ کہ ساجد ملک صاحب مرحوم و مغفور عرفان صدیقی صاحب کے سب سے قریبی دوست تھے۔ مجھے سب سے پہلے صدیقی صاحب ہی کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ ساجد ملک صاحب اپنے سفر حجاز کو کتابی شکل میں شائع کروانے کیلئے کوشاں ہیں۔ صدیقی صاحب نے اس کتاب کے لئے ایک نہایت بے تکلف اور عمدہ دیباچہ تحریر کیا ہے۔چند ماہ پہلے صدیقی صاحب نے پروفیسر ساجد ملک صاحب کی کتاب کیلئے تحریر کردہ دیباچہ مجھے بھجوایا تو میں نے ان سے گلہ کیا کہ میری کتاب ” زیب داستاں“ کیلئے تو آپ نے بس واجبی سے انداز میں لکھا تھا۔جبکہ ساجد صاحب کے لئے کتنے منفر د اور غیر روائتی انداز میں لکھا ہے۔ اصرار کیا کہ اب” سیاست سے ہٹ کر“ کا دیباچہ بھی ساجد ملک صاحب کی کتاب کے دیباچے کی طرح پورے دل سے لکھیں۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے، میرے شکوے کے بعد انہوں نے نے میری کتاب کیلئے بھی ایک نہایت عمدہ دیباچہ تحریر فرمایا۔ میرے رب کی رضا کہ میں وہ کتاب صدیقی صاحب کی خدمت میں پیش نہ کر سکی۔ دیار حجاز موصول ہوئی تو مجھے سب سے پہلا خیال مرحوم عرفان صدیقی صاحب کا آیا۔ساجد ملک صاحب کا ان سے نہایت قریبی تعلق تھا۔اس کتا ب کیلئے تحریر کردہ دیباچے میں صدیقی صاحب فرماتے ہیں کہ ” ساجد حسین ملک اور میں،پہلی بار کب، کہاں، کس طرح اور کس ماحول میں ملے، مجھے کچھ یاد نہیں۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ ملک صاحب کو وہ دن، وقت، لمحہ اور گفتگو کا متن بھی لفظ لفظ یاد ہوگا۔ مجھے تو بس اتنا گمان ہے کہ یہ ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی بات ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کوئی ایسا لمحہ نہیں آیاکہ ہماری رفاقت کے تابناک چہرے پر گردش شام و سحر کی ہلکی سی گرد بھی پڑی ہو“۔ آج وہ زندہ ہوتے تو اس کتاب کو دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوتی۔صدیقی صاحب کی یاد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایسے روح پرور موضوع پر لکھی ہر کتاب دیکھ کر ہمیں صدیقی صاحب کی معروف کتاب” مکہ مدینہ“کا خیال آتا ہے۔ کتاب میں معروف صحافی اور کالم نگار جناب جبار مرزا کا دیباچہ بھی شامل ہے۔
ساجد ملک صاحب نے اس کتاب میں اپنے سفر حرمین شریفین کی سعادت کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے۔ ہوائی اڈے سے لے کر فلائیٹ تک ، بیت اللہ، صفا مروہ،کبوتر چوک، مسجد نبوی، روضہ اقدس، ریاض الجنتہ، جنت البقیع، زیارات، یہاں تک کہ خریداری کا احوال بھی تفصیلا لکھا ہے۔ انداز تحریر ایسا ہے کہ قاری خود کو ان مبارک مقامات میں موجود اور چلتے پھرتے محسوس کرتا ہے۔مثال کے طور پرروضہ رسول پر اپنی حاضری کا بیان یوں فرماتے ہیں: ”سچی بات ہے کہ میری حالت ایک اقبالی مجرم کی تھی جسے اپنے جرائم کو ماننے میں کوئی عار نہ ہو۔ میرا پورا جسم لرز رہاتھا اور زبان درود ابراہیمی کے الفاظ دہرا رہی تھی اور جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے اس کی کپکپاہٹ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ۔۔۔میں ڈرا سہما اور کانپتا ایک ہی سوچ اور فکر میں غلطاں تھا کہ میری نافرمانیاں، کوتاہیاں اور لغزشیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں سراپا رحمت نبی کا سامنا کیسے کر سکتا ہوں۔ اسی حالت میں آگے بڑھتے اس مقام پر پہنچا جہاں راہداری کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میری خواہش تھی کہ کاش مجھے راہداری کے بائیں طرف والے حصے سے جو روضہ اقدس کی جالیوں کے قریب سے گزرتا ہے وہاں سے گزرنے کا موقع نصیب ہو جائے۔ وہاں سامنے ایک باوردی پہرے دار کھڑا تھا جو کچھ لوگوں کو ادھر سے گزرنے کی اجازت دے رہاتھا۔ میں ذرا اس کے قریب پہنچا تو میں نے اپنے چہرے اور سینے پر دل کی جگہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے ادھر سے گزرنے کی اشاروں ہی اشاروں میں استدعا کی۔ اس کی مہربانی کہ اس نے مجھے اس راستے پر ہو لینے کا اشارہ کر دیا۔ میں نے سمجھا کہ میرے لئے عفو و درگزر کا کچھ دروازہ کھل گیا ہے اور مجھے کچھ نہ کچھ اذن باریابی مل رہا ہے“۔۔۔۔۔اس قدر عمدہ تصویر کشی اور رواں دواں انداز بیاں۔۔ سچی بات یہ ہے کہ گھریلو اور دفتری مصروفیات کی وجہ سے میرا کتاب سے پہلے والا رشتہ قائم نہیں ہے۔ تاہم اس دلچسپ کتاب کو میں نے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔
ساجد ملک صاحب کو کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس کتاب کو جب بھی دیکھیں گے انہیں اپنے دوست عرفان صدیقی صاحب اور ان کی کتاب مکہ مدینہ کی یاد آئے گی۔دعا ہے کہ مکہ مدینہ ہی کی طرح ساجد ملک صاحب کی دیار حجاز میں، کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہوں۔ اس عمدہ کتاب کی اشاعت پر برادرم محترم علامہ عبد الستار عاصم صاحب بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ نجانے علامہ صاحب کس جناتی رفتار سے کام کرتے ہیں جو ہر چند دن بعد ایک سے بڑھ کر ایک کتاب مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ یہ کتاب ضرور پڑھیں اور سفر حجاز کے روح پرور واقعات سے اپنی روح کو منور کریں۔