اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ اہلیہ محترمہ اور اپنے کچھ دوسرے عزیزانِ گرامی کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سفرِ حرمین شریفین نصیب ہوا۔ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے طواف اور مدینہ منورہ میں روضہ اقدسﷺ پر حاضری کے ساتھ ہر دو جگہوں پر معمول کی عبادات کے جہاں مواقع ملے، وہاں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات بھی نصیب ہوئیں۔ سچی بات ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ) میں اپنے چودہ روزہ قیام کے دوران کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ یہاں جس طرح شب و روز بِیت رہے ہیں، جو کچھ جاننے، سمجھنے اور دیکھنے میں آ رہا ہے اور جس طرح کے تجربات و مشاہدات حاصل ہو رہے ہیں، اُن کی تفصیل لکھوں گا اور اِسے کتابی شکل دی جائے گی۔ لیکن کہتے ہیں کہ کچھ کام اپنی مرضی سے نہیں ہوتے اللہ کریم کی طرف سے ایسا ہونا ہوتا ہے یا مقدر میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ کام ہو جاتے ہیں۔
ایسے ہوا کہ حرمین شریفین سے واپسی پر میں نے روزنامہ ’’نئی بات‘‘ میں اپنی معمول کی خامہ فرسائی (کالم نگاری) شروع کی تو خیال تھا کہ دو تین کالموں میں اپنے عمرے کی رُوداد بیان کر کے اس سلسلے کو ختم کر دوں گا لیکن یہ سلسلہ شروع ہوا تو پھر سات آٹھ ماہ اور کم و بیش پچپن چھپن اقساط میں اس طرح جاری رہا کہ اب … ’’دیارِ حجاز میں‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
’’دیارِ حجاز میں‘‘ سفر نامہ ہے، رپورتاژ ہے، رُوداد ہے، کالموں کا مجموعہ ہے، آپ بیتی ہے، جو کچھ بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ میرے ذاتی احساسات و جذبات کا عکس اور میرے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ حرمین شریفین میں، مَیں نے جو کچھ دیکھا، جو کچھ میرے مشاہدے میں آیا، جس طرح وقت گزرا۔ پھر اکتالیس بیالیس برس قبل میں نے اپنی والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ اور اپنے بڑے بھائی حاجی ملک غلام رزاق کے ساتھ حج کیا تھا، اُس وقت کی حرمین شریفین کی جو یادیں میرے ذہن کے نہاں خانوں میں موجود ہیں اُن کو بِلا کم و کاست بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں یہاں اس بات کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنے اندازِ بیان اور طرزِ تحریر کے بارے میں جہاں کم مائیگی کا احساس ہے وہاں یہ بات میرے لیے بہت اہم ہے اور اہم رہی ہے کہ موضوع جس کے بارے میں لکھ رہا ہوں، اِتنا نازک، اتنا محترم، اِتنا مقدس اور اِتنا زیادہ احتیاط کا تقاضا کرنے والا ہے کہ اس کے بارے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی اور کوئی واقعہ، کوئی حوالہ، کوئی بیان، کوئی تفصیل حقائق سے ہٹ کر نہیں ہونی چاہیے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نے حرمین شریفین مسجد الحرام و خانہ کعبہ، مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی ؐ و روضہ اقدس مدینہ منورہ اور ہر دو جگہوں کے مقدس تاریخی مقامات کے بارے میں لکھتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔ اور جو کچھ بھی لکھا ڈرتے ڈرتے لکھا ہے۔ تاہم جب زیادہ تر انحصار ذاتی جذبات و احساسات، تجربات، مشاہدات اور ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں پر ہو تو سر گزشت کو اس طرح بیان کرنا کہ بر سر زمین حقائق سے اس کی جہاں مطابقت ہو وہاں مستند، تاریخی روایات سے اس کی تائید ہوتی ہو تو واقعی انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ تھا۔ اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھے اس سے عہدہ بر آ ہونے کی استطاعت حاصل ہوئی پھر بھی میں اللہ کریم اور اس کے پیارے حبیبﷺ کے حضور دست بستہ عرض گزار ہوں کہ نا دانستہ مجھ سے اگر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی تو اس کی معافی ملنی چاہیے۔