کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ مل بیٹھنے سے گفتگو نہیں محفل جنم لیتی ہے اور کچھ محفلیں ایسی ہوتی ہیں جو باقاعدہ منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ محض چند مخصوص لوگوں کی موجودگی سے ہی آباد ہو جاتی ہیں۔ جو احباب محترمہ نزاکت شکیلہ، جاوید اختر، بینا گوئندی اور عدیل برکی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ میری اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ چار لوگ بھی اسی قبیل کے ہیں۔ جہاں یہ اکٹھے ہو جائیں وہاں سنجیدگی اپنے آپ ہی کسی دروازے سے باہر نکل جاتی ہے اور محفل پُر بہار ہو جاتی ہے۔ ریڈیو پاکستان لاہور کی پہلی خاتون سٹیشن ڈائریکٹر محترمہ نزاکت شکیلہ جنہیں میں ہمیشہ عقیدت اور اپنائیت سے”باجی میڈم“ کہتا ہوں۔ وقار، شائستگی اور خلوص کا ایسا امتزاج ہیں جو اب نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے شریکِ حیات جاوید اختر صاحب جو خود بھی ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر رہے گفتگو میں ٹھہرا¶ اور لہجے میں متانت رکھتے ہیں مگر اندر سے کسی شرارتی بچے کی طرح پورے شریر اور جملے باز۔ علمی ادبی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت، معروف شاعرہ، سفرنامہ نگار، ناول نویس، محقق اور فلسفے اور سائنس جیسے موضوعات پر بے شمار کتابوں کی خالق بینا گوئندی اور نامور گلوکار اور ہر دلعزیز شوخ و شنگ شخصیت عدیل برکی۔ یہ چار لوگوں کا ایک ایسا گروپ ہے کہ لاہور اسلام آباد یا کسی اور جگہ جب یہ چاروں ایک ساتھ اکٹھے موجود ہوتے ہیں تو وہاں ان کے ایک دوسرے پر شوخ جملوں، کھٹی میٹھی نوک جھونک اور ہلکی پھلکی شرارتوں سے پورا ماحول اس طرح کشت زعفران بنا رہتا ہے۔ جس کی حلاوت سے بغیر کسی تفریق کے وہاں موجود دیگر واقف اور ناواقف لوگ بھی پوری طرح لطف اُٹھاتے ہیں۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ یہ چار کا ٹولا جسے میں اب چار کا ”گروہ“ بھی کہتا ہوں کبھی کبھار اپنی شرارتوں اور جملوں کے ساتھ اچانک کسی اجنبی پر بھی حملہ آور ہو جاتا ہے۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس حملے کو لیڈ عدیل برکی کرتے ہیں جسے بے ساختہ اور جاندار قہقہوں کی شکل میں اس ”گروہ“ کے باقی تینوں ارکان کی بھرپور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ میں ذاتی طور پر خود بھی کئی بار اس گروہ کے جملوں اور قہقوں کا شکار ہوا ہوں مگر ان ظالموں کی آپس کی کیمسٹری یعنی تال میل دیکھ کر میرے دل میں ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ کسی کا دوست یا سہیلی ہونے کے لیے کسی کا مرد اور عورت ہونا ضروری شرط نہیں ہیں۔ ان کی شرارتوں کو دیکھیں تو کسی بھی شخص کے لیے یہ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ چار سہلیاں ہیں یا چار دوست حالانکہ اس گروپ یا گروہ میں دو ”لڑکے اور دو لڑکیاں“ ہیں۔ کبھی کبھار جب ہمارے پیارے عدیل برکی زیادہ موڈ میں آئے ہوں تو یہ تناسب تین ایک کا بھی ہو جاتا ہے۔ اس تمہید کے بعد آپ کو بتانے کی اصل بات یہ ہے کہ اس مہینے کی بارہ تاریخ کو یہ چار درویش ایک ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اگلے روز یعنی تیرہ جنوری کو افتخار عارف کی صدارت میں اکادمی ادیبات میں اس گروپ کی اہم ترین رکن بینا گوئندی کی کتاب ”ہیرو شیما کے آنسو“ کی تقریب رونمائی تھی۔ ”ہیرو شیما کے آنسو“ بینا گوئندی کی جاپان کے بارے میں لکھی گئی ایک خوبصورت کتاب ہے جس میں انہوں نے جاپان میں گزرے ماہ و سال کو بڑی خوبصورتی اور قرینے سے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ میرے جیسے جن ”پینڈوﺅں“ نے ابھی تک جاپان نہیں دیکھا۔ اسے بھی یہ کتاب پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بینا گوئندی کے ساتھ ساتھ وہ بھی جاپان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ ر ہا ہے۔ بقول آپا سلمیٰ اعوان کے ”بینا گوئندی کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے وقت، لمحوں اور پڑھنے والے کو جکڑ لیا ہے۔ اس کے واقعات کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل کا بیانیہ اس قدر دلآویز ہے کہ بندہ سر اُٹھائے بغیر اسے سراہے نہیں رہ سکتا“۔ میرے خیال میں ”ہیرو شیما کے آنسو“ محض ایک سفرنامہ نہیں ہے یہ جاپان کو دیکھنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس میں آنکھ، دل اور شعور تینوں شامل ہیں۔ آپا سلمیٰ اعوان نے بجا فرمایا کہ بینا گوئندی کی تحریر وقت اور لمحوں کو جکڑ لیتی ہے۔ واقعی ان کی نثر میں ایک ایسا بہا¶ ہے جو قاری کو سر اٹھانے کی فرصت نہیں دیتا۔ وہ تفصیل بیان کرتی ہیں مگر بوجھل نہیں کرتیں تاریخ لکھتی ہیں مگر
واعظ نہیں بنتیں۔ اس کتاب کے تعارف سے بہت پہلے میں بینا گوئندی کو ایک اَن تھک، محنتی اور مسلسل کام کرنے والی ایک خاتون لکھاری کے حوالے سے اس وقت سے جانتا تھا جب اردو سائنس بورڈ میں میرے مہربان، شفیق دوست اور اردو کے خوبصورت شاعر اسلم کولسری مرحوم وہاں ہوتے تھے جن سے ملنے میں وہاں جایا کرتا تھا۔ اسلم کولسری صاحب نے میرا بینا گوئندی سے تعارف کرایا تھا۔ اس وقت مجھے یہ جان کر خاصی حیرت ہوئی تھی کہ ایک لڑکی شعر و ادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ سائنس اور فلسفہ پر بھی بے شمار کتابیں لکھ اور ترتیب دے چکی ہے۔ اس کے ایک طویل عرصے کے بعد ان سے میری دوبارہ ملاقات ایف ایم 101، لاہور کے سٹوڈیو میں ایک لائیو شو کے دوران ہوئی جس کی میزبانی میں کر رہا تھا۔ باتوں باتوں میں جب مجھے یہ پتا چلا کہ آپ کا تعلق شاہینوں کے شہر سرگودھا سے ہے جہاں میرا اپنا لڑکپن اور جوانی کا ابتدائی دور بھی گزرا ہے تو اسی وقت یہ تعلق جواس سے پہلے ایک رسمی سا تھا بہن بھائیوں والے ذاتی تعلق میں بدل گیا۔ اس دوران وقفے وقفے سے کبھی ان کے گھر اور کبھی کسی تقریب میں ان سے ملاقاتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ میری یہ بہن بغیر کسی مفاد کے رشتوں کی اہمیت کو سمجھنے اور ان کو نبھانے والی بے حد مخلص شخصیت ہیں۔ رہی بات ”ہیرو شیما کے آنسو“ کے فنی محاسن کی اس پر بات کرتے ہوئے مجھے وہ قصہ یاد آ رہا ہے جس میں ایک پریشان حال نوجوان بابا جی سے پوچھتا ہے ”بزرگو زندگی کیا ہے“ بابا جی نے ایک گہری نظر اس نوجوان کو دیکھا اور اس سے ”پوچھا تمہارے پاس ماچس ہے“۔ نوجوان نے جیب سے ماچس نکال کر بابا جی کو دی۔ جس کے بعد بابا جی نے ماچس کی ڈبیہ سے ماچس کی ایک تیلی نکال کر اس کے اگلے سرے سے بارود والا حصہ توڑ کے بچی ہوئی تیلی کو اپنے کان میں پھیرتے ہوئے کہا ”پُتر مینوں کیہ پتا“۔ ایک عام قاری کے طور پر مجھے بھی بس اتنا پتا ہے کہ یہ ایک خوبصورت اور بامعنی کتاب ہے۔ اس کی نثر میں نرمی بھی ہے گہرائی بھی اور وہ ٹھہرا ہوا دکھ بھی جو ہیرو شیما جیسے المیے سے جڑا ہے۔ ”ہیرو شیما کے آنسو“ دراصل صرف ایک شہر کے آنسو نہیں یہ انسانیت کی اجتماعی آنکھ کی نمی ہے اور بینا گوئندی نے اس نمی کو لفظوں میں قید کر کے ہمیں احساس دلایا ہے کہ ادب اگر سچا ہو تو سرحدیں عبور کر لیتا ہے اور شاید یہی اچھی تحریر کی سب سے بڑی خوبی ہے۔