اسلام آباد: مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق اعلیٰ بیوروکریٹ اور ایڈیشنل سیکرٹری خواجہ فاروق کرمانی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو کشمیر کی مخصوص آئینی حیثیت کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔
فاروق کرمانی نے نجی ٹی وی پر انٹرویو میں ا نکشاف کیا کہ جس 'دستاویزِ الحاق' کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر اپنا حق جتاتا ہے، وہ قانونی طور پر نامکمل ہے۔ ان کے مطابق اس پر ریاست کی سرکاری مہر موجود نہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دستخط اور اس پر درج تاریخیں متنازع اور مشکوک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بہت پہلے ہی اس کے جوہر کو ختم کر دیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ تمام کلیدی انتظامی عہدوں (ڈپٹی کمشنرز اور ایس پیز) پر غیر کشمیریوں کو تعینات کر کے مقامی لوگوں کو بے اختیار کر دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں سپریم کورٹ کو ہائی کورٹ بنا دیا گیا، جبکہ وزیراعظم اور صدر کے عہدے ختم کر کے وفاق کے نامزد کردہ گورنر کو مسلط کر دیا گیا۔
کرمانی نے انتباہ کیا کہ بھارت ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کر کے کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ "آبادکار نوآبادیاتی منصوبہ" اس لیے ہے تاکہ مستقبل میں اگر کبھی رائے شماری ہو، تو بھارت اپنے حق میں نتائج حاصل کر سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے مسلمانوں کی سلامتی پاکستان کی مضبوطی سے وابستہ ہے۔ ان کے بقول، جب بھی پاکستان کمزور نظر آتا ہے، بھارت کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر اپنے مظالم اور جارحیت میں اضافہ کر دیتا ہے۔