حضرت سید وارث شاہ نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھرکیا فرماتے ہیں کہ شانداراں نوں کرے نہ کوئی جھوٹا یعنی امیرزادوں کو کوئی جھوٹا نہیں کہہ سکتا اگروہ جھوٹے ہوں بھی، اسی طرح پیروارث شاہ فرماتے ہیں کہ وارث شاہ لتاڑدے پئے ماڑے ماڑے خوف دے مونہوں بولدے نئیں مطلب وہ تگڑے بندوں سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں چاہے ان کے ساتھ کتنی ہی زیادتی کیوں نہ ہوئی ہو آگے چل کر فرماتے ہیں ماڑے موئے سپ وانگوں وس گولدے نیں اسی طرح ہی جیسے بھاٹی گیٹ واقعہ میں ماں بیٹی کے گٹر میں گر کر ہلاک ہونے پرلاہور پولیس جس کی مریم نوازتعریفیں کرتی نہ تھکتی تھیں اسی پولیس نے خاتون کے شوہر اور دیورکو پکڑ لیااور تھانے لیجا کر خاصی درگت بنائی اوربے گناہی کا واویلا کرتے رہے لیکن کسی نے نہ سنی جب جعلی خبرسچ نکلی تو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے ایکشن لیا تو متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوئی انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں پولیس افسران متاثرہ غلام مرتضی کو ایس ایچ او کے کمرے میں غیر قانونی طور پر تقریبا 4گھنٹے تک حراست میں رکھ کر تشدد کرتے رہے،ایس ایچ او کے کمرے میں نصب کیمرے کی ویڈیو شواہد کے طور پر حاصل کی گئی جس سے واقعے کی تصدیق ہوئی،غلام مرتضی نے بیان دیا کہ پولیس افسران نے اس پردبائو ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اوربیٹی کے قتل کا الزام قبول کرے،پولیس پنجاب کی ہو یا کسی دوسرے صوبے کی وہ شہریوں سے آئے روز زیادتیوں میں ملوث ہیں اور شکایات کے باوجود شہریوں کی کہیں داد رسی نہیں ہو تی ہر حکومت نے پولیس پر نوازشات کی بارش کی بدلے میں شہریوں کی عزت سے کھلواڑ کیا جاتا رہا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ چور نالے چتر کے مصداق خود ہی ملزم ہیں خود ہی منصف ہیں یہ بات آخر کار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی مان لی کہ پولیس شہریوں پر ظلم کرتی ہے انہوں نے شہریوں کواوئے کہہ کر بلانے سے منع کردیا آئندہ شہریوں کو سر اور صاحب کہہ کر بلائیں مریم نواز نے پولیس کو نیا آرڈر جاری کردیاوردی کے نشے میں آئے روز پولیس والے سر عام شہریوں کی تذلیل کرتے ہیں چادراور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کرتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہر دور میں پولیس کو سیاست میں گھسیٹا گیااور جائزناجائز کام کروائے گئے کرائے جا رہے ہیں جس پر پولیس کی گڈی چڑھتی ہی گئی اور بے لگام پولیس وارث شاہ کے کہے کو آج تک سچ ثابت کرتی چلی آ رہی ہے ادھر متاثرین نے سانحہ بھاٹی ملزمان کیخلاف مزیدکارروائی سے انکار کر دیا، عدالت کا پراجیکٹ مینیجراصغر سندھو،سیفٹی انچارج حنزلہ،سائیٹ انچارج احمد،عثمان اورسلمان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے کیس کی کارروائی مؤثرطور پرختم کردی گئی عدالت نے نہ پوچھا کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد کیا وجہ بنی کہ ملزمان سے مرحومہ کے شوہرغلام مرتضیٰ کو85لاکھ اوروالد ساجد کو 25لاکھ دیکر صلح کر لی گئی مریم نواز کے اقدامات اپنی جگہ لیکن عدالتوں میں بندے مروا کر پیسے لیکر صلح کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے تاکہ ہربار بے گناہوں کوہی پھانسی نہ ہو گناہ گاروں کو بھی سزاملے تاکہ آئندہ کسی کو گناہ کرنے سے پہلے سو بارسوچنا پڑے؟ سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے تحت سرکاری ملازمین کو ایسی صورت میں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا جب غفلت یا قانونی فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کے باعث اموات واقع ہوں یا املاک کو نقصان پہنچے لیکن ا فسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پولیس سمیت تمام سرکاری ادارے کرپشن سے بھرے پڑے ہیں آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی جیسے بھاٹی گیٹ واقعہ کے بعدبیورورکریسی کو بچا لیا گیاچند ایک کی پکڑ دھکڑ سے لوگوں کے منہ بند کرنے کی کوشش کی گئی جب کراچی میں دوسرا بڑا سانحہ گُل پلازہ آتشزدگی کا رونما ہوا تو پنجاب حکومت کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی گھمبیر ہوئی کہ پنجاب کی حکمران جماعت کے بعض عہدے داران بھی اپنی حکومتی حلیف جماعت کی سندھ حکومت پر تنقید کا شوق پورا کر رہے تھے،لیکن جب اپنے گھرکو آگ لگی توسب کو سانپ سونگھ گیا۔ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ معمولی سے معمولی پولیس والا بھی کروڑوں کی جائیداد کا مالک کیسے بن جاتاہے کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ جوئے خانے کون چلا رہا ہے کبھی کسی نے نہیںپوچھا کہ عیاشی کے اڈے کون چلا رہا ہے کسی نے آج تک نہیں پوچھا کہ پولیس مقابلوں میں ڈاکواپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا شکار کیوں ہوتے ہیں سرکار جتنے مرضی جتن کرلے یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے کیونکہ حکمران صرف باتیں کرتے ہیں عمل داری نہیں کرواتے ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار ٹھنڈے اور گرم کمروں سے نکل کر دیکھیں کہ ان کے احکا مات پر کتنا عمل ہو رہا ہے پھر دیکھیں آئینہ کتنا سچ بولتا ہے؟۔