Wed, September 16, 2026

کپتان کی آنکھ نہ رہی تو …

کپتان کی آنکھ نہ رہی تو …

سابق وزیر اعظم میا ں نواز شریف جب جیل میں تھے تو قانون کی مناسبت سے جو سہولیات انہیں مل رہی تھیں کپتان نے نہ صرف انہیں جیل میں مزید مشکلات پیدا کرنے کا حکم دیا بلکہ امریکہ میں پاکستانیوںسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان جا کر ٹی وی بھی واپس لے لوں گا۔ اسکے بعد میاں صاحب کو بیماری کو مذاق بنایا آج جب وہ خود جیل میں ہیں تو اسے فائیو سٹار جیل بنانے کی استدعا کر رہے ہیں، کپتان کے جیل جانے کی وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی کپتان کے سوشل میڈیا سے ذرا کم مگر انہیں بھی وہی تکلیف ہوتی ہے اور ہر ٹاک شو میں ، دھرنا ہو یا بیماری کا ذکر کہیں نہ کہیںسے لے آتے ہیں۔ عمران خان کا دور حکومت چاہے جیسا بھی رہا ہو وہ وزیر اعظم رہے ہیں، قوانین کی رو سے انہیں سہولیات مل رہی ہیں، مگر بیماری اللہ کی جانب سے آتی ہے ، انکا علاج ممکن ہے ، دھرنوں ، اسلام آباد کو بند کرنے میںبری طرح ناکامیوں کے بعد اب انکے لواحقین خان کی آنکھوںکی بیماری کو لے بیٹھے ہیں، دھرنے ، اور ملک کو بند کرنے کی خواہشات پر از خود انکی منتشر لیڈر شپ ناکام رہی ہے جو لوگ خود ہی دست و گریبان ہوں انکے پیچھے عوام کس خوشی میں جائیں گے اس سے بہتر ہے وہ اس مہنگائی کے دور میں اپنے روزگار کی طرف توجہ دیں۔ کسی بھی قیدی کو طبی سہولیت ملنا قیدی کا حق ہے مگر یہ حق صرف وی آئی پی قیدی کو نہیں ہونا چاہئے، آج کی حکومت ماضی کے مقابلے میں عسکری قیادت کے ساتھ ’’ ایک صفحے ‘‘ پر ہے کامیاب ہے ، اس ایک صفحے کو ہر زندہ آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ کسطرح فیلڈ مارشل اور انکی ٹیم سیاسی حکومت کے شانہ بشانہ ہے وہ ایک طرف ملک کے اندر شرپسندوں، فتنہ ہند و افغان سے نمبر د آزما ہے، پڑوس کی میلی آنکھوں کو بند کرنے میں مصروف ہے، فیلڈ مارشل اور انکی ٹیم کی ہی کاوشیںہیں کہ اسوقت عسکری قیادت کے دو ٹوک عمل سے دنیا میں پاکستان کی وزارت خارجہ سرخ رو ہے، ملکی معیشت کی بحالی کی کوششوں میں بھی فیلڈ مارشل کا عمل دخل موجودہے، کسی کی بیماری پر ہنسی ٹھٹھا نہیںبلکہ افسوس کیا جاسکتا ہے۔عمران خان کی آنکھیں کبھی بھی 6/6نہیں رہیںوہ چشمہ 2010ء سے بھی پہلے سے لگا رہے ہیں، حکومت علاج کیلئے تمام تر سہولیات پہنچا رہی ہے، پی ٹی آئی کا لیڈر جیل میں ہے مگر باہر بیٹھے اس جماعت کے لوگ آپس میں دست و گریباں ہیں، ایسے میں کون سی تحریک چلانے کی خواہش رکھتے ہیں انہیں از خود ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، بہنوں کا ایک گروپ ، وکلاء کا ایک گروپ، صوبہ خیبر کا ایک گروپ، صوبہ کے حالیہ وزیراعلیٰ سے جماعت نے نہ جانے کیوں توقع باندھ رکھی تھی کہ وہ انقلاب برپا کردینگے اور فوری ہی جیل سے اپنے لیڈر کو نکال لائینگے ،حالیہ وزیراعلیٰ اور سابقہ وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام اور مسائل پر توجہ دینا مناسب نہ سمجھا اور لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد میں کفن باندھ کر آنے کی باتیں ہوئیں مگر سب کچھ ٹائیں ٹائین فش۔ کپتان سے جماعت اور خاندان کو دلچسپی اتنی ہے کہ جب علاج اور آنکھوںکو معائنہ شروع ہوا اور خاندان اور جماعت کے رہنمائوںکو دعوت دی گئی تو وہاں کوئی نہیں آیا، مجھے یا دہے کہ ایک دفعہ سردار عبدالقیوم سے ہم نے پوچھا تھا کہ کشمیر چھوٹا سا ہے وہاں کئی جماعتیں ہیں جو کشمیر کی آزادی کی بات کرتی ہیں یہ سب اکٹھی کیوں نہیں ہوجاتیں مطالبہ تو ایک ہی ہے تو مرحوم سردار عبدلقیوم نے فرمایا تھا، یہ سب نہیں چاہتے کہ کشمیر آزاد ہو، کشمیر آزاد ہوگیا تو وہ کیا سیاست کرینگے، بالکل ایسی ہی صورتحال پی ٹی آئی کی لگتی ہے باہر بیٹھی گروپوںپر مشتمل بھی یہ کررہے ہیں ، روز تصاویر ، ٹاک شو میں شرکت ، یہ مزے کہاں ہونگے اگر انکا لیڈر رہا ہوگیا، اس میں سب سے بڑا دخل اس جماعت کے سوشل میڈیا کا ہے ، جسکے متعلق کہتے ہیں انکا کوئی تعلق نہیں ۔
 پی ٹی آئی تعلقات بہترکرنے میں کتنی سنجیدہ ہے اسکا اندازہ محمود اچکزئی کو اپنے معاملات سونپ دینا ہے ، جنکی پاکستان ، قائد اعظم کے خلاف اسمبلی تقاریر موجود ہیں ، انکی قومی اسمبلی میںحالیہ تقریر کو سن لیںجس میں انہوںنے فرمایاہے کہ فوج پاکستان کی نمائندہ فوج نہیں۔۔ سارے کھیل کا مطلب اب یہ لگتا ہے کہ یہ جماعت چاہتی ہے کہ انکے لیڈر کو بیماری کے بہانے ملک سے باہر بھیج دیا جائے وہ نواز شریف کی دوران بیماری قید سے ملک بدر کرنے کو مثال بنارہے ہیں ، نواز شریف کے مختلف ہسپتالوں میں معائنے ہوئے تھے پی ٹی آئی کی وزیر صحت شیریں مزاری نے نگرانی کی تھی، اسمبلی میں رپورٹ پیش کی وہاںمنظوری ہوئی اس دوران مسلم لیگ نے کہیںبھی سب کچھ اکھاڑ پھینکے کے کوئی بیان نہیںدیا ، کوئی دھرنہ یا پاکستان کو بند کرنے کا اعلان نہیں ، میاں صاحب حکومت کی اجازت سے لندن چلے گئے مگر کرونا کہ وجہ سے علاج نہ ہوسکا اور علاج میں تاخیر ہوئی۔ بے ہودہ بیانات کہ ’’ عمران کی آنکھ بہتر نہ ہوئی تو کسی کی آنکھ سلامت نہیں چھوڑینگے۔ مشورہ یہی ہے کہ اگر ڈیل بھی چاہئے تو انسانی طور طریقے استعمال کریں، اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں ، انکی جماعت ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرنا ہے وہ کیوں کرے َ؟؟؟؟اسے بدنام کرنے میںکوئی کسر چھوڑی ہے؟؟؟ پھر کیا مسلم لیگ اور پی پی پی ایسا ہونے دینگی ،؟؟ سب سے بڑے صوبے کو مریم نواز نے ترقی کا ایک نمونہ بنادیا ہے عوام خوش ہیں ، وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کی درستگی کیلئے اپنا سیاسی سرمایہ دائو پر لگا یا ہے انہوںنے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکالا ہے اس وقت ان جماعتوںکے بد ترین دشمن ڈیل کون کرے گا ؟؟ سیاست دان کہتے ہیں حکومتیںتبدیل ہوتی ہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تو اسٹیبلشمنٹ کو کیا پریشانی ہے ؟؟ ملک چل رہا ، معیشت کو بہتری کے واضح اشارے ہیں، حکومت کو بس ایک کام کرنا ہے کوئی تدبیر کرے اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو، ہر جانب پھیلی کرپشن کو لگام دے تو آئندہ پانچ سال انہیں کوئی نہیں روک سکتا ،جیسے کہ آئندہ انتخابات میں مریم نواز مقابلے کے لوگوںکی ضمانتیں ضبط کرائینگی۔ 

ٹیگز: