Wed, September 16, 2026

دشمن کو خوشی ایک آنکھ نہ بھائی

دشمن کو خوشی ایک آنکھ نہ بھائی

کسی کو دکھ دینا بہت ہی آسان کام لیکن اداس چہروں پر خوشیاں بکھیرنا بہت ہی مشکل کام ہے اور یہ مشکل کام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے بسنت کی اجازت دیکر کردکھایا بسنت کے نام پر زندہ دلان لاہور میں ایک بار پھر خوشیوں کی بہار لوٹ آئی،اندرون اور بیرون ملک سے بھی لوگوں نے 25 سال بعد ایک بارپھرثقافت کو زندہ کردیا بلکہ کئی ایسے بچے بھی تھے جنہوں نے آنکھ کھولی توبسنت پرپابندی لگ چکی تھی اورجب وہ جوان ہوئے تو صرف دل ہوا بو کاٹا ہی سنتے رہے مریم نوازکے سخت اقدامات کے باعث ایک خوش کن تبدیلی یہ آئی کہ بسنت کے موقع پر کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیالاہورمیں بسنت کی اجازت ملنے سے ہر شخص خوش نظر آیا اورلوگوں نے خوب انجوائے کیا اورلوگوں کی خوشی دیکھتے ہوئے وزیراعلٰی پنجاب مریم نوازنے تیسرے اور آخری روز رات بارہ کے بجائے ٹائم صبح پانچ تک بڑھا دیاجس سے لوگوں خصوصا نوجوانوں کی خوشی دیدنی تھی لیکن دشمن کو یہ خوشی ایک آنکھ نہ بھائی اور ترلائی کلاں کے علاقہ میں خوکش حملہ کرکے 32نمازیوں کو شہید کردیاہمارے دائیں بائیں دشمنوں کے مینا بازار لگے ہیں جہاں ملک دشمن سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کبھی ہمارے جوانوں پر حملے کرتے ہیں کبھی پولیس والوں کو گولیوں سیے چھلنی کرتے ہیں تو کبھی تعلیمی اداروں پر چڑھائی کی جاتی ہے اس کے باوجود ہمارے ادارے چوکس ہیں اور وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے کیونکہ دشمن سمجھتا ہے کہ وہ افراتفری پھیلا کرکسی مقصدمیں کامیاب ہو گا تو یہ اس کی بھول ہے نہ ہمارے سیکورٹی ادارے اپنے فرض سے غافل ہیں اور نہ عوام ،مسلمان خدا اورقرآن کے ماننے والا ہے ہمیں آخری نبی ﷺکی امت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے وہ نبیؐ جس نے چاروں اطراف سے مظالم کے باوجودکسی کیلئے بد دعا نہ کی بلکہ ایک وقت آیاجب دشمنوں کوسینے سے لگایا امام بارگاہ میں دھماکہ دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے،دہشتگرد 
ملک و ملت کے دشمن ہیں اور ایسی مذموم کارروائیوں کے ذریعے قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے،پوری قوم فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف متحد ہے اورمتحد رہے گی،معصوم شہریوں کی جانیں لینے والے انسانیت کے دشمن ہیں، دہشتگردوں کا کوئی دین او رمذہب نہیں ہوتا یہ مذموم مقاصد کے حصول کیلئے عدم استحکام پھیلا کر عوام کی جانوں کے درپے ہیں، مشکل وقت میں ملک پاکستان کے استحکام کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو متحدہوناپڑے گا،دہشتگردی کی ملک میں کوئی گنجائش نہیں، فسادفی الارض کے مرتکب خوارج کے خلاف آپریشن کلین اپ کا آغاز کیاجائے،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قوم پاک افواج کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑی رہے پاکستان دشمن قوتیں فرقہ واریت،لسانیت اور بدامنی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہے،قوم ان مذموم مقاصد کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، دہشتگردی کے پیچھے پاکستان دشمن بھارت ہے ، وطن عزیز کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد کیلئے قومی اتحاد، باہمی ہم آہنگی او رریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون ناگزیر ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک کی فوج کمزور ہوجاتی ہے تو وہ افغانستان،شام،عراق اور لیبیا جیسی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے، پاکستان آرمی پاکستان اور پوری مسلم امہ کی محافظ ہے، ایسے سفاک عناصر ملکی امن ،سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی پر براہ راست حملہ کررہے ہیں،بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کیخلاف اور معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانیت کے دشمن ہیں، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اس سرزمین پر ایسے درندوں کی کوئی جگہ نہیں ہم نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور آج بھی ہماری جدوجہد انہی عناصر کے خلاف ہے، افواج پاکستان کی بدولت جلد ہی پاک سرزمین سے ظالموں کانام ونشان مٹ جائے گا،خودکش حملہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور شہر کے امن کیخلاف سازش، علمائے کرام اور عوام صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں ،بے گناہ انسان کی جان لینے والے خوارج نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھاہے اور وہ خود کومسلمان سمجھتے ہیں جبکہ یہ دہشتگرد عناصر بھارت کے پے رول پر ہیں، اسلام نے ہمیشہ ہر مذہب کے حقوق کی تعلیم دی ہے،دہشتگرد کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کوشہید کرکے اسلام کی روح کی خلاف ورزی کررہے ہیں، امام بارگاہوں،مساجد اور مزارات کونشانہ بنانے والا مائنڈ سیٹ خوارج کی سوچ کی عکاسی کرتاہے،اب فتنہ الخوارج کی سرکوبی لازم و ملزوم ہوچکی ،دہشتگردی کی حالیہ لہر ایک بارپھرہمیں متحد ہو کر ان شرپسند عناصر کا مقابلہ کرنے کا پیغام دے رہی ہے،پاکستان میں پائیدار امن کا قیام پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہمارا دشمن بڑاعیار،مکار اور چالاک ہے ہمیں دشمن کی چالوں کو سمجھنا ہو گا، دشمن ہمیں آپس میں لڑا کر انتشار پیدا کر کے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتاہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، پاکستانی قوم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے بھی قربانیاں دی ہیں، کوئی مذہب یا نظریہ معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا فرقہ وارانہ فسادات کرنے والے قومی و بین الاقوامی عناصر کی مجرمانہ ذہنیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتااسلام سراپا رحمت امن اور انسانیت کا دین ہے جو نہ صرف انسانی جان کو محترم قرار دیتا ہے بلکہ عبادات میں بھی اعتدال اور احساس ذمہ داری کا درس دیتا ہے جس دین میں وضو کے وقت بھی پانی کے ضیاع سے منع کیا گیا ہو وہ کبھی بھی بے گناہوں کے خون بہانے ظلم و بربریت کی اجازت نہیں دے سکتا اسلام نے ہر حال میں جان کی حرمت کو مقدم رکھا ، ظلم جبر اور قتل ناحق کو سنگین جرم قرار دیا ، آج بعض عناصر اپنے مفادات کے لئے اسلام کے نام کو استعمال کرکے نفرت تشدد اور فساد کو فروغ دے رہے ہیں جو سراسر دین کی اصل تعلیمات کے خلاف ہے ایسے عناصر نہ صرف اسلام کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ معاشرے میں بدامنی اور انتشار کا سبب بھی بن رہے ہیں قرآن و سنت ہمیں صبر برداشت عدل اور رواداری کا سبق دیتے ہیں ملک میں امن و امان کے قیام انتہا پسندی کے خاتمے اور نوجوانوں کی صحیح فکری تربیت کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں تاکہ اسلام کے حقیقی پیغام رحمت کو عام کیا جا سکے۔

ٹیگز: