حالات حاضرہ پر تو لکھتے ہیں لیکن آج حضرت انسان ترقی کی راہ پر جس تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہا ہے اس پر چند گذارشات قارئین کی نذر کرنا ہیں ۔ گذشتہ دنوں ایلون مسک نے نیا ایکس چیٹ پلیٹ فارم لانچ کر دیا ہے جس کے بعد 2026میں موبائلز اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی کافی ایپس کو گڈ بائی کہہ دیا جائے گا ۔سب سے پہلے ایک اعتراف کر لیں کہ ہم نہ تو آئی ٹی کے ماہر ہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا کے ماہر ہیں ۔ آئی ٹی تو خیر ایک بالکل علیحدہ فیلڈ ہے کہ اس میں مہارت کے لئے باقاعدہ ایک ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم تو سوشل میڈیا میں بھی اس حد تک اناڑی ہیں کہ چند دن پہلے ٹک ٹاک پر ڈیڑھ دو منٹ کی ایک وڈیو اپ لوڈ کرنا تھی تو کافی دیر مغز ماری کے بعد پھر بچوں سے مدد لینا پڑی اور دیگر سوشل میڈیا کی ایپس جس میں فیس بک اور واٹس ایپ شامل ہیں وہ بھی بس شیئرنگ کی حد تک ہی مہارت رکھتے ہیں اور کہتے ہوئے شرم تو آ رہی ہے لیکن یقین جانے کہ گھر میں بچوں اور خواتین تک کو واٹس ایپ پر سٹیٹس لگانا آتا ہے لیکن ہمیں سٹیٹس لگانا تو دور کی بات کسی سے ذکر نہ کیجیے گا ہمیں کسی دوسرے کا واٹس ایپ پر سٹیٹس دیکھنا بھی نہیں آتا ۔ خیر تمہیدی گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں چونکہ اس دنیا کا تجربہ نہیں اس لئے اگر کچھ غلط ہو جائے یا مبالغہ ہو جائے تو دروغ بر گردن راوی سمجھ کر در گزر کر دیجیے گا ۔ گذشتہ دنوں نیا ایکس چیٹ پلیٹ فارم لانچ کر دیا گیا ہے جس کے بعد زیادہ دور نہیں بلکہ 2026میں موبائلز اور واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا کی کافی ایپس کو گڈ بائی کہہ دیا جائے گا ۔ یہ کیسے ہو گا اس پر بات کرنے سے پہلے چند سال بعد کیا ہونے والا ہے کہ جس سے یہ X-Chatبھی بیکار ہو جائے گی اس پر بات کرتے ہیں ۔ چند سا ل بعد یہ موبائلز اور سوشل میڈیا کی شاید تمام ایپس ہی بیکار ہوجائیں اس لئے کہ منصوبہ یہ ہے کہ انسانی دماغ میں ایک چپ لگا دی جائے گی اور اس کی ایک شناخت ہو گی جو چپ لگانے والے کی مرضی کے مطابق ہو گی اور سمجھ لیں کہ آپ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن اس چپ کے ذریعے دماغی رابطے سے بات بھی ہو رہی ہے یعنی یہ جدید قسم کی ٹیلی پیتھی ہو گی لیکن یہ ابھی دور کی بات ہے لیکن اتنی دور بھی نہیں ہے بس چند سال کی بات ہے ۔
لیکن اب X-Chatکی صورت میں ایلون مسک نے جو نئی ٹیکنالوجی معتارف کرا دی ہے اس میں کوئی نمبر نہیں ہو گا بلکہ صارف کی مرضی کی ایک شناخت ہو گی ۔ اس میں آڈیو وڈیو کالز ، وڈیو چیٹنگ، فائل لوڈنگ ، ڈیجیٹل پیمنٹ ، آن لائن شاپنگ ، بزنس ٹورز حتیٰ کہ AIیعنی مصنوعی ذہانت کی معاونت بھی شامل ہو گی ۔ 2026ایکس چیٹ کو ایکس میں مکمل طور پر ضم کر دیا جائے گا اور کہا تو یہی جا رہا ہے کہ تمام موبائلز بیکار ہو جائیں گے ۔ موبائل فون سے یاد آیا کہ وطن عزیز میں حساس مذہبی ایام میں جیسے ربیع الاول اور محرم یا ویسے بھی اگر کہیں ضرورت ہو تو حکومت مخصوص علاقوں میں موبائل فون کے سگنلز جام کر دیتی ہے لیکن ایک سیٹلائٹ فون بھی ہے کہ جس کے سگنلز جگہ جگہ لگے ٹاورز کی بجائے خلا میں موجود سیٹلائٹ سے ملتے ہیں اور اسے آپ دور دراز علاقوں جیسے پہاڑ صحرا اور دیگر علاقوں میں بڑی آسانی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح سوشل میڈیا سے ہٹ موجودہ دور کی ایک انتہائی اہم ایجاد Artificial Intelligenceیعنی مصنوعی ذہانت نسل انسانی کے لئے انتہائی اہم لیکن انتہائی خطر ناک بھی ہے ۔ یہ ایجاد نسل انسانی کے لئے مفید اس لئے کہ اس میں دنیا بھر کے انسانوں کی سمجھ لیں کہ ذہانت کو سمو دیا گیا ہے اور انسان اس کی مدد سے مشکل ترین معاملات کو چٹکی بجاتے ہی منٹوں میں حل کرنے کے قابل ہو چکا ہے لیکن خطر ناک اس وجہ سے کہ یہ مصنوعی ذہانت از خود سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اگر مستقبل میں مصنوعی حامل کی مشینوں یا ربوٹس نے ہم انسانوں کے خلاف ہی اتحاد کر کے محاذ بنا لیا اور نیو کلیئر پاور سمیت تمام معاملات ان کے کنٹرول میں چلے گئے تو پھر اس کرہ ارض پر نسل انسانی کس طرح اپنا تحفظ کر پائے گی ۔ ہماری یہ بات بہت سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی اور وہ ہمارا تمسخر اڑائیں گے لیکن یہ ایجاد تو اب ہوئی ہے لیکن آج سے پچاس سال پہلے ایم اے راحت نے ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی قسط وار کہانی ” صدیوں کے بیٹے“ میں انتہائی درد ناک انداز میں بیان کر دی تھی ۔
بات X-Chatکی ہو رہی تھی تو ایک اور نہایت ہی اہم بات کہ اس میں ڈیٹا کو ڈی سینٹرلائز کو مضبوط کرنا بھی شامل ہے یعنی جس میں صارف کا ڈیٹا کسی ایک سرور پر نہیں رہے گا بلکہ وہ مختلف سرورز پر رکھا جائے گا ۔ بظاہر تو یہ کام صارف کے ڈیٹا کو ہیکرز سے بچانے کے لئے ہے لیکن اس میں حکومتوں کے لئے بھی ڈیٹا تک رسائی مشکل ہو جائے گی ۔ یہ تو ابھی ابتدا ہے اس ایپ کی آگے آگے دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے ۔ ڈیٹا تک مشکل ترین رسائی اور اسے محفوظ بنانا یقینا ایک احسن اقدام ہے لیکن اس کا ایک انتہائی خطر ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف جرائم پیشہ افراد اور خاص طور پر دہشت گردوں اور منی لانڈرنگ کے مرتکب افراد کے ڈیٹا تک تک رسائی بھی مشکل ہو جائے گی ۔ جب تک X-Chatکی انتظامیہ نہیں چاہے گی ۔