اپنی بقا کی جنگ میں نشان عبرت بننے والے اور مکمل طور پر شکست کھانے والے ملک یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ایک مختصر بیان نے یورپ ، امریکہ اور برطانیہ کی ایک بڑی انڈسٹری میں بھونچال کی سی کیفیت طاری کر دی ہے۔ زیلنسکی نے چار برس بعد کوئی ڈھنگ کی بات کی ہے لیکن ان کے اس بیان سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ انڈسٹری اسلحہ تیار کرتی ہے جن میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلاروس، ہنگری اور سپین کی کمپنیاں ہیں۔ یہاں جیٹ طیارے، ٹینک، اینٹی ٹینک ہتھیار، ائیرڈیفنس سسٹم ، راکٹ لانچر اور انتہائی بلندی تک دور مار فائر کرنے والی آرٹلری کی توپیں تیار کی جاتی ہیں جبکہ قریباً سو سے زیادہ اقسام کے راکٹ، گولیاں اور شیل اس کے علاوہ ہیں جو اسی لابی کے دیگر چھوٹے ملک تیار کرتے ہیں۔
زیلنسکی نے فقط اتنا کہا کہ وہ جنگ بند کرنے کے لئے نیٹو کا ممبر بننے کے معاملے سے پیچھے ہٹ رہا ہے لیکن اس کے عوض کچھ گارنٹیاں چاہتا ہے۔ بس اتنا کہنے سے آرمز انڈسٹری حالت سوگ میں چلی گئی۔ دنیا بھر میں اسلحہ تیار کرنے والے بڑے اداروں نے اپنی پروڈکشن قدرے کم کر دی ہے، خصوصاً اس اسلحے کی پیداوار کم کی گئی ہے جو روس، یوکرین جنگ میں کثرت سے استعمال ہو رہا تھا۔
جنگ بندی کا اشارہ ملنے اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اب یہ بات یقینی ہے کہ جنگ کے خاتمے کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے جبکہ جنگ خاتمے کے معاہدے کی دستاویزات پر زور و شور سے کام جاری ہے۔ جنگ خاتمے کا ڈرافٹ وہی ہے جو روس نے پیش کیا ہے۔ تمام تر امریکی اور یورپی کوششوں کے باوجود سب مل کر اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں کرا سکے۔
چشم تصور سے روس اور یوکرین میں جنگ بندی کے بعد امن قائم ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ امکان یہی ہے کہ اس تمام معاملے کو اپنے حتمی انجام تک پہنچنے میں مزید دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ روس کی طرف سے اس خواہش کا اظہار تو نہیں کیا گیا لیکن وہ چاہے گا کہ جنگ بندی کا اعلان اور اس حوالے سے معاہدہ فروری 2026ء میں ہو، روس کے نزدیک اس ماہ و سال کی بہت اہمیت ہے۔
24 فروری 2022ء کی صبح کی روشنی ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی کہ روسی ٹینک اور ان کے پیچھے روسی فوج کے دستے یوکرین کی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔ آنے والے برس کے ماہ فروری میں اس جنگ کو چار برس بیت جائیں گے، جب بھی دنیا کی حربی تاریخ لکھی جائے گی اس میں لکھا جائے گا کہ یہ جنگ چار برس جاری رہی، اسے منی ورلڈ وار بھی کہا جائے گا کیونکہ اس میں یوکرین کے پیچھے نیٹو ممالک کی فوجیں اور فوجی اور اقتصادی امداد بھی شامل تھی۔ چار سالہ اس جنگ میں در جن سے زیادہ ملک مل کر روس کو شکست دینے کا خواب پورا نہ کر سکے حالانکہ اس خوا ب کی تعبیر کو یقینی بنانے کے لئے ربع صدی قبل انہی ممالک نے مل کر پہلے روس کے ٹکڑے ٹکڑے کئے، اگلے مرحلے میں مکمل طور پر اس کے پر کاٹ کر اسے یوکرین اور یورپ کا دست نگر بنانا تھا لیکن ولادی میر پیوٹن نے ان سب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے روس کی تعمیرنو جس انداز اور جس تیزی سے کی وہ ان کا کمال ہے۔
ایک وقت تھا جب روس ٹکڑے ہوا تو روس میں ناشتے کے سامان کی راشن بندی ہو چکی تھی۔ایک ڈبل روٹی اور نصف درجن انڈے حاصل کرنے والوں کی قطاریں بندھی نظر آتی تھیں۔ آج وہی روس ہے جو دنیا کے دو درجن ممالک کے اسلحے کی حکمت عملی اور عزائم کو شکست دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ یوکرین کے تمام اتحادی بالخصوص امریکہ اور یورپ اپنی اس بہت بڑی ناکامی کو اب یوکرینی صدر زیلنسکی کے ذمے لگا کر خود سرخرو ہونا چاہتے ہیں لیکن روسی صدر بھی اس بات کا مکمل اہتمام کر چکے ہیں کہ شکست کی کالک ان ممالک کے منہ پر ملی جائے جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے خواہ مخواہ یہ جنگ شروع کرائی۔ عالمی خبر رساں ادارے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں اسلحہ تیار کرنے والے بڑے ملکوں کے نصف درجن سے زائد اداروں کے تازہ ترین سٹاک مارکیٹ جائزے کے مطابق ان کے حصص میں 0.2فیصد سے لے کر 2.6 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی صدر دنیا کو خبر دے چکے ہیں کہ اس جنگ کے دوران یوکرین میں بہت کرپشن ہوئی جس کے سبب وہ یوکرین کی مدد سے پیچھے ہٹ گئے ہیں لیکن ٹھیک چند روز بعد انہوں نے اس میں ایک اضافی وجہ بھی شامل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے دور ہونے کی وجہ یورپی ممالک ہیں جو اس جنگ میں اس انداز میں مدد نہیں کر رہے جیسے انہیں کرنا چاہئے تھی۔ اس حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ یورپی ممالک کو بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ یہ جنگ یورپ کی حفاظت کی جنگ کم اور امریکی مفادات کی جنگ زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی مرحلے پر اس سے ہاتھ کھینچ کر روس سے دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں، ان کے یہ خدشات درست تھے۔ امریکی دنیا بھر پر روس سے تجارت بند کرنے پر زور دیتا رہا لیکن زمانہ جنگ میں اس کی روس کے ساتھ تجارت میں بیس فیصد اضافہ ہوا۔
زیلنسکی اس بات پر تیار ہے کہ وہ روس کے زیر قبضہ اپنا بیس فیصد علاقہ واپس نہیں مانگے گا۔ وہ نیٹو میں بھی شامل نہیں ہو گا۔ کسی قسم کے جنگی جرائم کے معاملے پر احتساب کی بات نہیں کرے گا لیکن وہ چاہتا ہے اسے صرف اس بات کی گارنٹی دی جائے کہ یہ تمام شرائط ماننے کے بعد جنگ بند کرنے کے بعد روس اس پر ایک مرتبہ پھر چڑھائی نہیں کرے گا۔ زیلنسکی دودھ کا جلا ہے وہ ٹرمپ جھانسے میں آنے کے بعد محتاط ہو گیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ یوکرین کی حفاظت کا بل امریکی سینٹ میں پیش کر کے اسے قانونی حیثیت دی جائے تاکہ مستقبل میں اگر روس کوئی مہم جوئی کرے تو امریکہ اس کی حفاظت و امداد کا پابند ہو۔ زیلنسکی کو اس بات کا خطرہ سونے نہیں دیتا کہ ٹرمپ اپنے کئے گئے وعدوں سے کسی بھی وقت پھر سکتا ہے اور خاص طور پر اگر وہ اپنا اقتدار کھو بیٹھے تو نئی آنے والی حکومت اس کے صدر اور ان کی ٹیم یوکرین کے معاملے پر نئی پالیسی لا سکتے ہیں جس طرح جوبائیڈن حکومت کی پالیسیاں کچھ اور تھیں۔ ٹرمپ نے آتے ہی ان سے جان چھڑالی۔ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ان کے پیش رو ایک ناکام صدر تھے جبکہ انہیں دنیا کا سب سے بہتر علم ہے۔ آج تک اقتدار میں آنے والے ہر شخص کو یہی زعم ہوتا ہے پھر یہی زعم اسے دنیا میں رسوا کرتا ہے۔ کوئی عقل کل نہیں ہوتا۔