فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ کی مقبولیت اور کامیابیاں دیکھ کر تجزیے اور چہ میگوئیاں و افواہیں پھیلا دی گئیں کہ وہ صدر مملکت کا عہدہ لینے والے ہیں جس کو انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا۔ دراصل مذہبی ٹچ اور مذہبی شخصیت میں بہت فرق ہوا کرتا ہے۔ وطن عزیز شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس کے 25 کے 25 کروڑ عوام ہی سیاست کرتے ہیں۔ تجارت، صنعت، بیوروکریسی، عدلیہ، عام عوام جن میں تمام طبقات شامل ہیں مگر سیاست اور نظریہ سرے سے موجود نہیں۔ لبادہ فروشوں اور لبادہ پوشوں کا ملک بن کر رہ گیا۔ فیلڈ مارشل کی بھارت کے خلاف کامیابی کچھ لوگوں کو ڈراؤنا خواب لگی۔ یقین کر لیں کہ سید صاحب قوم کے صبر کا ثمر ثابت ہوئے۔ میرے ایک عزیز جناب راشد حسن، مجھے ایک دن کہنے لگے کہ آصف بھائی اگر میں آپ کو جانتا نہ ہوتا تو میں سمجھتا آپ اسٹیبلشمنٹ کے ’’پیڈ‘‘ ہیں۔ میں نے کہا کہ بھائی جان آپ تاریخیں دیکھ لیں اور میرے کالم ولاگز دیکھ لیں، جب عمران نیازی جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کا سورج سوا نیزے پر تھا میرے کالم پڑھ لیں ولاگز دیکھ لیں مجھے معروف شاعرہ محترمہ ناز بٹ صاحبہ نے مشورہ دیا کہ آپ اتنا سچ نہ لکھا کریں یہ لوگ آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ کیا کسی نے کمال کہا تھا جو مجھے میرے بڑے بھائی جناب گلزار احمد بٹ صاحب (سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل) حال کوآرڈینیٹر وفاقی محتسب اعلیٰ نے شیر سنایا۔ جوش ملیح آبادی کا شعر ہے:
تو آتش دوزخ سے ڈراتا ہے انہیں
جو آگ کو ہی پی جاتے ہیں پانی کر کے
لہٰذا جب آئین کے خلاف جج بھی ہو گا تو میری آواز اور قلم عوام کی آواز بن جائے گی، ورنہ لکھنا بولنا گناہ ہو گا۔
ایم آر ڈی کے دنوں میں جب میں ایم آر ڈی کا کنوینر گوجرانوالہ تھا جناب پرویز صالح مرکزی کنوینر تھے۔ ضیا حکومت کے خلاف جمہوریت کے حق میں جلوس بھی ہوتے اور رضاکارانہ گرفتاریاں بھی۔ ایک دن سیالکوٹی دروازہ سے ایک نوجوان پگڑی باندھے شمع پکڑے گرفتاری دینے آیا۔ جونہی وہ شمع پکڑے نمودار ہوا تو اس کو پولیس نے تو صرف گرفتار کرنا چاہا مگر اس کو تھپڑوں، مکوں، ٹھڈوں سے ضیا کے گماشتوں نے مارنا شروع کر دیا میں ان سب کا واقف تھا فوراً بھاگ کر گیا اور ایک سے مخاطب ہوا کہ پہلوان عقل کریں۔ وہ مسکرایا اور کہا کہ بس لیڈروں نے ڈیوٹی لگائی تھی۔ تب جناب بھٹو مخالف عناصر کے پاس بھٹو کی مخالفت کے علاوہ بیچنے کو کچھ نہ تھا۔ بھٹو کو بُرا کہہ کہہ کر لوگ بڑے بنتے گئے جیسے عمران خان کبھی نواز شریف، زرداری اور اب فیلڈ مارشل کے خلاف باتیں کر کر کے اپنے شخصیت کو مذہبی ٹچ کے بعد سیاسی ٹچ دے رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا پالا ہوا انہی پہ تنقید اور انہی سے خیر مانگتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو زرداری صاحب نے بی بی شہید کے بعد جوڑے رکھا مگر ان کی مصالحت نے پی پی کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ پنجاب میں جہانگیر بدر (مرحوم) بھی پیپلز پارٹی کو برباد کرنے میں ذمہ دار ہیں ان کے بعد ان کے بیٹے نے یہ ذمہ اٹھایا بلکہ پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت نے سوائے حسن مرتضیٰ کے سب نے یہ بیڑا اٹھایا۔ مگر یہ سیاست کا بازار ہے جناب بھٹو کی مخالفت جن لوگوں کی سیاست میں پہچان تھی ان لوگوں کی اولاد کو بلاول بھٹو کی قیادت میں بیرون ملک پاکستان کا موقف پیش کرتے دیکھا گیا۔ فوج کے ادارے کا اپنا نظام ہے، اعزازات نوازنے کا ایک مربوط نظام موجود ہے مگر سول ایوارڈ یا سویلین کو ایوارڈ کا نظام اقتدار کے سنگھاسن کی قربت کے سوا کچھ نہیں۔ کچھ شخصیات اعزاز کی عزت میں اضافہ کرتی ہیں جیسے جناب بھٹو کی شہادت کے بعد، لوگ کہتے ہیں بھٹو مر کر بھی زندہ ہے اور ضیا درگور ہو چکا۔ جناب بھٹو کو 47 سال بعد نشان پاکستان ملنا، اعزاز کی عزت میں بھی اضافہ کر گیا۔ مگر بعض شخصیات کو اعزاز دیا جانا اعزازات کی توہین تھی اور تو اور بلاول بھٹو بھی نہ کہہ سکے اگر جمہوریت کے مستقل دشمنوں اور ان کی اولادوں کو بھی وہی ایوارڈ ملے جو مجھے ملا تو معذرت۔ حالانکہ وہ بیرون ملک پاکستان کی خدمت اور سندھ میں اپنے انقلابی اقدامات کی وجہ سے اس سے زیادہ کے مستحق ہیں مگر پھر جس طرح لوگوں کو ایوارڈ دئیے گئے مجھے نامعلوم مولانا یاد آ گئے۔
آصف علی بیرسٹر، مولانا محمد علی اور شوکت علی، مولانا احمد سعید ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، عارف بسوی، ملا واحدی، حضرت جالب، علامہ راشد الخیری، مرزا فرحت اللہ بیگ، مفتی کفایت اللہ اور پروفیسر مرزا محمد سعید آئی ای ایس جیسے معروف حضرات جن میں صرف محمد علی، شوکت علی رامپور کے تھے باقی سب سات پشتوں سے دلی کے رہنے بسنے والے تھے۔ اس محلے کے غیر معروف لوگوں میں ایک تو کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب تھے جو بچوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔ لارڈ کرزن جب ہندوستان کے وائسرائے بن کر آئے۔ تو انہوں نے یہ آزمانے کے لیے کہ دلی میں عربی دان کیسے کیسے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر کے کامریڈ پریس میں اپنے سیکرٹری کے ہاتھ ایک عربی ناول کا بے نقط اور بغیر اعراب کا قلمی نسخہ بھجوایا کہ اس پر نقطے اور اعراب لگوا دیئے جائیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہ قلمی نسخہ مفتی کفایت اللہ کو یہ کہہ کر بھجوایا کہ یہ آپ کے امتحان کا پرچہ ہے اور وائسرائے ہند کی طرف سے آیا ہے۔ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ کوئی مذہبی کتاب ہوتی تو میں اس پر نقطے اور اعراب لگا دیتا۔ میں ناولوں کا آدمی نہیں ہوں۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر نے یہ ناول کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب کو دیا جنہوں نے رات بھر میں ناول پر نقطے بھی لگا دیئے اور اعراب بھی۔ اس کارنامے پر، وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے ان کیکر والی مسجد کے غیر معروف مولوی صاحب کو شمس العلما کے خطاب سے نوازنا چاہا تو ان مولوی صاحب نے یہ کہہ کر خطاب لینے سے انکار کر دیا کہ سخن فہمی عالم بالا معلوم شد۔علامہ شبلی نعمانی کو بھی وہی خطاب اور ہمیں بھی وہی خطاب۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔کیا آج کوئی کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب جیسا ایک بھی نہیں ہے۔ بیوروکریسی جس طرح فرعونوں سے بھری پڑی ہے ایسے میں ضروری ہو چکا کہ ستارہ فرعون کا بھی اعلان کر دیا جائے۔