گزشتہ ڈیرھ ماہ سے پاؤں پر فریکچر ہونے کی وجہ سے کہیں بھی جانے کے قابل نہ رہا۔ اخبارات کی فائلز، پرانے اخبارات، پرانی ڈائریاں، مختلف اوقات میں لکھی گئی تحریروں کی جانچ پڑتال اور گھر کے در و دیوار کی یکسانیت نے مجھے ماحول کا حصہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ میری بیزار طبیعت کبھی ایک منظر پر نہیں ٹھہرتی سو ان حالات میں زندگی گزارنا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ 14 اگست کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں استحکام ِ پاکستان پارٹی کے دوستوں نے 14 اگست کو مدعو کیا لیکن میں نے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے معذرت کی لیکن شاید ہم پاکستان کے کام سے چاہیں بھی تو بھاگ نہیں سکتے۔ ملی ادبی پنچایت کے بانی چیئرمین ریاض احمد احسان کی کال آئی کہ ماموں کانجن تحصیل بنائو تحریک کے زیر اہتمام جشن ِآزادی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ریاض احمد احسان سے محبتوں کے بہت سے رشتے ہیں لیکن وہ جانتے تھے کہ میں تکلیف میں ہوں اور کہیں بھی جانے سے قاصر ہوں سو جب میں نے انکار کیا تو ریاض نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا اور یوں میں ماموں کانجن جانے سے بچ گیا۔ ماموں کانجن تحصیل بنائو کے کرتا دھرتا عثمان کاہلوں اور رضوان کاہلوں سے میرا بھائیوں جیسا تعلق ہے اور اس تعلق کی بنیاد بھی ریاض احمد احسان ہی ہے۔ عثمان کاہلوں ماموں کانجن تحصیل بناؤ تحریک کے صدر ہیں جبکہ رضوان کاہلوں پنجاب ریٹیلرز پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر۔برادرم رضوان کاہلوں کی کال آئی اور مامون کانجن مشاعرے میں شرکت بارے استفسار کیا۔ میں ابھی پاؤں کا عذر پیش کرنا چاہتا تھا تو انہوں نے انتہائی محبت سے کہا: ’’خواجہ صاحب آپ نے لازمی ماموں کانجن مشاعرے میں شرکت کرنی ہے۔‘‘ اب رضوان کاہلوں کو انکار کرنے کیلئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے کہ ایسی نفاست اور رکھ رکھاؤ اللہ نے دنیا میں ہر انسان کو عطا نہیں کر رکھا۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا: ’’اچھا دیکھتے ہیں۔‘‘ رضوان کاہلوں نے فوری کہا: ’’ہم 14 اگست کو صبح دس بجے آپ کو گھر سے لے لیں گے۔‘‘ اور میں سوچتا ہی رہ گیا۔ وعدے کے مطابق ریاض احمد احسان اور رضوان کاہلوں تشریف لے آئے اور یہ کارواں روانہ ہوا تو معلوم ہوا کہ اکرام عارفی جو ہمارے عہد کے نامور غزل گو شاعر اور خوبصورت انسان ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ وہی اکرام عارفی ہیں جن کے بارے میں استاد تجمل کلیم مرحوم کا کہنا تھا کہ میرے بعد اکرام عارفی میری غزل کی روایت کو زندہ رکھے گا۔ اکرام عارفی مکالمے کا انسان ہے اور بہت زیادہ خوبصورت گفتگو کرتا ہے۔ اکرام عارفی سے محبت کا گہرا تعلق ہے اور اُسے مل کر ایک انجانی سے خوشی ہوتی ہے۔ خوبصورت موٹر وے اکرام عارفی، ریاض احمد احسان اور رضوان کاہلوں کی ہم رکابی نے سفر کو مزید خوبصورت بنا دیا۔ اکرام عارفی کے ساتھ کلاسیکل شاعری اور موسیقی سے لے کر موجودہ سیاسی حالات، موجودہ شاعروں اور ادیب سے لے کر سیاستدانوں کے کارنامے اور اشعار کی ساخت سے لے کر پاکستان کے مستقبل پر موضوع کو اپنے لیے موزوں کیا۔ اس دوران ریاض احمد احسان اور برادرم رضوان کاہلوں خاموشی سے اس گفتگو سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ماموں کانجن جسے میں بچپن میں ’’ماموں کا جن‘‘ پڑھتا تھا وہاں پہنچے تو برادرم عثمان کاہلوں نے محبت سے خوش آمدید کہا۔ معززین ماموں کانجن کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی جو ہماری آمد پر بہت خوش تھے۔ حال احوال کے بعد دوستوں نے فریکچر کے ساتھ وہاں پہنچنے پر میرا شکریہ ادا کیا۔ ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں نے وہاں موجود دوستوں سے 14 اگست کے احتجاج کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کیا لاہور سے لے کر یہاں تک آپ کو کوئی احتجاج نظر آیا ہے؟ یقینا یہ دلچسپ جواب تھا۔ ہر جگہ لوگ جشنِ آزادی مناتے یا سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کرتے ہی دکھائی دئیے۔ البتہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر سیلاب کے حوالے سے پوسٹیں نظر نہیں آئیں۔ یقینا سیلاب گزرنے کے بعد انہیں سوچنا چاہیے کہ گزشتہ تیرہ سال کی حکومت نے انہیں نفرت کے سوا کیا دیا؟ کاہلوں برادران نے ایک وسیع و عریض دستر خوان سجا رکھا تھا جس پر اللہ رب العزت کی لاتعداد نعمتیں اپنے مہمانوں کی منتظر تھیں۔
شام ڈھلتے ہی ’’ڈیرہ کاہلوں‘‘ کا خوبصورت پارک جو جشن آزادی کی فلیکس اور پوسٹروں سے سجاہوا تھا، خوبصورت انداز میں سٹیج اور کرسیاں لگائی گئی تھیں، ڈیرہ اور اِس کے گرد و نواح کی دیواروں کو سبز اور سفید لائٹوں سے سجایا گیا تھا۔ محبت اور بھائی چارے کی ایسی فضا لاہور سے دور بہت عرصہ بعد دیکھنے کو ملی۔ ماموں کانجن تحصیل بنائو تحریک کے ساتھی ایک بڑی تعداد میں وہاں جمع تھے۔ مشاعرے کا آغاز کلام باری تعالیٰ سے کیا گیا اور نعت رسول مقبولؐ کے بعد شعراء اپنی نشستوں پر تشریف فرما ہو گئے۔ یہ خوبصورت مشاعرہ سید عدیل حیدر شاہ صابری کی صدارت اور مہمان گرامی جناب ریاض احمد احسان، جناب اکرام عارفی، جناب اسد خان، جناب ندیم اکمل کے علاوہ مقامی شعراء کی بڑی تعداد نے مجھے حیران کر دیا۔ طاہر محمود طاہر، عبد الستار قمر، احمد ذیشان کے علاوہ ماموں کانجن میں موجود دو پریس کلبز کے صدور اور دوسرے عہدیدار بھی تشریف فرما تھے۔ سرفروشوں کی اس سرزمین کے جوان ٹیلنٹ کی تعریف نہ زیادتی ہو گی کہ جہا ں تربیت گاہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ایسا ایسا خوبصورت شعر سننے میں آیا کہ الامان۔ ریاض احمد احسان اور استاد اکرام عارفی نے سامعین کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ میں محفل میں جس طرف دیکھتا تھا پاکستان کی محبت اور اس مٹی سے عشق اُمڈتا چلا آتا تھا۔ تحریک انصاف کے دوست بھی اس پروگرام میں موجود تھے گویا انہوں نے بھی یوم پاکستان کے موقع کو یوم سیاہ بنانے پر احتجاج کیا ہو۔ میزبانوں نے اس پروگرام میں ہر وہ شے مہیا کی جس کی شریف شعراء کو ضرورت تھی۔ پروگرام کے وسط میں ٹھنڈی ہوائیںچلنا شروع ہو گئیں جیسے قدرت بھی اس جشن میں شام تھی۔ برادرم اکرام عارفی کی وہاں بہت فیلو شپ تھی اور پھر عارفی میدان کا شاعر ہے اور خوب کہتا ہے۔ یہ ماموں کانجن کے شہر میں ہونے والا پہلا مشاعرہ تھا لیکن امید ہے کہ اب یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ برادرم عثمان کاہلوں، رضوان کاہلوں اور اسد کاہلوں نے شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں کھانے کی دعوت دی۔ مشاعرے نے جشن آزادی کو چار چاند لگا دیئے۔ رات گئے واپس آتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر اس پروگرام میں نہ آتا تو بہت زیادتی ہو جاتی۔