14 اگست ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان کا قیام ایک طویل جدوجہد، بے پناہ قربانیوں اور مسلمانوں کے عزم و استقلال کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت، ثقافت اوراسلامی شعار کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد کا عظیم ثمرہے۔ اس دن کو منانا محض ایک رسم نہیں، بلکہ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ 14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے ظلم و بربریت کا سامنا کیا۔ انہوں نے اپنے گھر، کاروبار، زمینیں اور مال و دولت چھوڑ دئیے۔ بہت سے لوگ اپنی عزتوں سے محروم ہوئے، جانوں کی قربانیاں دیں۔ یہ سب کچھ ہمارے بزرگوں نے صرف آزادی کے لیے برداشت کیا۔ ان کی یہ ناقابلِ فراموش قربانیاں ہماری آزادی کی وہ قیمت ہیں جنہیں ہمیں دلوں میں زندہ رکھنے اور نسل در نسل یاد دلانے کی ضرورت ہے۔
آج بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی بے بسی کو دیکھیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ ہم کسی ہندو قوم کے زیرِ اثر زندگی نہیں گزار رہے۔ آزادی ایک نعمت ہے، جس کی قدر صرف وہی قومیں جان سکتی ہیں جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہوں۔ آج کشمیریوں اور فلسطینیوں سے پوچھیں آزادی کی کیا قیمت ہے اور یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ چودہ اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں۔ ہمارے دلوں میں نسل، زبان یا صوبے کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ دن تمام پاکستانیوں کو ایک پرچم کے سائے تلے متحد کرتا ہے اور ہمیں بھائی چارے، رواداری اور قومی یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔
یہ دن ہمیں قومی وحدت کا درس دیتا ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی۔ ہمیں چاہیے کہ مذہب، زبان اور صوبائی تعصبات کو ختم کر کے ایک متحد قوم بنیں، تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ پاکستان میں ایک زندہ، باشعور اور باہمی محبت سے سرشار قوم آباد ہے۔14اگست پر لوگ قومی لباس پہنتے ہیں گھروں اور عمارتوں کو پاکستانی پرچموں سے سجاتے ہیں۔ ملی نغمے گاتے ہیں یہ سب کچھ ثقافت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔14 اگست منانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے جو آزادی کی قدر کرتی ہے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ عالمی سطح پر 14 اگست کا دن پاکستان کی شناخت اور خودمختاری کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔
یہ دن سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریبات کے ذریعے نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے14اگست کا دن بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؒ اور دیگر محسنینِ پاکستان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ ان عظیم شخصیات کی جدوجہد، تعلیمات اور فرمودات سے ہمیں اپنے دلِ و دماغ کو روشن رکھنا چاہیے۔ 14 اگست سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ آزادی کے بعد ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا۔ آئیے اس عزم کو دہرائیں کہ ہم سچ بولیں گے، علم حاصل کریں گے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹیں گے، امانت و دیانت جیسے عظیم اصولوں کو اپنائیں گے، اور قائدِ اعظم کا فرمان 'کام، کام، اور صرف کام کو اپنا شعار بنائیں گے۔
پاکستان کا نوجوان موجودہ حالات سے بظاہر نا خوش ہے، مگر اس کے باوجود وہ جوش و جذبے کے ساتھ یومِ آزادی مناتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آج بھی خواب روشن ہیں … یہ امید کہ اگر آج نہیں تو کل ضرور پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے۔ وہ اُن لاکھوں شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے جنہوں نے آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ وہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اور ہر لمحہ اپنے وطن سے وفاداری کا اظہار کرتا ہے۔ نوجوان اگرچہ نظام سے نالاں ہے، مگر پاکستانی ہونے پر اُسے فخر ہے۔ یہ کہنا بجا ہے کہ 14 اگست ایک ایسا دن ہے جب ہم سب … کم از کم ایک دن کے لیے … متحد ہوتے ہیں، اور اپنی قومی شناخت پر ناز کرتے ہیں۔ آج کا نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان چھوڑنے کا خواہش مند ہے۔ یہ سوچ ہمارے حالات کی تلخ سچائی کو بے نقاب کرتی ہے … تعلیم، روزگار، انصاف اور مواقع کی کمی نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے کے خواب دکھاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم لاکھوں پاکستانی شہریوں میں محنت کش، مزدور، اور دیگر ہنر مند افراد کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، انجینئرز، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور بزنس مینجمنٹ کے افراد بھی شامل ہیں۔ یہ سب ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی بھیجی گئی رقوم نہ صرف ان کے خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ ملکی معیشت، نظامِ بینکاری اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی سہارا فراہم کرتی ہیں۔ یہ پاکستانی محنت کش بیرونِ ملک سخت محنت کر کے جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں، اس سے پاکستان میں ڈالر آتے ہیں، جو درآمدات کی ادائیگی، قرضوں کی واپسی اور روپے کی قدر میں بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یوں بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی خاموشی سے ایک محبِ وطن اور مجاہد کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج 14 اگست کے دن ہمیں ان کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ہم ان کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جو اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں سے دور رہ کر بھی دل سے پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔وہ بیرونِ ملک رہ کر بھی ریلیاں نکالتے ہیں سیمینار میں شرکت کرتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔
10مئی 2025 ء کو پاکستانی افواج نے ہندوستان پر مکمل برتری اور شاندار فتح حاصل کی۔ یہ اس فتح کا ثمر ہے کہ دنیا پاکستانی افواج کی صلاحیتوں کی معترف ہو گئی ہے، بالخصوص پاک فضائیہ نے دنیا بھر میں اپنی دھاک جما دی ہے۔۔ اس کامیابی کے بعد اس سال یومِ آزادی کو یومِ آزادی پلس کے طور پر بھی منایا جانا چاہیے۔ یومِ آزادی پلس کا مطلب ہے ہمارے فوجی سپہ سالار کی عزت میں اضافہ، دفاعی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان کی شہرت میں اضافہ، خود اعتمادی میں اضافہ، دفاعی سازو سامان اور خدمات کی برآمد میں اضافہ، پاکستان ایئر فورس نے فضائی جھڑپ میں جس غیر معمولی مہارت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، اور دشمن کے رافیل طیاروں کو مار گرایا، اس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی لیے اس سال یومِ آزادی پلس کو قومی وحدت، خودمختاری، خوداعتمادی اور دفاعی حصار کی علامت کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو سنجیدگی اور جوش و جذبے کے ساتھ منائیں، اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کریں اور یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایک عظیم ریاست بنانے کے لیے پوری ایمانداری اور جذبے سے کام کریں گے۔اس دن ہمیں اپنے شہداء کو سلام پیش کرنا چاہیے اور یہ وعدہ کرنا چاہیے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک خوشحال، مضبوط اسلامی اور فلاحی ریاست بنائیں گے۔
مجھے کہنے دیجئے کہ اس سال یومِ آزادی کو قوم یومِ آزادی پلس کے نام سے منائے گی، ان شاء اللہ۔ پاکستان زندہ باد