Wed, September 16, 2026

اسلام آباد سکیورٹی کا حصار: ایران امریکہ مذاکرات کیلئے ’فول پروف‘ سکیورٹی پلان نافذ، 18 ہزار اہلکار طلب

اسلام آباد سکیورٹی کا حصار: ایران امریکہ مذاکرات کیلئے ’فول پروف‘ سکیورٹی پلان نافذ، 18 ہزار اہلکار طلب

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت کو ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ہائی الرٹ زون قرار دے دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت شہر کو پولیس، فوج اور رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ حساس مقامات کی نگرانی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور سنائیپرز کی مدد لی جا رہی ہے۔
سکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار نفری تعینات کی جائے گی، جس میں پنجاب پولیس کے 7 ہزار جوان، پاک رینجرز، ایف سی اور اسلام آباد پولیس شامل ہیں۔ پاک فوج کے دستے شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کے ہمراہ مشترکہ ناکے لگائیں گے۔
ایئرپورٹ سے لے کر سرینا ہوٹل تک تمام روٹ کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور بلند عمارتوں پر رینجرز کے سنائیپرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام افسران کو اینٹی رائٹ کٹس کے استعمال کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے لیے موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ روٹ کے دوران کسی بھی اہلکار کو بغیر سروس کارڈ داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پنجاب پولیس کو بہتر کوآرڈینیشن کے لیے خصوصی وائرلیس سیٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جس کے گرد سکیورٹی کے لیے 24 خصوصی مشترکہ پکٹس قائم کی گئی ہیں۔اسپیشل برانچ کی رپورٹ پر روٹ کی سڑکوں کی مرمت اور صفائی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک پولیس متبادل راستوں پر رہنمائی کے لیے موجود رہے گی۔

ٹیگز: