پاکستان کو صرف ایک جغرافیائی ریاست کے طور پر دیکھنا اس کے کردار کے ساتھ ناانصافی ہو گی کیونکہ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے میں نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے بھی ایک مستقل اور سنجیدہ کردار ادا کیا۔ ایک ایسا ملک جس نے دہائیوں تک دہشت گردی کی آگ اپنے اندر سمیٹی، اپنے شہریوں کی لاشیں اٹھائیں، اپنی معیشت کو زخموں سے بھرا دیکھا مگر اس کے باوجود اس نے کبھی جنگ کو اپنی پالیسی نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ یہ حقیقت آج دنیا کے سامنے مزید واضح ہو رہی ہے کہ پاکستان محض آج نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایک امن پسند ریاست رہا ہے مگر اس کے جغرافیے نے اسے ایسے ہمسایوں کے درمیان لا کھڑا کیا جو اسے سکون سے جینے دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ میں نے اپنے ابتدائی کالموں میں بار ہا یہ لکھا ہے کہ پاکستان کے لیے امن اور ایک مضبوط دفاعی نظام کی حیثیت ناگزیر ہے جس کی وجہ اس کے ہمسایہ ہیں۔چار دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دیں وہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسی ہزار سے زائد پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار اس جنگ میں شہید ہوئے، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان الگ ہے جبکہ انفرااسٹرکچر کی تباہی کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرزمین خاص طور پر اس آگ میں جلتی رہی جہاں سرحد پار سے دراندازی، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور بیرونی سرپرستی مسلسل چیلنج بنی رہیں۔ برادر اسلامی ملک افغانستان کی زمین بدقسمتی سے کئی برسوں تک پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی اور آج بھی کھل کھلا کر استعمال ہو رہی ہے جس کے خلاف پاکستان کی دفاعی کاروائیاں جاری ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی آمد و رفت، سرحدی خلاف ورزیاں اور پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی ایک تلخ حقیقت رہی جسے پاکستان نے صبر اور تحمل کے ساتھ برداشت کیا۔
دوسری جانب مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت، لائن آف کنٹرول پر سیز
فائر کی خلاف ورزیاں اور نام نہاد "سرجیکل اسٹرائکس" کے دعوے ایک مستقل دباو¿ کا باعث بنتے رہے۔ 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں بھارتی فضائی دراندازی کے جواب میں پاکستان نے جس تحمل اور حکمت کے ساتھ ردعمل دیا، وہ اس کی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس کے امن پسند مزاج کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی طیارہ مار گرایا بلکہ گرفتار پائلٹ کو واپس کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ جنگ نہیں امن چاہتا ہے۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کی غلطی بارہا کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی پالیسی میں ایک واضح توازن پیدا کیا ہے جہاں امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ اپنی خودمختاری اور بقا کا دفاع بھی پوری قوت سے کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت کا بھرپور جواب ہو یا افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دراندازی کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اس تمام صورتحال میں پاکستان کی عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج سمیت سیاسی قیادت نے نہ صرف اندرونی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے بلکہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں بھی ایک واضح اور مضبوط مو¿قف اختیار کیا۔ ان کی بصیرت نے یہ باور کرایا کہ امن کی خواہش اور طاقت کا استعمال ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں مضبوط ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن کے داعی ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔
موجودہ حکومت نے بھی اس بیانیے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے نہایت متوازن اور دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی ہے خصوصاً خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستان کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض اپنے مفادات تک محدود نہیں بلکہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی امن پسندی کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ اس کی ریاستی پالیسی کا مستقل حصہ ہے۔ اس نے کبھی پہل کر کے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنی بقا اور دفاع کے لیے ردعمل دیا ہے۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے ہونے والی جارحیت، سرحدی دراندازی اور دہشت گردی کے باوجود پاکستان نے صبر، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا مگر اب یہ پیغام بھی واضح ہے کہ اگر اس کے امن کو چیلنج کیا گیا تو جواب بھی بھرپور اور مو¿ثر ہو گا۔آج کا پاکستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک ایسا ملک جو زخموں سے گزر کر مزید مضبوط ہوا، جو جنگ کی ہولناکیوں کو بھگت کر امن کی قدر کو سمجھتا ہے اور جو اپنے خطے میں استحکام اور ہم آہنگی کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا اب دنیا کے لیے بھی ناگزیر ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان واقعی امن کا سفیر ہے مگر ایسا سفیر جو اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہی وہ توازن ہے جو پاکستان کو دیگر ریاستوں سے ممتاز بناتا ہے جہاں طاقت کا اظہار محض غلبے کے لیے نہیں بلکہ امن کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج عالمی برادری بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان خطے میں محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک ذمہ دار قوت ہے جو کشیدگی کو کم کرنے، تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور ایک مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ پاکستان کی یہ پالیسی نہ صرف اس کے اپنے عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ آنے والے وقتوں میں اگر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کوئی صورت نکلتی ہے تو اس میں پاکستان کا کردار مرکزی ہو گا کیونکہ یہ وہ ریاست ہے جس نے جنگ کی قیمت بھی چکائی ہے اور امن کی قدر بھی پہچانی ہے۔