روم: ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کے سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ دونوں ممالک آج روم میں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران مشروط طور پر مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو غیر حقیقی اور یکطرفہ مطالبات سے اجتناب کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
عباس عراقچی نے عمان مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کے بعد ایران کو امریکی رویے میں سنجیدگی دکھائی دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو حملے کی دھمکی دی گئی تھی، جس نے کشیدگی میں اضافہ کیا تھا۔
عالمی مبصرین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا یہ مذاکرات کسی نتیجہ خیز معاہدے کی طرف بڑھ سکیں گے یا نہیں۔