Wed, September 16, 2026

افغانستان میں 60 سے زائد دہشتگرد کیمپ موجود، طالبان اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

افغانستان میں 60 سے زائد دہشتگرد کیمپ موجود، طالبان اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مؤقف

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان سے دہشتگردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کے 60 سے زیادہ کیمپ سرگرم ہیں، اور یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ان دہشتگرد عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ عاصم افتخار نے مزید کہا کہ دنیا کو ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستانی مندوب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان اور چین نے اقوام متحدہ میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ پر عالمی پابندیاں لگانے کی درخواست دی ہے، کیونکہ یہ گروہ بھی دہشتگردی میں ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی کئی بار طالبان حکومت کو متنبہ کر چکا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ حالیہ بیانات میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واضح کیا کہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا دہشتگردوں کے ساتھ۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دہشتگردی کے کئی واقعات میں افغان باشندے ملوث پائے گئے ہیں جو سرحد پار سے آ کر کارروائیاں کرتے ہیں، اور یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ٹیگز: