ایبٹ آباد چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد حملے کرنے والی پراکسی تنظیموں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان دشمن عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا، اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
پی ایم اے کاکول میں 152 ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ قوم کی حمایت سے اندرونی و بیرونی خطرات کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں جنگ ممکن نہیں۔ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو دشمن کو اس کی توقع سے کہیں زیادہ نقصان پہنچے گا۔ بھارت کی طرف سے ریاستی دہشت گردی، الزام تراشی اور خودساختہ شواہد پیش کرنے کی کوششیں بے نقاب ہو چکی ہیں۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان سرزمین کا استعمال تشویشناک ہے۔ افغان حکومت کو ان عناصر پر کنٹرول کرنا ہوگا جو پاکستان میں خونریزی کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اور فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پر فخر ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات کو مزید فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو بھی خطے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
خطاب کے آخر میں انہوں نے نوجوان افسروں پر زور دیا کہ وہ افواج پاکستان کی اعلیٰ اقدار کو اپنائیں اور جعلی خبروں سے ہوشیار رہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پرچم ہمیشہ بلند رہے گا کیونکہ اس کے محافظ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔