بنوں / راولپنڈی : سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور انہیں ملنے والی بیرونی امداد کے حوالے سے لرزہ خیز حقائق بے نقاب کر دیے ہیں۔
گرفتار دہشت گرد عامر سہیل نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ افغان صوبے پکتیکا میں قائم دہشت گردوں کے مرکز میں مقیم رہا، جہاں اسے تخریب کاری کی تربیت دی گئی۔ بیان کے مطابق، افغانستان میں ان مراکز کی حفاظت اور نقل و حرکت میں افغان طالبان براہِ راست سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔دہشت گرد سرغنہ نے انکشاف کیا کہ فتنہ الخوارج کا اصل نیٹ ورک غیر ملکی ایجنسیوں کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' (RAW) فتنہ الخوارج کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بھاری فنڈز فراہم کرتی ہے۔
اس رقم کا بڑا حصہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے دہشت گردی کی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عامر سہیل بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد جان لیوا حملوں میں ملوث رہا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ میں پاکستان کے خلاف کیے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اس فتنے میں شامل ہوا، لیکن اب حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ ہم صرف غیر ملکی ایجنسیوں کے مہرے کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تازہ انکشافات نے عالمی سطح پر افغان طالبان کے ان وعدوں کی قلعی کھول دی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ اعترافی بیان پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردوں کو منظم طریقے سے پناہ اور فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔