Wed, September 16, 2026

برطانیہ نے اسائلم پالیسی میں تبدیلیاں کیں: سیاسی پناہ حاصل کرنے کے قواعد سخت کر دیے

برطانیہ نے اسائلم پالیسی میں تبدیلیاں کیں: سیاسی پناہ حاصل کرنے کے قواعد سخت کر دیے

لندن: برطانیہ نے اپنی اسائلم پالیسی میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جس کے تحت سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والوں کو مزید سخت شرائط کا سامنا ہوگا۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں اس حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب سیاسی پناہ کی مدت پانچ سال سے کم کر کے صرف 30 ماہ (ڈھائی سال) کر دی جائے گی۔ مزید یہ کہ مستقل رہائش کے لیے درکار وقت 5 سال کے بجائے 20 سال تک کر دیا جائے گا۔

نئے قوانین کے مطابق، پناہ حاصل کرنے والوں کو برطانیہ میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے گی، لیکن دو سال سے بھی کم عرصے بعد ان کی پناہ کی حیثیت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی شخص کے ملک کو محفوظ سمجھا گیا، تو انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

شبانہ محمود نے بتایا کہ پناہ گزینوں کو صرف ایک بار اپیل کرنے کا حق ملے گا، اور اگر اپیل مسترد ہو گئی تو انہیں فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ پناہ گزینوں کو خاندانی زندگی کا حق صرف ان صورتوں میں دیا جائے گا جب وہ اپنے قریبی عزیزوں کے ساتھ رہ رہے ہوں گے۔

اس کے علاوہ، پناہ گزینوں کے لیے ہاؤسنگ اور ہفتہ وار الاؤنس کی ضمانت بھی ختم کر دی گئی ہے، اور انہیں برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار برسوں میں برطانیہ میں تقریباً 4 لاکھ افراد نے پناہ کی درخواست دی، اور ان نئے قوانین کے تحت حکومت نے اس سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پناہ گزینوں کے بہاؤ کو قابو میں رکھا جا سکے اور ملک کی سکیورٹی اور وسائل کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔

ٹیگز: