Wed, September 16, 2026

ایک اور یومِ تکبیر!

ایک اور یومِ تکبیر!

 سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ نے من حیث القوم ہمیں ایک امتحان سے گزارا۔ اپنی نصرتِ خاص سے ہمیں نوازا۔ بھارت نے ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب آنکھوں میںسجا کر 7 مئی کی رات پاکستان کے چھ مقامات پر حملے کیے ۔ 33 شہری شہید اور 76 زخمی ہوئے۔’ آپریشن سیندور‘ کے عنوان سے تکبر میں بھر کر شروع کیا گیا یہ معرکہ بھارت کے لیے بحمد للہ ’آپریشن تندور‘ بن گیا! اللہ نے ہمیں زنگ اتارنے اور عسکری قوت آزمانے کا موقع عطا فرمایا۔ پے درپے تکبیروں کی گونج میں جو میزائل برسے، ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب کرچی کرچی ہو گیا۔ پاکھنڈ بھارت رہ گیا ! گریٹراسرائیل کے وزن ہی پر یہود و ہنود گٹھ جوڑ، رگ وپے میں بسی مسلم دشمنی اور ان کے مشترکہ خوابوں کا یہ نام ہے۔ ’اکھنڈ‘ سے مراد غیر منقسم ہے اور اس میں اس کے تئیں، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، میانمر، نیپال، پاکستان،سری لنکا، تبت پر قبضہ کرکے ’بھارت‘ کی تکمیل ہے! بنگلہ دیش کے قیام پر اندرا گاندھی نے فخریہ کہا تھا کہ آج ہم نے جناح کا دو قومی نظریہ خلیجِ بنگال میں غرق کر دیا۔ اللہ نے بنگلہ دیش کو نئی زندگی عطا کی، ایمان سے قوی اور بھرپور۔ پاکستان سے محبت اور یگانگت کے جذبات سے لبریز اور بھارت کی چالبازیوں پر آتش زیر پا! 
 7اکتوبر 2023 ء میں طوفان الاقصیٰ سے دنیا جس نئے دور میں داخل ہوئی یہ جنگ اسی کا تسلسل ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت اس جنگ کا ایک متفق و متحد فریق ہیں،مغربی ممالک کی قیادت بھی اس کا حصہ ہے۔ پاکستان پر حملہ ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔ پہلگام پر سازشی دہشت گردی کا واقعہ جس طرح بھارت نے برپا کیا وہ اظہر من الشمس ہے۔ امریکی نائب صدر، ہندو ونیس اپنے بیوی بچوں سمیت اس دوران اپنے سسرال (بھارت) بیٹھا رہا۔ اس کی بیوی اوشا( امریکی سیکنڈ لیڈی )۔ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے والدین کی بیٹی،امریکی وکیل ہے۔ میاں (ونیس)، بیوی بچے کٹر ہندو ہیں۔ (نجانے وینس کو مقدس ہندو مشروب گئو موترا، پلایا اور مقدس گئو گوبر چٹایا گیا یا نہیں! )
 پاکستان پر حملے کا بہانہ پہلگام تھا، جو وینس کے چار روزہ بھارتی دورے 21 تا 24 اپریل کے دوران 22 اپریل کو ہوا۔یکم مئی کو بھارتی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کو فون پر بتا دیا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردوں پر حملہ کریں گے۔ 7 مئی کو بھارتی حملے میں پہلی تصویر پر نگاہ پڑی تو ہم سمجھے غزہ کی تصویر ہے۔ شہید بچے کی تصویر تھی۔ دہشت گرد بچہ! جس سے بھارت لرز رہا تھا۔ یہ تھی آپریشن سیندور کی ابتدائ، ہندو عورت کی مانگ میں مسلم بچے کے لہو میں گندھے سیندور کی یہ چٹکی، بھارت کو اربوں ڈالر میں پڑی۔ 77 ڈرون، 6 ہوائی جہاز، روسی ساخت کا آئرن ڈوم، بھارت بھر میں عین کا میاب نشانے۔
پاکستان نے ابتداء ً تحمل کا مظاہرہ کیا جسے بھارت نے کمزوری جانا۔ پھر ہمارے میزائلوں کی بارش کیا برسی مایہ نازاربوں ڈالر کے را فیل جہازوں کاملبہ، حفاظتی بیش قیمت نظام S-400 کا بھوسہ بن گیا ،تین دن کے اندر بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ وینس نے پوری رات (شبِ غم )جاگ کر گزاری۔ وہی نائب صدر وینس جس نے پہلے بھارتی حملے کے بعد تجاہلِ عارفانہ سے فرمایا تھا۔ ’اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں!‘… None of our business مگر پاکستان کی غیر متوقع یلغار پر امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین (در پردہ اسرائیل بھی) لرز اٹھے۔ یکم مئی کو بھارتی وزیر خارجہ نے بڑے طمطراق سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اطلاع دی تھی کہ ہم پاکستان میں دہشت گردوں پر حملہ کریں گے۔ اس پر ٹرمپ، مار کو اور وینس سبھی کے رد عمل یکم تا 10 مئی پہلے ہلکے پھلکے بیانات اور بے نیازی پر مبنی رہے۔ جنگ شروع ہونے کے 3 دن (7 تا10مئی ) کے اندر فوری جنگ بندی کی ان میں تھرتھلی مچ گئی۔ منہ اندھیرے سیکرٹری سٹیٹ مار کو روبیو کا پاکستان کو فون آگیا۔ بڑے چوہدری ٹرمپ نے 10 مئی، پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے سہ پہر فوری جنگ بندی کروادی۔ پاکستان نے دنیا کو حیران اور تمام دشمنوں کو پریشان کر دیا۔ امت کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ غزہ کو اللہ تعالیٰ عافیت اور امن سے نوازے، ان کی ذی شان قربانیاں قبول فرمائے۔ ہماری فتح میں امت بھر کے مسلمانوں کی بے قرار دعائیں، بالخصوص اہل غزہ کی مقبول، مستجاب دعائیں بہت بڑا حصہ رکھتی ہیں۔
 یہ جنگ، ایک کروڑ جھوٹے خداؤں کے پوجنے والوں کے مقابل یکسوئی، عجز اور رجوع الی اللہ کے ساتھ پلٹ آنے والے ہم خطا کاروں، ایک اللہ کا دامن تھامنے والوں کے مابین تھی۔ اللہ نے بھر پور مدد نازل فرمائی۔ ہاتھ ہے اللہ کا بندئہ مومن کا ہاتھ! ’جب تم نے کنکریاں (میزائل) پھینکیں تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے غرض یہ تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے‘۔ (الانفال- 17) یہ جنگ ہمارا زنگ اتارنے، جنگی تیاری آزمانے کا ایک چھوٹا سا جھٹکا تھا۔ یاد رہے کہ پہلے اسلام آباد نے غیر معمولی شدید ژالہ باری، طوفان میں واضح ہلایا جانا دیکھا۔ پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے، کی کیفیت لیے! یہ ہمیں ہمارا بھولا ہوا فرض اور قرض چکانے کی یاد دہانی بھی تھی۔ ’تمھیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمھیں ناگوار ہے، ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘۔ (البقرہ -216)
 یہ جنگ تکمیل پاکستان، مقبوضہ کشمیر پر متوجہ ہونے کی جنگ تھی۔ 78 سال سے بھارتی جارحیت کا نشانہ ہماری ہی مظلوم آبادی جسے برطانیہ اور ہندو کی ملی بھگت (کل اور آج) نے عین فلسطین، اسرائیل قضیے کی طرح ہم سے چھینا۔ کشمیری مسلم اکثر یت، جو تقسیم ہند کے طے کردہ ضابطے کے مطابق پاکستان میں شامل ہوتی، اس پر بھارت کا قبضہ روا ٹھہرا۔ اقوام متحدہ نے پاکستان بھارت مابین اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے 1948 ء میں طے کر دیا تھا کہ بھارت ،پاکستان کی فوجیں ہٹ جائیں۔ اقوام متحدہ کے تحت رائے شماری کے ذریعے کشمیری اپنا مستقبل طے کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ۔ مگر فلسطین کے لیے امریکی ویٹو اور کشمیر کے لیے روسی ویٹو سدا مستعد رہا ہے! 
عین فلسطین کی کہانی یہاں بھی ہے۔ گزشتہ 30 سالوں ہی کے اعدادو شمار دیکھیں تو مسلط 7لاکھ بھارتی فوج نے ایک لاکھ کشمیری شہید کیے، قید و بند میں 7 ہزار سے زائد شہید ہوئے۔ بھارتی پولیس نے 10,125 جبری لاپتہ کیے۔ اجتماعی آبروریزیاں 10,283 ہوئیں۔ فائرنگ سے 188 نوجوان نابینا کر دیے۔ بیس ہزار بچے یتیم اور بیس ہزار عورتیں بیوہ ہوئیں۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری بلڈنگیں تباہ کیں۔ جس طرح اسرائیلی فوج IOF، (اسرائیلی قابض فوج) کہلاتی ہے۔ عین و ہی یہاں ’انڈین قابض فوج‘ ہے۔ کشمیری ،کشمیر میں ہوں یا بھارت میں، ہر جگہ ہندو توا غنڈوں اور بھارتی پولیس / فوج کے نشانے پر ہیں۔ اسرائیل سے شہ پا کر اب پاکستان کو خوراک اور پانی سے محرومی دینے کے لیے پہلے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ بھارت نے توڑا۔ اب امریکہ کی آنکھ کا تارہ بن کر چڑھائی کر دی مگر منہ کی کھائی۔ بیٹھا زخم سہلا رہا ہے۔ اس کے عزائم خدا نخواستہ غزہ کی طرح کشمیر کو روند کر قبضہ مکمل کرنے کے تھے (5 اگست 2019 ء میں آرٹیکل 370 اور دفعہ 35 ۔اے کی منسوخی سے پہلے ہی ان کی رہی سہی خود مختاری ختم کی جاچکی ہے۔)
 تکبیروں کے سائے میں، سجدہ ریزیوں کے ساتھ بنیان مرصوص کے مبارک نام کی برکت سے اللہ کی مدد پانے میں کامیاب ہوئے۔ اس جنگ میں دنیا بھر کے مسلمانوں، حتی کہ غیر مسلم عوام الناس کا جو رد عمل دیکھنے میں آیا، اس نے بھی ٹرمپ، اسرائیل و بھارت کے جنت نظیر کشمیر میں سیاحت کا (غزہ کی طرح) ایک اور مرکز پالینے کے خواب کو چکنا چور کیا۔ الحمد للہ ۔ہم فتح کے باوجود بھارتی جنگی عزائم سے غافل ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
تاہم ہمارا شکرانہ مساجد ہی میں یا گھروں میں سجدہ ریزیوں سے ہوتا۔ لاہور میں قومی خزانے کو آتش بازی میں پھونکنے کی بجائے مساکین کی ضروریات، خوراک، راشن کا سامان ہوتا۔ کیوں تبذیر کا ارتکاب کر کے قرآنی حکم (بنی اسرائیل 26،27) توڑتے ہیں۔ ’اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے سوت کا تا پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ‘(النحل - 92)
صفِ جنگاہ میں مردانِ خدا کی تکبیر
جوشِ کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز

ٹیگز: