Wed, September 16, 2026

دس مئی 2025، قومی یک جہتی کا نیا بیانیہ

دس مئی 2025، قومی یک جہتی کا نیا بیانیہ

بظاہر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا شور تھم چکا ہے، توپیں خاموش ہو چکی ہیں، دھواں بیٹھ گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف کے ایوانوں میں جو شکست کا ہنگامہ ہے، وہ اب بھی قائم ہے۔ شکست کو نہ بھارتی سیاستدان ہضم کر پا رہے ہیں نہ میڈیا اور نہ ہی عوام۔ بھارت میں پاکستان کا ساتھ دینے والے دوست ممالک چین ، ترکیہ اور آذربائیجان کے بائیکاٹ مہم شروع کی جا چکی ہے ، بھارت امریکہ سے اسلحہ خرید رہا ہے۔ یہ تو بھارت کے اندر کی کہانی ہے لیکن اگر اس جنگ کے خاتمے کو نئے خطوط پر دیکھیں تو شاید اب ایک اور جنگ شروع ہوئی ہے، اصل جنگ، وہ جنگ جس میں کسی دشمن کا چہرہ نہیں ہوتا، اب شروع ہوئی ہے اور یہ جنگ کسی سرحد پر نہیں لڑی جاتی یہ قوموں کے اندر لڑی جاتی ہے، ذہنوں میں، سوچوں میں اور ارادوں میں جو ترقی اور خوشحالی کی طرف راستے واضح کرتی ہے۔ بطورِ قوم ہم ایک عظیم مرحلے سے گزرے ہیں۔ ایک ایسا وقت جس نے ہر پاکستانی کو اپنی جگہ پر کھڑا ہونے پر مجبور کیا۔ ہم جیسے قلم مزدوروں نے اپنے قلم سے سوشل میڈیا محاذ سنبھالے، کسی نے دعاؤں سے یہ لڑائی لڑی، کسی نے اپنے جذبے سے، کسی نے کلمہ حق کہنے سے اور کسی نے خاموشی سے اپنی زمین سے محبت کا قرض ادا کیا۔ لیکن اب وہ وقت آ چکا ہے جب ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ ہم نے اس جنگ سے سیکھا کیا ہے؟ کیا ہم اب بھی اپنے معمولات میں لوٹ جائیں گے یا اس جنگ کو ایک موقع سمجھ کر اپنے اندر وہ قوم پیدا کریں گے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟۔
اس جنگ نے ہمیں ایک بار پھر اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس وقت جب ہم اپنی افواج کی بہادری پر فخر کرتے رہے اور ابھی بھی کر رہے ہیں،جب ہر پاکستانی ایک پرچم تلے متحد ہوا تب ایک خلش بھی ہمارے ساتھ چلتی رہی کہ کیا یہ اتحاد صرف دشمن کے خوف سے تھا؟ کیا ہم یہ یکجہتی صرف گولیوں کی گونج میں دکھا سکتے ہیں؟ یا ہم امن کے لمحوں میں بھی ایک قوم بن کر جی سکتے ہیں؟یہی وہ سوال ہے جو اب ہمارے سامنے ہے۔ جنگ نے ہمیں ایک موقع دیا ہے،وہ موقع جو شاید برسوں میں ایک بار نصیب ہوتا ہے کہ ہم خود کو ازسرِنو تعمیر کریں، ہم اپنی اندرونی کمزوریوں کو پہچانیں، ہم بطور ریاست اور بطور عوام اپنی اصل ذمہ داریوں کو قبول کریں۔کیا اب وقت نہیں کہ ہم تعلیم کو ایک ہتھیار بنائیں؟ وہ ہتھیار جو جہالت، غربت ، انتہا پسندی، شخصیت پرستی اور تعصب کے خلاف لڑے؟ کیا اب وقت نہیں کہ ہم اپنے ہسپتالوں، اپنے سکولوں کو محاذ سمجھ کر ان کی بہتری کے لیے کام کریں؟ کہ ہم اپنے شہروں، قصبوں، دیہاتوں کو وہ توجہ دیں جس کے وہ برسوں سے منتظر ہیں؟ سماجی برائیوں کے خلاف یک جا ہو جائیں۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کے راستے کی رکاوٹ بن جائیں۔
یہ جنگ ہمیں بتا گئی ہے کہ اگر ہم بیدار ہوں، اگر ہم متحد ہوں، تو کوئی دشمن ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم خود کو کمزور رکھیں گے، تقسیم شدہ، غیر سنجیدہ اور غافل رکھیں گے تو کوئی دشمن ہمیں شکست دینے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرے گا،ہم خود بخود ہار جائیں گے۔ جیسے کچھ دن پہلے تک ہم ہار رہے تھے۔اب ہمیں چاہیے کہ ہم اس جذبے کو جو ان دنوں میں پیدا ہوا ہے سنبھال کر رکھیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو عارضی جوش سے نہیں بلکہ مستقل شعور سے پروان چڑھ سکتا ہے۔ ہمیں اس بات کو ماننا ہو گا کہ اب جذبے کے ساتھ نظم بھی چاہیے، اب محبت کے ساتھ منصوبہ بندی بھی ہونی چاہیے۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ فوج اکیلی جنگ نہیں جیتتی، قوم کا کردار اس سے کہیں زیادہ گہرا ہوا ہے۔ اگر ہم اپنے اراروں کو مضبوط کریں، اگر ہم اپنے بچوں کو باشعور بنائیں، اگر ہم سیاست میں شفافیت، میڈیا میں دیانت، معیشت میں خود انحصاری لائیں تو یہی وہ اصل لڑائی ہے جو ہم جیت سکتے ہیں۔
آج جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "الحمدللہ، جنگ ختم ہوئی" تو ساتھ ہی ہمیں یہ بھی کہنا ہو گا کہ "اب ہم نے ایک نئی قوم بنانی ہے"۔ وہ قوم جو سوال کرنے سے نہ ڈرے لیکن سوال برائے سازش نہ کرے۔ وہ قوم جو اپنی افواج کی عظمت کو سمجھے، مگر اپنی ذمہ داریاں بھی پہچانے۔ وہ قوم جو ایک ایک بچے کے مستقبل کو اپنے ملک کی تعمیر کا ستون سمجھے۔اب وقت ہے کہ ہم غربت سے لڑیں، بے روزگاری کو شکست دیں، صحت کے نظام کو درست کریں، اور ایک تعلیمی انقلاب برپا کریں۔ اب ہمیں ان محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے جنہوں نے ہماری داخلی وحدت کو کمزور کیا۔ اب ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور علاقائیت کے خلاف وہی اتحاد دکھانا ہے جو ہم نے بیرونی دشمن کے خلاف دکھایا اور اب وہ لمحہ بھی آ گیا ہے جب ہمیں نوجوان نسل کی طرف دیکھنا ہے۔ جنہوں نے سوشل میڈیا کے محاذ پر دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔ اب وقت ہے کہ خواب کو تعبیر میں بدلیں۔ قوموں کی اصل لڑائی خوابوں سے نہیں، کردار سے لڑی اور جیتی جاتی ہے۔ یہ نوجوان نسل اب صرف قوم کی امید نہیں، اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ علم کو ہتھیار بنائیں، اپنی ترجیحات درست کریں، وقت کو ضائع نہ کریں اور زندگی کو سنجیدگی سے لیں۔
ہر نوجوان کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر سچائی، محنت، دیانت اور اخلاقی قوت پیدا کرے۔ کیونکہ یہ وہ نسل ہے جو اگلے دس سال میں ہماری پارلیمنٹ میں ہو گی، ہماری عدالتوں میں، ہمارے سکولوں کے بورڈز میں، ہماری فوج کی صفوں میں، ہماری صنعتوں میں اور ہمارے ہسپتالوں میں۔ اگر آج کے نوجوان نے خود کو سنوار لیا تو کل کی قوم کو کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا۔یہ وہ وقت ہے جب ہم جشنِ فتح کو دعا میں بدل دیں کہ اللہ ہمیں اب وہ شعور دے، جو ہمیں ایک حقیقی قوم بنا دے۔ ہمیں اس لمحے کی قیمت ادا کرنی ہے اور یہ قیمت خون سے نہیں، محنت سے، جذبے سے نہیں، نظم و ضبط سے ادا کرنی ہے۔تو آئیے، ہم اس جنگ کے بعد ایک ایسا عہد کریں جو ہر حوالے سے زیادہ پائیدار ہو کہ ہم اب سچائی، خودی، تعلیم، دیانت اور قومی خدمت کی راہ پر چلیں گے۔ ہم اب صرف زندہ نہیں رہیں گے، ہم ایک زندہ قوم بنیں گے کیونکہ خاموش محاذوں پر جاگتی قومیں ہی مستقبل کی فاتح ہوتی ہیں۔

ٹیگز: