چلیں مان بھی لیتے ہیں کہ اسرائیل ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اسی طرح یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ایران اسرائیل کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے پر حملے کر سکتے ہیں لیکن اتنی دور بیٹھے امریکہ کو ایران سے کونسا خطرہ ہے کہ وہ توواشنگٹن پر حملہ کر ہی نہیں سکتا جس کا برملا اظہار تہران نے خود کیا ہے کہ ہماری رینج میں امریکہ نہیں تو پھر ٹرمپ کو کیا تکلیف ہے کہ ایران پر حملہ کرے؟ یہی وہ سوال ہے جو خود امریکہ میں سر اٹھا رہا ہے کہ جب ہماری ایران سے کوئی دشمنی نہیں تو حملہ کرنے کا کیا جواز تھا اسی طرح جیسے 2025ءمیں بارہ روزہ جنگ میں کیا گیا اور امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی اور اس وقت کہا گیا تھا کہ ہم نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا،ٹرمپ اکڑ اکڑ کر کہتا تھا کہ ہمارے اہداف حاصل ہو گئے، چلیں ڈونلڈ ٹرمپ کی اہداف حاصل کرنے کی بات کو مان لیتے ہیں لیکن اب پھر راگ الاپا جا رہا ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام دنیا کیلئے خطرہ ہے اس لیے حملہ کیا گیا، حالانکہ” آئی اے ای اے “اس بات سے انکاری ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کسی کیلئے خطرہ ہو یا ایران آئی اے ای اے سے تعاون نہ کر رہا ہو اس کے باوجود امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر جہاں اس کے حواری تھو تھو کر رہے ہیں وہاں خلیجی ممالک کو بھی اب سوچنا ہو گا کہ بحرین، قطر، سعودیہ، یو اے ای، دبئی وغیرہ میں جو امریکی اڈے بنائے گئے تھے کہ جس سے غلط اندازہ اخذ کیا گیا کہ اب وہ محفوظ ہیں تو یہ اندازہ زمین بوس ہو گیا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل تو ایرانی میزائلوں سے نہیں بچ سکا خلیجی ممالک کو کیا بچائے گا، قطر، سعودیہ کو مزید سوچنا پڑے گا کہ اسلحہ کی اتنی بڑی ڈیل اور اپنی بیٹیوں کو ٹرمپ کے سامنے نچوانے کا کیا صلہ ملا ہے، خلیجی ممالک یقینا امریکہ سے کیے گئے معاہدوں سے پچھتا رہے اور معاہدے ختم کرنے پر سوچ رہے ہوں گے کیونکہ جن مقاصد کیلئے معاہدے کیے گئے وہ ایران پر حملے کے بعد ریت کی دیوار ثابت ہوئے، ایران دو بڑی طاقتوں سے ٹکرا رہا ہے اس کے باوجود کہ اس کی قیادت کوتو بارود کی بارش کرکے لحد میں اتار دیا گیا لیکن ایرانی قوم کے جذبہ کو نہ توڑ سکا جو یوم القدس کے موقع پر بھی حملوں کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے یہی نہیں ان کی تمام قیادت بھی مظاہرین کے ہمراہ اور سب سے آگے تھی جس قوم میں اس طرح کا جذبہ ہو اور ساتھ اللہ رسول کی مدد بھی ہو اسے نہ امریکہ جھکا سکتا نہ اسرائیل ،ایران میں اہداف حاصل کرنے اور آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کیلئے اب امریکہ چین سے مدد مانگ رہا ہے دوسری طرف دیگر ممالک سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ہرمز کھلانے کیلئے ساتھ دیں لیکن ہر کوئی انکاری ہے موت کے منہ میں جانے سے؟ تہران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کی حمایت میں آنے والے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا جائے گا،ایسی صورت میں کوئی ٹرمپ کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں بلکہ جنگ بند کرنے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ حواریوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں ہیں کہ ایران پر جارحیت کی جارہی ہے ،خلیجی ممالک کو بھی اب سق حاصل ہو جانا چاہیے کہ آج امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو یہ کس باغ کی مولی ہیں ایرانی تو منظم قوم ہے بارود کے سائے تلے بھی دفاتر کھلے ہیں کاروبار ہورہا ہے ،سڑکوں گلیوں بازاروں میں گہما گہمی ہے کسی بھی دھونس دھاندلی کو ایرانیوں نے مسترد کردیا ہے ٹرمپ کے متضاد بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ جنگ ہار رہاہے اور اب وہ جان چھڑا رہا ہے کیونکہ ایران نے غرور کا ایسا سر کچلا ہے کہ اب وہ بھاگنے پر مجبور ہیں،اور تو اورنیٹونے بھی ٹرمپ کو سرخ جھنڈی دکھا دی ہے اب ٹرمپ ایران سے نکلنے کےلئے بہانے ڈھونڈ رہا ہے لیکن اب اسے جان چھڑانے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا نہ ملے گا ٹرمپ جنگ ہارنے پر سٹھیا گیا ہے ایک طرف کہہ رہا ہے جنگ ختم ہونے والی ہے ایران کے پاس اب کچھ نہیں بچادوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں پہ اتر آیا ہے اورآیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ سخت کارروائی کر سکتے ہیں،ٹرمپ خود ہی اندازے لگا رہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں اور ایران کا نیا رہنما پُرسکون زندگی نہیں گزار سکے گا،ایران کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ایک اہم موڑ پرلاکھڑاکیا، دہائیوں میں پہلی بار، دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی شہروں کو اپنے معاشی استحکام کے لیے خطرات کا سامنا ہے، جن کا انحصار عالمی منڈیوں تک رسائی اور مستحکم تجارت پر ہے اور جو خود کو مطمئن سمجھتے تھے فضائی حدود کی پابندیوں اور علاقائی تنازعات نے ایئر لائنز کو روٹس تبدیل کرنے یاپروازیں روکنے مجبور کیااور اب غیر ملکی سرمایہ کار خطے میںسرمایہ کاری کے تحفظ پر سوال اٹھا رہے ہیں، جنگ نے سوال اٹھا دیا ہے کیا اڈے سلامتی کے مسئلے کا حصہ بن گئے ہیں جسے انہوںنے حل کرناتھا؟پوری دنیادشمن بن گئی اس کے باوجود ایران خطے کی بااثر طاقت کے طور پر ابھر رہاہے ایران جنگ امریکہ کے گلے پڑ گئی ہے ایسے ہی جیسے ایک شخص دریا کے کنارے کنارے جا رہا تھا کہ اسے کوئی چیز تیرتی ہوئی نظر آئی کچھ صاف نظر نہیں آ رہا تھا کہ یہ چیز کیا ہے،غور سے دیکھنے پر اس شخص کو محسوس ہوا کہ یہ چیز دراصل ایک سیاہ رنگ کا کمبل ہے اس شخص نے سوچا کہ یہ کمبل کشتی میں سفر کرتے ہوئے کسی مسافر کی غلطی سے دریا میں گر گیا ہے اور چونکہ
ارد گرد کوئی انسان نظر نہیں آ رہا اس لیے وہ یہ کمبل لینے میں حق بجانب ہے وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کمبل کو کیسے حاصل کرے کہ اچانک کچھ ”دور“اسے ایک آدمی آتا ہوا دکھائی دیا اس شخص نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ وہ دوسرا آدمی بھی کمبل کو دیکھے اور اپنا حق جتائے، مجھے کچھ کرنا چاہیے یہ خیال آتے ہی اس شخص نے آ¶ دیکھا نہ تا¶ دریا میں چھلانگ لگادی وہ تیزی سے کمبل کی طرف تیرا اور آناَ فاناَ کمبل کو دبوچ کر اپنی طرف کھینچا،اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب کمبل نے بھی اسے کھینچنا شروع کر دیا،اس کھینچا تانی میں اس شخص پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ کمبل در حقیقت ایک ریچھ ہے جو دریا کے بہا¶ کے ساتھ ساتھ بہتا جا رہا تھا،ریچھ سے جان چھڑانے کے لیے اس شخص نے ہاتھ پا¶ں مارنے شروع کر دیے اس دوران وہ دوسرا آدمی بھی کنارے تک پہنچ چکا تھاجب اس نے کمبل والے شخص کو ڈوبتے ابھرتے دیکھا توچلا کر پوچھا کیا تمہیں تیرنا آتا ہے جواب میں ڈوبتے ہوئے شخص نے بھی چلا کر کہا”ہاں“ لیکن یہ کمبل مجھے تیرنے نہیں دے رہا،اس آدمی نے دوبارہ چلا کر کہا اس کمبل کو چھوڑو اور کنارے کی طرف تیر کر اپنی جان بچا¶ ڈوبنے والے نے بے بسی کے ساتھ کہا،میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں، کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا، ٹھیک اسی طرح جیسے آج امریکہ بھی دنیا کے دریا میں بہتے کمبلوں سے چمٹ گیا ہے ایران سمیت دنیا کے کئی کمبلوں نے ٹرمپ کو دبوچ لیا ہے کل کیا ہو گا اللہ ہی جانے؟۔