Wed, September 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ کا فیصلہ کُن موڑ!

مشرقِ وسطیٰ کا فیصلہ کُن موڑ!

مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری لڑائی آج 19ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔اس جنگ نے نہ صرف پورے خطے کی فضائی حدود اور تجارت کو متاثر کر رکھا ہے بلکہ یہ اس خطہ کے دیگر ممالک کی معیشتوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ امریکہ اسرائیل حملوں کے جواب میں ایران بھرپور جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔ ایران ایک طرف اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ آور ہے تو دوسری طرف سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ قطر‘ بحرین‘ عراق میں موجود امریکی اڈے اور تنصیبات بھی اس کے نشانہ پر ہیں۔ جس وقت میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں خلیجی ممالک دفاع تک محدود ہیں اور وہ اپنی سرزمین پر ہونیوالے ایرانی حملوں پر کوئی جوابی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم یہ جنگ جوں جوں طول پکڑ رہی ہے تیسری عالمی جنگ کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں ۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھاکہ حالات اسی نہج پر آگے بڑھتے رہے تو دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ اس کالم کی اشاعت کے بعداکثر قارئین نے یہ سوال پوچھاکہ تیسری عالمی جنگ کا ذکر تو ہو رہا ہے پہلی دو عالمی جنگوں کے بارے بھی مختصر بتا دیں۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ پہلی جنگ عظیم انسانی تاریخ کا ایک ہولناک باب ہے جو 1914ءسے 1918 ءتک جاری رہا۔ اس جنگ میں دنیا کی تمام بڑی طاقتیں شامل تھیں اور اس کے اثرات بھی پوری دنیا پر پڑے۔ اس جنگ کا فوری سبب آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کا سربیا کے شہرسرائیوو میں قتل بنا، جس نے پورے یورپ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا۔ پہلی عالمی جنگ میں دنیا دو بڑے گروہوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اتحادی قوتوں میں برطانیہ، فرانس، روس، اٹلی اور 1917ءمیں امریکہ بھی شامل ہو گیاجبکہ مرکزی قوتوں میں جرمنی، آسٹریا،ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) شامل تھی۔ اس جنگ میں لگ بھگ 17 ملین لوگ ہلاک ہوئے جن میں 11 ملین فوجی اور 6 ملین عام شہری شامل تھے جبکہ 20 ملین سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔اس جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کا نقشہ بدل گیا اور کئی نئے آزاد ممالک وجود میں آئے۔ 1919ءمیں معاہدہ ورسائے پر دستخط ہوئے جس نے جرمنی پر سخت شرائط عائد کیں اور جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کیا۔ دوسری عالمی جنگ کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہلک ترین جنگ کہا جاتا ہے‘ جو 1939ءسے 1945ءتک جاری رہی۔ اس جنگ میں بھی دنیا کی بڑی طاقتیں دو بڑے گروپوں میں تقسیم تھیں۔ ایک اتحادی (Allies) طاقتیں اور دوسری محوری (Axis) طاقتیں۔ یہ جنگ یکم ستمبر 1939ءکو اس وقت شروع ہوئی جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا جس کے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔اتحادی طاقتوں میں برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ، فرانس اور چین اہم اتحادی ممالک تھے جبکہ محوری طاقتوں میں جرمنی، اٹلی اور جاپان اس اتحاد کا حصہ تھے۔ اس جنگ کے دوران جرمنی کی نازی حکومت نے لاکھوں یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کا قتلِ عام کیا جسے ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے۔ 1941ءمیں جرمنی کا سوویت یونین پر حملہ جنگ کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا، جہاں ہٹلر کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دسمبر 1941ءمیں جاپان کے امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر حملے کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر جنگ میں شامل ہو گیا۔ اگست 1945ءمیں امریکہ نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جس کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ مئی 1945ءمیں جرمنی کی غیر مشروط دستبرداری کے ساتھ یورپ میں جنگ ختم ہوئی (جسے یورپ میں فتح کا دن کہا جاتا ہے) جبکہ ستمبر 1945ءمیں جاپان کے ہتھیار ڈالنے سے عالمی سطح پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہوا۔ اس جنگ میں اندازاً 7 سے 8 کروڑ افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ 
دنیا میں لڑی گئی دو عالمی جنگوں نے انسانیت کو جس کرب سے دوچار کیا وہ ناقابل بیان تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ دنیا اس کے بعد امن کی متلاشی رہی اور کوشش کی گئی کہ معاملات بات چیت سے حل ہوں۔اسی تناظر میں عالمی امن کے قیام کےلئے اقوامِ متحدہ کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ آج کی دنیا مفادات کے تابع ہو چکی ہے اور ہر ملک اپنا مفاد دیکھتا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کسی منطق یا دلیل کی بجائے وسائل پر قبضہ کی جنگ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ تیل وگیس کے ذخائر سے مالامال خطہ ہے۔ دنیا میں خام تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک کی فہرست میں وینزویلا پہلے نمبر پر ہے جس کے پاس 303 ارب بیرل تیل کے ذخائر ہیں ۔ اس فہرست میں دوسرا نمبر سعودی عرب کا ہے جو 267 ارب بیرل کے ذخائر رکھتا ہے۔ایران 208 ارب بیرل کے ساتھ تیسرے ‘ کینیڈا 163 سے 171 ارب بیرل کے ذخائر کے ساتھ چوتھے ‘ عراق145 ارب بیرل کے ساتھ پانچویں ‘ متحدہ عرب امارات 113 ارب بیرل کے ذخائر رکھتے ہوئے چھٹے ‘ کویت 101.5 ارب بیرل کے ساتھ ساتویں ‘ روس 80 ارب بیرل کے ذخائر کے ساتھ آٹھویں اورامریکہ 74 سے 83 ارب بیرل کے ذخائر کے ساتھ نویں جبکہ لیبیا 48 ارب بیرل کے ساتھ ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے۔ 2026ءمیں گیس کے ذخائر رکھنے والے بڑے ممالک کی فہرست دیکھیں تو دنیا میں گیس کے سب سے بڑے ذخائر روس کے پاس ہیں جو عالمی حصص کا تقریباً 24 فیصدبنتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایران ہے جس کے پاس دنیا کی کل گیس کا تقریباً 17 فیصدحصہ ہے۔اس فہرست میں قطر تیسرے نمبر پر ہے جس کے پاس عالمی ذخائر کا 13 فیصد ہے‘ قطر مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا برآمد کنندہ بھی ہے۔اس فہرست میں امریکہ چوتھے نمبر پر آتا ہے جس کے پاس عالمی ذخائر کا تقریباً5فیصد حصہ ہے۔ ترکمانستان اس فہرست میں پانچویں پوزیشن پر ہے اور وسطی ایشیا میں گیس کا بڑا مرکز ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب چھٹے ‘ متحدہ عرب امارات ساتویں‘ نائیجیریا آٹھویں ‘ وینزویلا نویں اور دسویں نمبر پر چین ہے۔تیل و گیس کے ذخائر کی اس فہرست میں آپ کے ذہنوں میں اٹھنے والے بہت سے سوالات کا جواب بھی موجود ہے لیکن یہ آپ کی ذہانت کا امتحان ہے۔ جس طرح 1979ءکو ایران میںآنے والا انقلاب مشرقِ وسطی کی تاریخ کا وہ فیصلہ کن موڑ تھاجس نے نہ صرف ایک صدی پرانی بادشاہت کو ختم کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کو بھی یکسر تبدیل کر دیااسی طرح آج ایک بار پھر مشرقِ وسطی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اب دیکھتے ہیںاس بحران سے کیا مثبت اور منفی پہلو سامنے آتے ہیں۔

ٹیگز: