Wed, September 16, 2026

بلاول بھٹو کا افواہوں پر ردعمل، صوبائی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ پر زور

بلاول بھٹو کا افواہوں پر ردعمل، صوبائی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ پر زور

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بجٹ سے قبل متعدد بے بنیاد افواہیں پھیلائی گئیں، جن میں 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق غلط دعوے شامل تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کا حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور صوبوں سے اضافی مالی بوجھ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ صوبائی مالی وسائل کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت افغانستان اور بھارت کی سرحدوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے بیانات تشویشناک ہیں جبکہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق بلوچستان کے امن کو متاثر کرنے میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ پاکستان کے خلاف مبینہ بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے مبینہ طور پر "را" ایجنٹ کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے خلاف سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے اور احتجاج کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے کہ قومی مفاد متاثر ہو۔انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔

انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو قومی سلامتی اور سماجی تحفظ کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی اور صوبائی مالی حصوں سے متعلق معاملات میں شفافیت ضروری ہے اور صوبے پہلے ہی مالی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

ٹیگز: