Wed, September 16, 2026

امریکہ ایران جنگ پر میرا پہلا کالم

امریکہ ایران جنگ پر میرا پہلا کالم


عاجزی وانکساری اللہ کو بہت پسند ہے اور جو بندے مالک کے سامنے جھکتے ہیں اللہ سوہنا انہیں اپنے اور قریب کر لیتا ہے اورپھر اپنی بیش بہا نعمتوں سے نوازتابھی ہے اور جوسرکشی کرتے ہیں اللہ انہیں ایسی دلدل میں پھنساتاہے کہ وہ پھر ڈیل کی بھیک مانگتے ہیں اسی طرح جیسے امریکہ اپنے آپ کو سپرپاور سمجھتا تھااور ٹرمپ کی بے وقوفی سے سپر پاوری”وڑ“گئی جو خلیجی ممالک سمجھتے تھے کہ امریکہ ہر مشکل میں بچا لے گا وہ بھی تتر بتر ہو گئے کیونکہ ایران نے ایسا مزہ چکھایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیرو سے زیرو بن گیا پھر بچی کھچی عزت بچانے کےلئے پاکستان سے مدد طلب کی فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایسی سفارتکاری کی کہ امریکہ اورایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیاآج دنیا پاکستان کی سفارتکاری کی معترف ہے اور جو ایک سال پہلے پاکستان کو سری لنکا سے تشبیہ دے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام آبادتنہائی کا شکار ہوگیاآج وہ خود تنہائی کا شکار ہیںاللہ نے پاکستان کو جو مقام دیا وہ کسی کے حصے میں نہیں آیا حالانکہ بڑے بڑے طرم خان بیٹھے ہیں اسرائیل اور بھارت جیسے شاطر ملک ایران امریکہ ڈیل کو آخری لمحے تک سبوتاژ کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ دنیا ان کی چالوں کو جان چکی جنگ سے 3کھرب57ارب ڈالرکا نقصان ہوا اس میں 68ارب ڈالر صرف خلیجی ممالک کو جھٹکا لگا جو ناقابل برداشت تھا دونوں ممالک میں بیٹھک نیک شگون ہے اس سے ترقی کے راستے کھلیں گے قارئین جب امریکہ نے اسرائیلی شہ پر تہران پر حملہ کیا تواس پر میرا کالم جو5مارچ کوجس کا عنوان تھا کہ امریکہ پھنس جائے گا چھپا تھا جس میں آنے والے وقت کا احاطہ کیاگیا تھااس وقت شائد لوگ امریکہ کو سپرپاور ہونے کے ناطے کہہ رہے تھے کہ شائد یہ تیسری عالمی جنگ ہے لیکن اللہ نے ایسا گھمنڈ توڑا کہ امریکہ واقعی پھنس کر رہ گیاامریکہ اس لئے بھی ناکام ہوا کہ ایران پرجارحیت کرتے وقت بھول میں تھاکہ تہران کو چند گھنٹوں میں زیر کر لیا 
جائے گا ٹرمپ اس لئے بھی ناکام ہوا کہ اس کے پاس اپنی کوئی پالیسی نہیں تھی وہ اسرائیل کے ایما پر ایران پر چڑھ دوڑا تھا جسے چالیس دنوں میں ہزیمت کے سوا کچھ نہ ملا دوسری طرف امریکی ملٹری کوئی رزلٹ بھی نہ دے سکی ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ہی ناکام ہو گئے تھے جب اس نے کہا کہ ایرانی عوام ٹیک اوورکر لیں جس کا سیدھا مطلب تھا کہ ہمارے ہاتھ کھڑے ہیں پھر ٹرمپ روز ایران کودھمکیوں کے سوا کچھ نہ بگاڑ سکا امریکہ کی طرف سے روزانہ جیت کے دعوے کےے جاتے رہے سیز فائر کے دعوے بھی کےے گئے گوکہ ایران نے اچھے طریقے سے دشمن کو جواب دیا اور سفارتکاری بھی خوب کی ، تہران جانی اور مال نقصان کے باوجودایک مضبوط ملک بن کر دنیا کے سامنے آیا مذاکرات کی روز بھیک مانگی گئی تاریخ گواہ ہے ایران کو جتنا دبایا گیا وہ اتنا ہی زہریلا سانپ بن کر سامنے آیا اور امریکہ کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑااوروہ جیت کی ٹرافی امریکی عوام کو نہ دے سکاٹرمپ کا بنابا ہوا نام نہاد پیس بورڈ بھی مٹی میں مل گیا جب چند ممالک اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے تاریخ گواہ ہے کہ ایران پر جب بھی دباﺅ ڈالا گیا ایران نے دنیا کے سامنے اپنے آپ کو منوایاامریکی صدر ریگن نے پریشر ڈالا تو ایران نے حزب اللہ بنالی یا سپورٹ کیا، کلنٹن نے بھی تہران کوڈرانے دھمکانے کی کوشش کی تو ایران نیو کلئر پروگرام لے آیا جارج بش بھی ایران کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کرتے رہے اور ناکام ہوئے تو تہران نے بلیسٹک اور کروز میزائل شروع کردئے اس کے بعد دو صدور آئے جنہوں نے ملٹری ایکشن کیا اوروہ ناکام ہوئے جمی کارٹرنے چوبیس پچیس اپریل 1980کو ایگل آپریشن کیا جب رجیم چینج ہوئی اور پاسداران انقلاب نے امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنا لیا، ڈیلٹا فورس یرغمالی تو رہا نہ کروا سکی البتہ8 امریکی مارے گئے اور8 ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔ اسی سال سیکنڈ ٹرم کے الیکشن ہوئے اور جمی کارٹر ہار گیا اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے دس ماہ میں دو بار اٹیک کیا اور سوائے تھوتھو کے کچھ حاصل نہ کر سکا اور ایران نے سٹیٹ آف ہرمز کو ہتھیارکے طور پرایسا استعمال کیا کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کو لینے کے دینے پڑ گئے اور آج اگر امریکہ ایران معاہدہ سائن ہوا ہے تو اس میں ٹرمپ کی شکست واضح طور پر نظر آتی ہے دوسر ی طرف امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت پر اسرائیل آگ بگولہ ہے، بعض اسرائیلی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی سخت تنقید کی ہے، اسرائیلی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ ٹرمپ نے مایوس کیا ہے اور معاہدہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہے، اسی طرح ٹرمپ کے ڈیموکریٹک حریف بھی اسے اسرائیل کے ساتھ ایک ہی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، امریکی ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کی مجوزہ ڈیل کو خوفناک قرار دیاہے، امریکہ اور اس کے دیرینہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی اسرائیل کے درمیان پالیسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے معروف روزنامے یدیعوت احرونوت نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں محاذ آرائی کی بڑی سرخی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی اس سنگین خلیج کو نمایاں کیا ہے دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ محاذ آرائی روایتی حریفوں یعنی امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے مابین اختلافات کی عکاسی کرتی ہے شاید ٹرمپ کو نومبر کے منظر سے زیادہ خوف محسوس ہو رہا ہے جب مڈٹرم الیکشن ہوں گے، دنیا بھر میں امریکا ایران معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے،امریکا اور ایران معاہدے کی کچھ شقیں سامنے آ گئیں، مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا جن میں براہِ راست نقد ادائیگیاں، علاقائی ممالک کے تعاون اور مالیاتی کریڈٹ لائنز کے ذریعے فنڈز کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے ثالثوں کو چاہےے کہ معاہدے کی پاسداری کروائی جائے خصوصاً امریکہ پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ٹیگز: