ہمارے ملک میں بھی حکومتی اور این جی اوز کی سطح پرکچھ کاروائیاں تو کی جاتی ہیں لیکن اب تک ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ ہر چند ماہ بعد کوئی نئی رپورٹ سامنے آتی ہے، کوئی سیمینار منعقد ہوتا ہے، کوئی سرکاری مہم شروع کی جاتی ہے اور پھر سب کچھ معمول کے مطابق چلنے لگتا ہے۔ ماہرین آبادی، معاشیات اور سماجیات اپنے اپنے زاویے سے اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کوئی غربت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کوئی تعلیم کی کمی کو، کوئی خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی کو اور کوئی مذہبی یا سماجی رویوں کو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی وجہ مکمل طور پر غلط نہیں۔ آبادی میں اضافے جیسا پیچیدہ مسئلہ کبھی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی ایک نسخے سے ختم ہو سکتا ہے۔ اس پوری بحث میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے شاید وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا وہ مستحق ہے، اور وہ ہے چائلڈ لیبر۔ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ پاکستان میں آبادی کے بڑھنے اور کم عمر بچوں سے مشقت لینے کے درمیان کیا تعلق ہو سکتا ہے تو پہلی نظر میں شاید یہ دونوں موضوعات ایک دوسرے سے بالکل الگ محسوس ہوں، مگر ،اگر معاشیات کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ان کے درمیان ایک گہرا رشتہ نظر آتا ہے۔ کیا چائلڈ لیبر کے خاتمہ سے پاکستان کی آبادی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ممکن ہے کچھ لوگوں کو اس سوچ سے اختلاف ہو لیکن مجھ جیسے کچھ لوگ سو فیصد قائل ہیں کہ اگر ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنا ہے تو اس کا راستہ یہیں سے نکلے گا۔ یقینا اگر ریاست بچوں سے مشقت لینے کے قانون پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دے تو اس کے اثرات صرف بچوں کی زندگیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبادی کے رجحانات پر بھی مثبت اثر پڑ ے گا۔ ہمارے معاشرے میں غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ یہ سوچنے سمجھنے کے انداز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک متوسط یا خوشحال گھرانے میں بچے کی پیدائش کا مطلب نئے اخراجات، بہتر تعلیم، اچھی صحت، معیاری خوراک اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتا ہے، لیکن ایک غریب مزدور کے لیے معاملات یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے سامنے مستقبل کے بڑے بڑے خواب نہیں بلکہ شام کا چولہا جلانے کی فکر ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں اگر دس یا بارہ سال کا بچہ کسی ہوٹل، ورکشاپ، بھٹے، فیکٹری یا دکان پر کام شروع کر دے، اس کے کھانے اور کپڑوں وغیرہ کا خرچ مالک برداشت کرنے لگے اور ہر مہینے چند ہزار روپے گھر بھی آنے لگیں تو یہ صرف ایک بچے کی کمائی نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کے معاشی حساب کتاب کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہر شہر، ہر قصبے اور ہر بازار میں ایسے بچے نظر آ جاتے ہیں جو سکول کے بجائے ورکشاپوں میں استاد کی ڈانٹ کھا رہے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں برتن دھو رہے ہوتے ہیں، گاڑیوں کی مرمت کر رہے ہوتے ہیں، اینٹیں اٹھا رہے ہوتے ہیں یا کچرا چن رہے ہوتے ہیں۔ یہ بچے صرف اپنا بچپن نہیں کھو رہے ہوتے بلکہ معاشرے کی ایک خاموش معاشی سوچ کی عکاسی بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ معاشیات میں ایک تصور پایا جاتا ہے کہ بعض غریب معاشروں میں بچوں کو مستقبل کی سرمایہ کاری یا معاشی سہارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب بچہ کم عمری میں ہی گھر کی آمدنی میں حصہ ڈالنے لگے تو زیادہ بچوں کی پیدائش سے پیدا ہونے والی معاشی کشش اپنا اثر دکھانے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں جب تعلیم عام ہوئی، بچوں سے مشقت پر سخت پابندی لگی، لازمی تعلیم نافذ ہوئی اور بچوں کی کفالت والدین کی مکمل ذمہ داری بن گئی تو شرحِ پیدائش میں بھی بتدریج کمی آئی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنا ایک جرم ہے، مگریہ جرم کھلے عام ہوتا ہے۔ متعلقہ ادارے کبھی کبھار کارروائی کرتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں اور پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں آبادی ، تعلیم اور لیبر کی پالیسیاں تین الگ الگ دنیاو¿ں میں رہتی ہیں، حالانکہ انہیں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہونا چاہیے۔ اگر ایک بچہ سکول میں ہوگا تو وہ مزدور نہیں ہوگا، اگر وہ مزدور نہیں ہوگا تو خاندان کو اس کی مکمل کفالت کرنا ہوگی، اور جب ہر بچے کی تعلیم، صحت اور پرورش کا خرچہ والدین برداشت کریں گے تو لازمی بات ہے کہ پاپولیش کنٹرول پر اس کا اثر آئے گا۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر چائلڈ لیبر پر مکمل پابندی لگا دی جائے تو غریب خاندان گزارا کیسے کریں گے؟یقینا اگر ریاست متبادل انتظام نہ کرے تو یہ قانون غریب کے لیے سزا بن جائے گا۔ اس لیے چائلڈ لیبر کے خاتمے کو سماجی تحفظ کے نظام کے ساتھ جوڑنا بھی لازمی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی امدادی اسکیموں کو بچوں کی تعلیم سے مشروط کرے۔ جو خاندان اپنے بچوں کو باقاعدگی سے سکول بھیجیں صرف انہیں ہی مالی معاونت فراہم کی جائے۔
پاپولیشن کنٹرول کی پالیسی کو صرف محکمہ صحت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تعلیم، روزگار، غربت کے خاتمے اور چائلڈ لیبر کے خاتمے سے جوڑ کر ایک مربوط قومی حکمت عملی بنائی جائے۔کیونکہ جب تک ادارے الگ الگ سمت میں چلتے رہیں گے مطلوبہ نتائج کا حصول مشکل ہے۔ مساجد، اسکولوں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے یہ شعور عام کیا جائے کہ بچہ خاندان کی آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کا مستقبل ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم غریب والدین کو مجرم سمجھنے کے بجائے ان کی مجبوری کو سمجھیں۔اگر ایک باپ کو یہ یقین ہو کہ اس کے بچے کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات پوری ہوں گی تو شاید وہ اسے ورکشاپ کے بجائے سکول بھیجنے کا فیصلہ زیادہ آسانی سے کر سکے۔ ہمیں یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ آبادی کا مسئلہ صرف مانع حمل ادویات یا آگاہی مہمات سے حل نہیں ہوگا۔جب تک بچے کو کمائی کا ذریعہ سمجھنے والی سوچ موجود رہے گی، اس وقت تک زیادہ بچوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی کشش ختم نہیں ہوگی، اور جب تک چائلڈ لیبر ہماری معیشت کا خاموش حصہ بنی رہے گی، غربت، ناخواندگی اور آبادی کا دباو¿ ایک دوسرے کو تقویت دیتے رہیں گے۔