Wed, September 16, 2026

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود

11 جولائی کو جب دنیا نے بوسنیا کے مشرقی حصے میں واقع قصبے سر بیر نیتسا میں مسلمان نسل کشی کے ہولناک واقعے کی 31 ویں برسی منائی تو کیا آج یہ دنیا امن و امان کا گہوارہ ہے؟ 1995 ءمیں جنگ عظیم دوئم کے بعد جب یہ ہو لناک قتل عام ہوا تو بل کلنٹن امریکی صدر، جان میجر برطانوی وزیر اعظم اور فرانسو متراں، فرانسیسی صدر تھے۔ بڑی طاقتیں بڑے نام، وہی انٹرنیشنل کورٹ برائے انصاف مگر 8 ہزارمسلم مردوں، لڑکوں کا قتل عام کیا گیا۔ 25، 30 ہزار عورتوں، بچیوں کی بے حرمتیاں اور قتل ہوئے۔ اجتماعی قبریں بھر دی گئیں۔ مسلمان حکمران بھی آج ہی کی طرح تماش بین اور فاتحہ خواں تھے! تاہم یہ ضرور ہوا کہ سرب فوجی (کیونکہ اسرائیلی نہ تھے)، عمر قید کی سزائیں ہیگ ٹربیونل سے پا کر کچھ مجرم جیلوں میں مر گئے اور کچھ زندہ ہیں۔ فرق دیکھ لیجئے غزہ پر قیامت کی طوالت، (1948 ءتا 2026 ئ) لا منتہا انسانیت کے خلاف جرائم، اب (تقریباً )3 سالہ نسل کشی، فاقے اور ہمہ نوع مظالم، مگر اسرائیل کا بال بیکا نہ ہوا۔ پوری دنیا چلا اٹھی، مگر انصاف کے سبھی ادارے مکمل بے بسی کی تصویر بن رہے۔ امریکہ، یورپ خود اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی میں جتے رہے۔ مسلمان حکمران بے حسی سے منہ موڑے رہے۔ دنیا کو صرف اب دن منانے کی اجازت ہے دلسوز تقاریر کرنے کو۔جس کے بعد مزید نت نئی جنگیں چھیڑنے، کا نفرنسیں کرنے میں جت جائیں۔ نوجوانوں کو ہمہ نوع کھیلوں، ورلڈ کپ، اولیمپکس میں لگائے رکھنے کو، بڑی آبادیاں دنیا کی مصروف ہو جاتی ہیں۔ معاشی تحرک سے پیسہ بنتا، جوئے کا کاروبار چلتا ہے۔
 بوسنیا کے قتلِ عام کا المیہ یہ تھا کہ ’یو این محفوظ کیمپوں‘ میں پناہ لیے مسلمانوں کا خون حلال کر لیا! سو دنیا آج بھی وہی ہے: وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے۔ اپنا حلقہ ہے حلقہ¿ زنجیر، اور حلقے ہیں سب امیروں کے۔ بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی، وہی دن رات ہیں اسیروں کے! حبیب جالب کی شاعری میں فقیروں کی جگہ مسلمان سمجھ لیجئے تو عالمی سیاست کا موجودہ نقشہ سامنے موجود ہے! مسلمان یوں بھی اب صرف شناختی کارڈ میںلکھے جانے والا نام نہاد ’مسلم‘ رہ گیا ہے۔ ورنہ عملاً مسلمان بن کر جینے، رہنے کی تمناجو بھی کچھ ہے ،غزہ، شام، مصری، اخوان، ہو یا حماس ’دہشت گرد‘ کہلاتی ہے۔ دنیا بھر میں نسل کشی کے مجرم، قومیں اجاڑنے والے، بابا ہائے امن ہی رہتے ہیں، نتین یاہو اور ٹرمپ کی طرح ۔
اس موقع پر یو این سیکرٹری جنرل نے پیغام جاری کیا کہ بین الا قوامی قانون کے تحت ریاستوں پر نسل کشی روکنے کی ذمہ داری ہے۔ مگر جب یہ ریاستیں، پورا امریکہ اور یورپ ہی غزہ میں شراکت کار ہو تو اسے کون روکے؟ نفرت انگیزی، غیرانسانی سلوک، تحقیر، کسی قوم یا نسل کو تعصب کا نشانہ بنا نا ہی وہ فضا فراہم کرتا ہے جس میں نسل کشی پنپتی ہے۔ خواہ بوسنیا ، فلسطین ہو یا مقبوضہ کشمیر -
 تعصب اور نفرت انگیزی نے ورلڈ کپ کو بھی آلودہ کر دیا۔ مصری کوچ کا اپنی ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی جیت پر فلسطینی پرچم لہرانا جرم ہو گیا۔ اس پر مصر اور غزہ میں تو خوشی کے شادیانے بج اٹھے۔ دوسری طرف مصر کے ساتھ ڈکیتی کرکے ارجنٹائن کو میچ جتوایا گیا۔ ایکس پر اس ضمن میں فیفا وائرل کلپس ہٹاتا رہا، کیونکہ سبھی نے اسے فراڈ قرار دیا! مصری کوچ نے گراو¿نڈ ہی میں اس پر فیفا کے میچ ریفری کا جھوٹ دنیا کے سامنے آشکارا کر دیا۔ جس پر اسے مصری حکومت نے سب سے بڑا ایوارڈ دیا۔ غزہ اور غزہ سے محبت رکھنے والے ورلڈ کپ میں بھی فلسطین یاد دلانے کی اس کوشش پر مصری کوچ کو سراہتے رہے!
غزہ میں انسانی بحران ہر پہلو سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ بھوک، طبی سہولتوں کا فقدان تو تھا ہی۔ اسرائیل کے حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ غزہ کے بچوں میں جلدی وائرس کے، دو ہفتوں میں 9300 کیس ہوئے ہیں۔ بند خیموں میں، پر ہجوم آبادی، صاف پانی ناپید، صفائی ستھرائی قائم رکھنا ناممکن۔جلد پر پھوڑے، دھپڑ، شدید کھجلی، جلد سرخ۔ کوئی علاج، سہولت میسر نہیں۔ مغربی کنارے پر امریکی کانگریس کے رکن، روکھنا کو ساتھیوں سمیت 90منٹ تک گرفتار / محصور رکھا، امریکی ایم 4 رائفلیں چمکاتے ہوئے۔ سلی کون ویلی سے یہ رکن کانگریس ایک فلسطینی بدوی گا¶ں دیکھنے وہاں گئے تھے جس پر آباد کار حملوں کی بنا پر بے دخلی ہوئی۔ پھراسرائیلیوں نے اسے تباہ کر دیا۔ نیویارک ٹائمز نے اس کی تفصیلی رپورٹ دی ہے۔ کس طرح آباد کاروں نے انہیں عربی، عبرانی میں گالیاں دیں۔ ان کی گاڑی کے ٹائروں کو ٹھڈے مارے۔ اسرائیلی فوجی گاڑی بھی آئی تو آباد کاروں سے گپ بازی کرتی رہی۔ گاڑی سے سڑک پر ان کا راستہ روکے رکھا۔ روکھنا نے اس پر لکھا کہ ہر کانگریس مین کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم CAIR نے اس پر متوجہ کیا ہے کہ امریکی ٹیکس ڈالر اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نہ جھونکے جائیں۔واضح رہے کہ امریکی عوام کی اکثریت اسرائیلی حمایت کی پالیسی کے خلاف ہیں۔ ری پبلکن نوجواں اور ڈیمو کریٹ ووٹرز بھی۔ 
غزہ اور بوسنیا پر نسل کشی کی بات ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد فائی، واشنگٹن میں مقبوضہ کشمیر پر توانا آواز (سیکرٹری جنرل، ورلڈ کشمیر پر جانکاری فورم) سر بیرنیتسا پر عالمی دن کے حوالے سے متوجہ کرتے ہیں کہ نسل کشی کو بر وقت روک لینا بعد میں ماتم کرنے سے بہتر ہے۔ ایسا ایک دن میں نہیں ہوتا۔ کیا یہی سب جو بوسنیا میں ہوا مقبوضہ کشمیر میں جاری نہیں ہے؟ بوسنیا میں اس قیامت سے بچ رہنے والے نے کہا تھا کہ: ’میں دنیا سے یہ نہیں کہہ رہا کہ تم میرا درد اٹھا¶۔ میں تو تم سے اس کی ذمہ داری اٹھانے کو کہہ رہا ہوں‘۔ کہیں بھی (غزہ، بوسنیا، روانڈا، کشمیر)یہ ایک رات میں نہ ہوا۔ کشمیر میں 2019 ءسے 2026 ءتک 10 ہزار عورتیں بچیاں لا پتہ کی گئی ہیں۔(بھارتی وزیر کا لوک سبھا میں بیان) کشمیر اور آسام، چیر مین Genocide Watch نے 2022ءمیں بھارت بارے خبردار کیا تھا کہ تنبیہی حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ توجہ دینی، اقدام لازم ہیں۔
 اب مظفر آباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس (APHC) کے کنو نیز غلام محمد صفی نے پریس کانفرنس میں یومِ شہدائے کشمیر 13 جولائی کو منانے کا اعلان کیا ۔ عوام سے بھر پور شرکت کی اپیل کی ۔ ان کے ساتھ پر یس کا نفرنس میں میئر مظفر آباد سکندر گیلانی، جموں کشمیر لبریشن سیل کے ڈاکٹر راجہ سجاد لطیف اور دیگر کئی رہنما موجود تھے۔ یہ یومِ شہدائ، تحریکِ آزادی¿ کشمیر، 13 جولائی 1931ءمیں 22 کشمیریوں کی شہادت پر شروع ہونے والی سرخ لکیر ہے۔ جب سری نگر سینٹرل جیل کے باہر ایک کشمیری اذان دینے کھڑا ہوا اور ڈوگرہ فوج نے گولی مار دی۔ اس کی شہادت پر اگلے نے شروع کر دی اور یوں اذان مکمل ہونے تک کے عمل میں 22 کشمیریوں نے اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ یہ تاریخی دن بھارتی غلامی کے خلاف گواہی تھی ۔
 APHC نے مظفر آباد، اسلام آباد حکومتوں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو متوجہ کیا کہ صرف مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔اس کی طوالت سے انسانی جانوں کا زیاں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر خطرہ یہ ہے کہ آج تک جو بین الاقوامی فوکس بھارتی مقبوضہ کشمیر پر رہا وہ آزاد کشمیر پہ آ جائے گا۔ بھارت اس کا فائدہ اٹھائے گا۔ یہ ہماری تحریکِ آزادی کے لیے زہر قاتل ہے۔ ایران، امریکہ دونوں نے پاکستان پر اعتماد کر کے مصالحت کو کہا تھا تو یہاں ایسا کیوں نہیں؟ یہ مانتے ہوئے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی مطالبات سے ہم اتفاق کرتے ہیں ہمارے نزدیک آئینی اور قانونی معاملات سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں سے نہیں، باہم مذاکرات سے حل ہوں گے۔ (ڈان۔ 12 جولائی)
مظفر آباد میں آزاد کشمیر کے عوام کا اکٹھ اس امر کی گواہی تھا کہ قطع نذر اندرونی سیاسی اختلافات کے ، عوام کنٹرول لائن کے دونوں جانب بھارت کے غیرقانونی قبضے سے آزادی حاصل کرنے میں متحدومتفق ہیں۔ سوچئے ! ہم سیرت و کردار سے وہ خوشبو کیونکر کھو بیٹھے کہ کشمیری نوجوان ایک ظہر کی اذان دینے پر ڈوگرہ راج کے آگے 22 جانیں پیش کر دیں۔ آج ہم ہندوتوا کے خلاف یک زبان ،یک جان لڑنے کی بجائے (حکومت ہو، یا عوام) حقیر مفاداتی جھگڑوں میں مظلوم و مقہور وادی کے کشمیری بھلا رہے ہیں۔اسی روشنی میں یکجائی، اخوت، رفاقت کے بندھن میں بندھیں گے تو سبھی مسائل حل ہوں گے۔ ان شاءاللہ! بڑے مطالبات پر یکسو ہو جائیے، مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی کامیابی پر سبھی ادنیٰ مسائل از خود حل ہو جائیں گے۔

ٹیگز: