Wed, September 16, 2026

دنیا کا سب سے آسان کام 

دنیا کا سب سے آسان کام 

میں ایک دِن سوچنے لگا کہ دنیا کا سب سے آسان کام کیا ہے۔ غور و فکر کے بعد یہ پتا چلا کہ سب سے آسان کام ہار مان لینا ہے۔ اِنسان ہر قسم کی جد و جہد، محنت، پریشانی سے نجات پا جاتا ہے۔ اِدھر ایک مشکل آئی، ادھر اِنسان نے ہتھیار ڈال دئیے۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آیا، اِنسان نے راستہ ہی بدل لیا۔ اگر کوئی راستہ نہ مل رہا ہو تو واپس پلٹ گیا۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو زمین پر لیٹ گیا۔ مسئلے کو حل کرنے کے لیے لگن اور محنت سے جد و جہد نہ کی۔ ہرچیز پر مٹی ڈالی اور سکون میں آ گئے۔
میں غور کرتا ہوں کہ ہم مسلمانوں اور اغیار کی تارِیخ میں یہی فرق ہے۔ ان لوگوں نے ہر مشکل، ہر مسئلے کا مردانہ وار ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جہاں راستہ نظر نہیں آیا وہاں سرنگ بنا دی، پل تعمیر کر دیا۔ صبح و شام غور و فکر میں بسر کیے کہ کس طرح اپنی اور دوسروں کی زندگی بہتر بنائی جائے۔ اِس کےلئے راتوں کو جاگے، دِن میں بھاگ دوڑ کی، اپنی کمر کو تختہ بنا لیا، دِماغ سے انتھک طریقے پر کام لیا اور کوئی نہ کوئی، کچھ نہ کچھ حل نکال ہی لیا۔ انہوں نے خود سے سوال تخلیق کیے اور ان کے جواب تلاش کرنے کے درپے ہو گئے۔ خود ہی مسائل کی ذہنی تخلیق کی اور سوچا کہ ان کا کیا حل ہو سکتا ہے۔ اِس کے برعکس ہم نے کیا کیا؟ ہم نے کہا کہ یہ مسائل ہیں ہی نہیں۔ اِن میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ سوال بے کار کے ہیں۔ اِن سے عاقبت کا کوئی تعلق نہیں۔ جب ایسا ہوا کہ سوال خود سے پہاڑ بن کر سامنے کھڑا ہو گیا تو ہم نے فٹافٹ ہتھیار ڈال دئیے۔ ہم سوال کے سامنے سجدے میں چلے گئے۔ ہم نے اس بت کے آگے چڑھاوے چڑھائے، اسے پھولوں کی مالا پہنائی اور اپنا رستہ لیا۔
اگر آپ دنیا کی سائنسی تارِیخ پر نظر دوڑائیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ گزشتہ پانچ سو سال میں ہمارا یہی وتیرہ اور غیروں کا یہی طریقہ کار رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں لوگ اپنے گھروں سے ٹرانسمیٹر کے ذریعے پیغامات نشر کیا کرتے تھے جو ریڈیو پر سنے جا سکتے تھے۔ ان کے پاس یہ ٹیکنالوجی بھی تھی کہ یہ معلوم کر سکیں کہ کون سی نشریات کہاں سے آ رہی ہیں۔ وہ اس عمارت کا پتا بھی لگا لیتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان اِس بات پر بحث کر رہے تھے کہ ریڈیو حلال ہے یا حرام۔ ہماری ایک بڑی اکثریت کا کہنا تھا کہ اِس ڈبے میں سے شیطان بولتا ہے۔ ٹرانسمیٹر بنانا تو بہت دور کی بات تھی۔ سب سے پہلے جرمن سائنس دان ہائنرخ ہرٹز نے1888ءمیں ٹرانسمیٹر اِیجاد کیا۔ اِس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے اطالوی سائنس دان مارکونی نے 1895ءنے پہلا ریڈیو بنایا۔ جب ٹرانسمیٹر اِیجاد ہوا تو ہم شعر و شاعری، باغات اور محلوں کی تعمیر اور عیش وعشرت میں بُری طرح سے مبتلا تھے۔ ہم تب بھی بے کار کی مذہبی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے اور ہر نئی سائنسی اِیجاد اور دریافت کو شک کی نظروں سے دیکھتے تھے۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی طریقہ کار رہا ہے کہ ہر نئی چیز کو آنکھیں بند کر کے حرام قرار دے دو۔ چنانچہ ایک زمانے میں کافی اور تمباکو بھی حرام رہے ہیں۔ یہ ہار مان لینے والا راستہ ہے۔ اِس میں غور و فکر، سوچ بچار، محنت ومشقت سے جان چھوٹ جاتی ہے۔
آج بھی ہم خود سے کچھ نیا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم آج بھی ہر نئی چیز کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر اسے اپنے سینے سے لگا لیتے ہیں۔ آپ کو کبھی یہ سننے کو نہیں ملے گا کہ فلاں مسلمان سائنس دان نے فزکس، ریاضی، فلکیات وغیرہ میں کوئی نئی بات دریافت کی۔ جب کسی سے یہ بات کرو تو وہ تابناک ماضی کے حوالے دیتا ہے کہ تب ہم یہ تھے اور وہ تھے۔ لیکن آج ہم نے ہر چیز، ہر بات سے ہار مان لی ہے۔ ہم نے سوچ لیا ہے کہ اصل محنت دولت کمانے، عیاشی کے نت نئے طریقے دریافت کرنے، چوربازاری کرنے، دھوکا دینے، دوسروں کو اذیت پہنچانے میں ہی کرنی ہے۔ بہت ہو گیا تو نماز اور روزے کے مسائل حل کرنے میں کرنی ہے۔ چنانچہ نماز اور روزے کے معاملوں میں بے پناہ اِختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ تمام دینی معاملات میں اِختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور روز بہ روز ہو رہے ہیں۔ لیکن جدھر واقعی محنت کرنی چاہیے، ادھر ہماری توجہ نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اس سمت میں اِنسان سے بہت زیادہ محنت طلب کی جاتی ہے۔ دھوکا دینے کے طریقے سوچنے میں اِتنی محنت نہیں لگتی جتنی ایک الیکٹرون پر موجود چارج معلوم کرنے میں لگتی ہے، نئے ستارے اور کہکشائیں دریافت کرنے میں لگتی ہے، سمندرکے اندر کی دنیا کو تسخیر کرنے میں لگتی ہے، بیماریوں کے علاج دریافت کرنے اور دوائیں بنانے میں لگتی ہیں۔ اِن تمام کاموں سے ہم عرصہ ہوا ہار مان چکے ہیں۔ آج بھی روزانہ کی بنیاد پر ہم ہار مان رہے ہیں۔ کتنے مسلمان ممالک میں مائیکرو پروسیسر بنتے ہیں؟ کہاں نئی نئی کاریں بنتی ہیں؟ کہاں اعلیٰ معیار کی گھڑیاں بنائی جاتی ہیں؟ کہاں ہوائی جہاز بنتے ہیں؟ جنہوں نے کار ایجاد کی وہ اسے ایجاد کر کے سو نہیں گئے کہ بس کام ہو گیا ہے۔ دنیا میں ہر سال کاروں کے نئے ماڈل آتے ہیں جن میں نئی نئی اِختراعیں ہوتی ہیں، ڈرائیونگ کو آسان بنانے اور سواری کے تحفظ کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ ہم میں سے کون یہ کام کرتا ہے؟ کام کرنا تو دور کی بات، اِس کے بارے میں سوچتا بھی ہے یا کچھ بھی غور و فکر کرتا ہے۔ کوئی بھی نہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے سائنس سے بہت عرصہ ہوا ہار مان لی ہے۔ ہم نے ریاضی سے بھی ہار مان لی ہے۔ ہم نے معاشیات (economics) اور عمرانیات (Sociology) سے بھی ہار مان لی ہے۔ آج اگر آپ نے اِن کے بارے میں کوئی بات معلوم کرنی ہے تو آپ کو اغیار کی کتابیں اور ان کی تحقیق ہی پڑھنا پڑتی ہے۔ ہمارے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں بھی دراصل ان کے علم کا ترجمہ ہی ہوتی ہیں۔ ہم نے اِن میں سے کسی شعبے میں بھی تحقیق نہیں کی۔ ہار مانتے مانتے ہم اِتنا پیچھے جا چکے ہیں کہ اب ہم دنیا کی کسی مثبت دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم ہتھیار بنانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ میزائل، بندوقیں، بم، ٹینک وغیرہ میں ہم محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ صرف اپنے بچاو¿ کےلئے کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ہم نے یہ بھی نہ کیا تو ہم ہڑپ کر لیے جائیں گے۔ لیکن طبی سائنس، فزکس، کیمیا، ریاضی وغیرہ کے شعبوں میں ہم بالکل ہاتھ نہیں ڈالتے۔ جیسے ہندو نے سانپ سے ڈر کر اس کی پوجا شروع کر دی، اس کے زہر سے تریاق بنانے پر توجہ نہیں دی، اِسی طرح ہم نے بھی اِن شعبوں سے خوف زدہ ہو کر ان کے آگے سجدے میں سر جھکا لیا اور فوراً ہی یہ مان لیا کہ ہمارا اور فزکس کا کوئی مقابلہ، کوئی میل نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اپنے راستے پر چل رہے ہیں اور اغیار کسی اور سفر پر روانہ ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ سب لوگ جہنمی ہیں۔ یہ جتنی محنت بھی کر لیں، آخر کو اِن سب کا انجام آگ ہے۔ ہم چونکہ کلمہ گو ہیں، لہٰذا اگر ہم کچھ بھی نہ کریں تو بھی ہم جنت کے باغوں میں رہیں گے۔ یہ ساٹھ ستر سال کی زندگی جوں توں کر کے گزار لو۔ آگے ہرا ہی ہرا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ سوچ کس نے اور کب مسلمانوں کے دِماغوں میں ڈالی۔ غالباً بہت سے لوگوں نے اِس پر صدیوں کام کیا ہو گا تب کہیں جا کر ہم نے ہار مان لینے کا فن سیکھا۔ اب ہم اِس کام میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔ ہمیں کسی کی طرف دیکھنے، کسی سے مدد حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پہاڑ کو دیکھ کر لیٹ جانے میں کون سی محنت لگتی ہے؟

ٹیگز: