Wed, September 16, 2026

خطے میں مشترکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کی تجویز 

خطے میں مشترکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کی تجویز 


تاریخ کے اس حصے کا ذکر کرتے ہیں جس میں قدرتی آفات کے باعث انسانی اموات کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس اعتبار سے سائنس دانوں نے دس بڑی قدرتی آفات کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جن میں ایک کروڑ سے زائد انسان دیکھتے ہی دیکھتے لاشوں میں بدل گئے۔ یہ افسوسناک ڈیٹا پڑھنے کے بعد ایک اور لرزہ بھی طاری ہو جاتا ہے۔ ان دس بڑی مصیبتوں میں سے تین بھارت اور پاکستان میں آئیں جبکہ پانچ کا تعلق چین سے ہے۔ گویا ماڈرن ہسٹری کی آٹھ بڑی قدرتی آفات جنوبی ایشیاءاور چین میں آئیں۔ آندھرا پردیش کے ساحلی علاقے ”کورنگا“ میں 25 نومبر 1839ءکو سمندری لہریں اچانک 40 فٹ سے زیادہ بلند ہوگئیں۔ اس سمندری طوفان کو ”انڈیا سائیکلون“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں 3لاکھ افراد دنےا سے غائب ہوگئے۔ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں 12 نومبر 1970ءکا دن دنیا کے بدترین سائیکلون کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس خونی سائےکلون میں تقریباً 5لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے سماٹرا کے سمندروں کے اندر 26 دسمبر 2004ءکو 9.3 درجے کا زلزلہ پیدا ہوا جس کے نتیجے میں تاریخ کا خوفناک ترین ”سونامی“ آیا جس نے جنوبی ایشیاءکے بہت سے ملکوں کو متاثر کیا۔ اس بے رحم سونامی نے 2لاکھ 30ہزار سے زائد انسانوں کو نگل لےا۔ چےن کے شمالی حصے مےں 23 جنوری 1556ءکو 8درجے کا زلزلہ آیا جس میں ساڑھے 8لاکھ لوگ مارے گئے۔ چین میں ستمبر 1887ءکو ”زرد درےا میں سےلاب“ آنے کے باعث 20لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بےٹھے۔ ”گانسو“ نامی زلزلہ چین میں 16 دسمبر 1920ءکو آےا جس نے 2لاکھ 36ہزار لوگوں کو مردہ بنا دےا۔ چین میں جولائی 1931ءکو ”سنٹرل چائنا فلڈ“ نے 37لاکھ چےنیوں کو ڈبو دیا یا بیماریوں سے ہلاک کردیا۔ بعد میں ہونے والی تحقےقات کے مطابق اس سےلاب سے 25فےصد چےن زےراثر آےا اور 5کروڑ سے زےادہ چےنی متاثر ہوئے۔ چین 28 جولائی 1976ءکے ”تانگ شان زلزلے“ کو نہیں بھولا جس میں 2لاکھ 42ہزار چےنی موت کی نےند سو گئے۔ ان کے علاوہ چند دوسری خونی قدرتی آفات کا ذکر کریں تو ان میں 31مئی 1935ءکا دن کوئٹہ والوں کے لئے قےامت بن کے نمودار ہوا۔ اس دن کے زلزلے نے کوئٹہ مےں رہنے والے ہزاروں لوگوں کو قبرستان پہنچا دیا۔ پاکستان میں 8اکتوبر 2005ءکا دن آنسوﺅں سے بھرا ہوا ہے جب آزاد کشمےر کے زلزلے نے ہزاروں خاندانوں کو اےک سانس میں نگل لیا۔ اس کے نتےجے مےں 1لاکھ سے زائد قےمتی جانےں ضائع ہو گئےں۔ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں پنجاب، خےبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان مےں جولائی 2010ءمےں بدترےن سےلاب آےا جس نے 2کروڑ سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ بلوچستان کے ضلع آواران مےں 24 ستمبر 2013ءکو 7.7درجے کا زلزلہ آےا۔ اس علاقے مےں بہت کم آبادی کے باوجود 1ہزار لوگ مارے گئے جبکہ ہزاروں متاثر ہوئے۔ 25 اپرےل 2015ءکو نیپال میں 8درجے کے زلزلے نے ہزاروں زندگیوں کے چراغ بجھا دےئے اور سیکڑوں مضبوط عمارتوں کو تہس نہس کر دےا۔ مختصر یہ کہ اِن دنوں پاکستان میں سیلاب اور بارشوں نے جو تباہی پھیلانا شروع کی ہے وہ اندازے سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف حصوں میں آنے والے مسلسل زلزلے مستقبل کے لیے خطرناک الرٹ ہیں۔ اِن میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آنے والے مسلسل زلزلے ہیں جن کی گہرائی بہت کم ہے۔ بیشک ان کی شدت ریکٹرسکیل پر کم ہے لیکن خدانخواستہ یہ بڑھ بھی سکتی ہے۔ مندرجہ بالا ذکر کیے گئے نےپال کے زلزلے سے ٹھےک اےک برس پہلے 22 اپرےل 2014ءکو انٹرنےشنل آن لائن مےگزےن foreignpolicy.com نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں لکھا گیا کہ ”موسمی تبدےلےوں سے مستقبل میں دنےا کا ہرکونہ متاثر ہوگا جوکہ گلوبل خوشحالی اور امن کو متاثر کرے گا۔ ےہ اثرات پوری دنےا پر مرتب ہوں گے لےکن ان کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیا کے ممالک پر ہوگا جن مےں افغانستان، بنگلہ دےش، بھوٹان، انڈےا، مالدےپ، نےپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہےں۔ دنےا بھر مےں جو ممالک قدرتی آفات سے سب سے زےادہ متاثر ہوئے ان مےں پہلے نمبر پر جنوبی اےشےا کا خطہ آتا ہے۔ ان ممالک مےں قدرتی آفات کی تباہی کے باعث دنےا کی 30 فےصد معےشت متاثر ہوئی۔ آنے والے برسوں مےں درجہ حرارت بڑھنے سے ان ممالک کے سمندروں مےں پانی کی سطح تقرےباً اےک مےٹر بلند ہو جائے گی جس سے خشکی کا بہت بڑا حصہ سمندر کے نےچے چلا جائے گا“۔ قدرتی آفت بتائے بغےر اچانک آتی ہے جس کا فوری سامنا کرنا امےر ترےن ممالک کے لئے بھی مشکل ہوتا ہے۔ قدرتی آفات کی پیشین گوئیوں کو پڑھےں تو ڈراﺅنے خواب کی طرح ےہ حقےقت سامنے آتی ہے کہ جنوبی اےشےا سب سے زیادہ ان سے متاثر ہوگا۔ ےہ ممالک محنت کش لوگوں کے ملک ہےں جو بڑی مشکل سے اپنا گزربسر کرتے ہےں۔ ےہاں کی حکومتیں بھی غریب ہیں۔ جنوبی ایشیا میں آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بےن الاقوامی امداد کی اپیل کی جاتی ہے۔ دنےا مےں مختلف مقاصد کے لئے مشترکہ سکیورٹی فورس بنانے کا رواج ہے۔ اگراےک نئی تجویز پر غور کےا جائے کہ جنوبی اےشےا کے ممالک مستقبل کی قدرتی آفات سے بچنے کے لئے سارک فورم کی طرح اےک مشترکہ ”رےجنل ڈےزاسٹر مےنجمنٹ فورس“ بنائےں تو اس کا براہِ راست فائدہ خود ان ممالک کو ہوگا۔ ےہ ممالک وسائل کی کمی 
کے باعث اچانک بڑی آفت سے نمٹنے کی انفرادی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ”ریجنل ڈےزاسٹر مینجمنٹ فورس“ کے تحت ےہ ممالک مشترکہ فنڈ، اےک دوسرے کی ٹےکنالوجی، مشترکہ ماہرین اور ایک دوسرے کی افرادی قوت کے تجربات سے فوری ریلیف کی کاروائیاں شروع کرسکیں گے۔ چےن بھی جنوبی اےشےا کے ممالک کا قرےبی ہمساےہ ہے اور وہ خود بھی مستقبل کی قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں مےں سے اےک ہے۔ اس لےے چےن کو بھی ”ریجنل ڈےزاسٹر مینجمنٹ فورس“ میں شامل کرنا چاہےے کیونکہ چین کی ٹےکنالوجی، افرادی قوت اور تجربات سے بے پناہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ چین کی اقتصادی راہداری سے اس خطے کی قسمت بدلنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اقتصادی راہداری کو دوسری حفاظتی تدابیر اور سکیورٹی کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے بچانا بھی ضروری ہوگا۔ اقتصادی راہداری رکھنے والے خطے کے غریب ملکوں کے لیے کم وسائل کی وجہ سے انفرادی حیثیت میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کی ضرورت ہروقت محسوس ہوگی۔

ٹیگز: