دنیا کے ہر خوددار اور باوقار ملک کی پہچان اس کی خارجہ پالیسی سے ہوتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات کو بھی فروغ دے۔ پاکستان، جو ایک ایٹمی طاقت، جغرافیائی لحاظ سے سٹرٹیجک اہمیت کا حامل، اور نظریاتی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہے، اسے سب سے بڑھ کر اپنی خارجہ پالیسی کو خودمختار، فعال اور متوازن بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو عالمی طاقتیں، ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، اسکے نظریاتی اصولوں، عوامی امنگوں اور قومی مفادات کے برخلاف فیصلوں پر مجبور کر سکتی ہیں۔ جن میں اس وقت سب سے اہم چین سے دوری اور ابراہام اکارڈ کا حصہ بننا ہو سکتا ہے۔ یقینا " خارجہ پالیسی کسی ملک کی وہ جامع حکمتِ عملی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ دیگر ممالک، بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد قومی سلامتی، معاشی ترقی، سیاسی وقار اور نظریاتی خودی کا تحفظ ہوتا ہے۔ خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی طاقت پاکستان کو دباؤ، ترغیب یا خوف کے ذریعے ایسے فیصلوں پر مجبور نہ کر سکے جو اس کی قومی سلامتی، نظریاتی تشخص یا عوامی جذبات کے خلاف ہوں۔
پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھتے آئے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا شکار رہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سرد جنگ کے دوران پاکستان نے مغربی بلاک کا انتخاب کیا۔ SEATO اور CENTO جیسے معاہدوں میں شمولیت اور بعد ازاں افغان جہاد میں امریکہ کا اتحادی بننا۔ یہ سب پاکستان کو وقتی طور پر فائدہ مند لگے لیکن طویل المدتی طور پر ان فیصلوں نے ملک کو بدامنی، دہشت گردی اور اقتصادی انحصار کی دلدل میں دھکیل دیا۔
اسی طرح نائن الیون کے بعد "وار آن ٹیرر" میں امریکہ کا اتحادی بننے کے نتیجے میں پاکستان نے نوے ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، ڈیڑھ سو بلین ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا مگر اس سب کے باوجود امریکہ نے بارہا نا صرف پاکستان کی قربانیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا بلکہ امداد بند کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں اور "ڈومور" کے مطالبات پر زور دیا جاتا رہا۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ایک غیر خودمختار خارجہ پالیسی کس طرح ملک کو اندرونی کمزوری، معاشی ناہمواری، اور بین الاقوامی تذلیل کا سامنا کراتی ہے۔
آج دنیا یک قطبی نہیں رہی، جہاں صرف امریکہ کی حکمرانی ہو۔ چین، روس، ترکی، یورپی یونین سب ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی، تزویراتی اور دفاعی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو کسی ایک بلاک یا طاقت کے سائے میں رہنے کے بجائے ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی، جو "سب کے ساتھ دوستی کے اصول پر قائم ہو۔
پاکستان کو ایک آزاد خود مختار خارجہ پالیسی بنانے اور اپنانے کے لئے چند بنیادی شرائط کو بھی پورا کرنا ہو گا۔ جن میں سر فہرست معاشی استحکام ہے۔ چین سے سرمایہ کاری و دفاعی تعاون، خلیجی ممالک سے ترسیلات، یورپ سے تجارت، اور امریکہ سے ٹیکنالوجی کا حصول یہ سب اسی وقت ممکن ہیں جب پاکستان کسی ایک فریق کے لیے مکمل جھکاؤ نہ رکھے اور معاشی طور پہ مضبوط و خود مختار ہو۔
اس سے باوقار انداز میں آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل ہوگا اور صرف اپنے مفادات کے مطابق تعلقات قائم کرے گا۔ نظریاتی تشخص کا تحفظ بھی اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم کشکول توڑ چکے ہوں۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا یا دیگر مسلم دنیا کے مسائل پر بھی پاکستان کھل کر صرف اسی وقت آزادانہ موقف اپنا سکتا ہے، اگر وہ کسی بڑی طاقت یا عالمی اداروں کے دباؤ سے آزاد ہو۔ لیکن جب تک پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا دوست ممالک سے قرض لینا پڑتا ہے، خود مختاری ناپید رہے گی اور کئی ممالک و عالمی اداروں کی سخت ترین خواہشات بھی مقدم رکھنی پڑتی ہیں۔
یہیں یہ نقطہ بھی قابل غور ہے کہ جب تک ملک کے اندر قیادت کمزور، ادارے متنازع، اور عوام بے یقین ہو تو خارجہ پالیسی بھی اتنی ہی غیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لئے وقت آ گیا ہے کہ عوام اور قیادت کو صرف یک نقاطی ایجنڈا سامنے رکھنا ہو گا کہ کشکول توڑ تے ہوئے اب معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہمسایہ دشمن ملک بھارت سے مسلسل خطرات، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی دہشت گردی کے دباؤ کے باعث اکثر پاکستان فوری دفاعی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتی فیصلے کرتا ہے۔ مگر اب پاکستان کو دیرپا فیصلے کرنا ہوں گے۔ جن میں ترجیح صرف اور صرف ملکی سالمیت اور عوامی فلاح ہو گی۔
اس لئے جیسا کہ اوپر لکھا کہ خارجہ پالیسی کی خودمختاری کا پہلا زینہ معاشی خودکفالت ہے۔ سو پاکستان کو چاہئے کہ برآمدات بڑھائے، زراعت اور صنعت کو فروغ دے، ٹیکس نظام بہتر کرے، اور بیرونی امداد و قرضوں پر انحصار کم کرے۔ جب اپنے وسائل سے ملک آگے بڑھے گا، قوم خوشحال ہو گی تو ہم خود مختار بنیں گے اور پھر کسی کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ پاکستان پر اپنے فیصلے مسلط کر سکے۔ خارجہ پالیسی کو صرف حکومتِ وقت نہیں بلکہ پوری قوم، پارلیمنٹ، فوج، اور سول سوسائٹی کے اتفاق سے تشکیل دینا ہوگا۔ جیسے ایران، چین یا ترکی میں ہوتا ہے، ویسے ہی پاکستان کو بھی ایک مشترکہ قومی بیانیہ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کو صرف امریکہ یا چین پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ افریقہ، لاطینی امریکہ، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی اپنی موجودگی بڑھانی چاہیے۔ سفارت خانوں کو تجارتی و تکنیکی مراکز بنایا جائے۔ ہر ملک میں موجود سفیر اور تجارتی افسران کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ وہاں کی حکومتوں سے مل کر ایسے مواقع تلاش کریں جن میں باہمی تجارت کا فروغ ممکن ہو۔ جس ملک میں موجود سفیر و عملہ یہ کرنے میں ناکام رہے اسے فی الفور عہدے سے ہٹا کر نیا سفیر تعینات کریں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تعلیمی میدان میں خودمختار ہوگا تو وہ عالمی سطح پر بہتر سودے بازی کر سکے گا۔ بے شک طاقت صرف ہتھیاروں سے ہی نہیں بلکہ جاپان، جرمنی کوریا کی طرح علم اور ٹیکنالوجی سے بھی طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔
پاکستانی حکومت اور عوام کو اب اس نازک موڑ پر ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی خارجہ پالیسی خود بنائیں گے؟ یا ہمیشہ دوسروں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کے فیصلے مانتے رہیں گے؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ فلسطین کا مؤقف بلند آواز میں دنیا کے سامنے رکھیں، کشمیر پر کسی سمجھوتے کے بغیر ڈٹے رہیں، اپنی سرزمین پر غیر ملکی مفادات کے بجائے اپنے مفادات کی حفاظت کریں تو ہمیں ہر قیمت پر ایک خودمختار، متوازن، اور باوقار خارجہ پالیسی اپنانی ہوگی۔
یاد رہے کہ دنیا صرف اسی ملک یا قوم کا احترام کرتی ہے جو اپنے فیصلے خود کرنے کی جرات رکھتا ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو اسی جرأت، حکمت اور عزم کے ساتھ نئی خارجہ پالیسی تشکیل دینی ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو اس کے قومی مفاد، نظریاتی اصول، اور عوامی امنگوں کی محافظ ہو، نہ کہ کسی عالمی طاقت کے دباؤ یا لالچ کی مرہونِ منت۔