Wed, September 16, 2026

ٹرمپ سے پی ٹی آئی کی توقعات

ٹرمپ سے پی ٹی آئی کی توقعات

ٹرمپ کے صدربننے سے تحریکِ انصاف کا امریکہ مخالف بیانیہ دم توڑ چکا ہے حالانکہ جوبائیڈن دورمیں عمران خان کا موقف تھا کہ پی ڈی ایم کی پیش کی گئی عدمِ اعتماد کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی کا ذمہ دار امریکہ ہے مگراب تحریکِ انصاف نے ٹرمپ سے امیدیں وابستہ کر لی ہےں اور کارکنوں کی اکثریت سے لیکراکثررہنما تک کہتے نظر آتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی مشکلات ٹرمپ کی مداخلت سے کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہیں اِس بیانیے کو ٹرمپ کی قریبی شخصیات کی طرف سے عمران خان کے حق میں سوشل میڈیاپر بیان بازی سے بھی تقویت ملی اور بظاہر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید ٹرمپ حکومتِ پاکستان سے عمران خان کی رہائی ، نئے انتخابات کرانے اور اقتدارپی ٹی آئی کادینے کامطالبہ کرنے والے ہیں مقامِ افسوس یہ کہ حکومتی حلقوں میں بھی کچھ سراسمیگی بھی نظر آئی حالانکہ میرا شروع سے موقف رہا ہے کہ خواہ کتنی ہی بڑی سے بڑی عالمی طاقت ہووہ اب سرِ عام کسی ملک میں تبدیلی لاکر عوامی نفرت مول نہیں لے سکتی ایران سے لیکر افغانستان تک امریکہ کو تو ایسے اقدامات کے نتائج کا بخوبی تجربہ ہو چکا ہے لہٰذا میرے خیال میں پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے وابستہ توقعات کاپوراہونا ممکن نہیں کیونکہ تعلقات میں کسی حد تک سردمہری کے باوجود پاکستان جیسے جوہری ملک کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتاچہ جائے کہ عوامی رائے کے برعکس تبدیلی لانے کی حماقت کردی جائے امریکہ چاہے گاکہ بو وقت ِ ضرورت کام لینے کے لیے کسی ایک پر انحصار کی بجائے تمام دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھائے ۔
ہر ملک میں تبدیلی اقتدار کے اپنے قوانین اور طریقہ کار ہوتا ہے قوانین اور طریقہ کارروند کرلائی جانے والی تبدیلی سے عوامی غیض و غضب کی راہ ہموارہوتی ہے اسی لیے اپنے حمایتی سیاستدانوں کو اقتدار میں لانے کی درپردہ کوششوں کے باوجودقوانین سے بالاتر تبدیلی کامطالبہ نہیں کیاجاسکتا مگر عمران خان نے کمال مہارت سے عوامی حلقوں کو باور کرادیا کہ اُن کی حکومت کا خاتمہ اور اقتدار سے محرومی دراصل امریکی مخالفت کاشاخسانہ ہے دلیل کے طورپر جلسوں میں ایک عدد سائفربھی لہراتے رہے لیکن اب کوئی شائبہ نہیں رہا کہ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی عدمِ اعتماد کی مخالفت کرنے کی بجائے اِدارے غیرجانبداررہے دراصل عمران خان نے بطوروزیرِ اعظم کئی ایسی فاش غلطیا ں کیں جن کی وجہ سے اُن کی ذات ناقابلِ اعتبار ہوئی اسی بناپر مختلف اِداروں کے سربراہ حمایت سے دستکش ہو گئے لہٰذا کیونکر کوئی ملک ایسے شخص کو دوبارہ اقتدار میں لانے کاغیر حقیقی مطالبہ کر سکتا ہے جب تبدیلی کے قوانین اور طریقہ کارمیں ایسی کوئی گنجائش نہ ہو نیز اِداروں میں اُس کے متعلق نفرت موجود ہو؟
وزیرِ اعظم بننے کے لیے ممبرقومی اسمبلی ہونا ضروری ہے لیکن اِس وقت عمران خان ممبر قومی اسمبلی نہیں اگر وقتی طور پر یہ تسلیم کربھی لیا جائے کہ امریکہ ایسا کوئی مطالبہ کر سکتا ہے تو جب ایک شخص ممبر قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ سزا یافتہ ہے توجیل میں بند ایک شخص کی سزا ختم کرنے اور وزیرِ اعظم کا منصب سونپنے کا مشکل مطالبہ کوئی ہوش مند کر ہی نہیں سکتا کیونکہ ملکی قوانین اور طریقہ کار ایسی کسی تبدیلی کی نفی کرتے ہیں توپھر کیوں ایسامطالبہ کیاجائے گا جس سے نہ صرف تعاون کی موجود ہ سطح متاثر ہو بلکہ دونوں ممالک میں خلیج کوبڑھاواملے۔
 حکومت اوراِدارے تو پھر بھی کسی حد تک امریکی مفاد میں تعاون کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا ایک مظاہرہ تو افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ملزم کی حوالگی سے ہو چکا مگر جیل میں بند بانی چیئرمین اور اِداروں کی معتوب جماعت ایسا کچھ کرنے کی سکت نہیں رکھتی اگر یہ تسلیم کربھی لیں کہ اقتدار میں آتے ہی وہ اِس سے زیادہ تابعداری کریں گے تو یہ اِس بناپر غیر ممکن اور غیر حقیقی لگتا ہے کہ عمران خان یا اُن کی جماعت پی ٹی آئی جس حد تک امریکہ کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کر چکی ہے اِ س تناظر میں امریکہ اُن پر اعتماد کرہی نہیں سکتا اِن حالات میں یہی بہتر ہے کہ حکومت اور مقتدرہ سے بنا کر رکھے اور دہشت گردی میں تعاون حاصل کرے مطلوب دہشت گردکی گرفتاری اور امریکہ حوالگی واقعہ پر ٹرمپ کااظہارِ تشکر بہت کچھ سمجھا دیتا ہے اگر بندہ حماقت کاگھوڑا سرپٹ نہ دوڑارہاہوتو۔
اقتدار کی تبدیلی کے باوجود دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے وہ افغانستان میں اپنا چھوڑا گیا اسلحہ واپس لینا چاہتا ہے جس کا ٹرمپ کی طرف سے ایک سے زائد بار اظہارہوچکا جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اُسے جس دہشت گردی کی شدید لہر کاآجکل سامنا ہے اُس کی وجہ بھی امریکہ کا وہی اسلحہ ہے جو انخلا کے وقت امریکی فوج چھوڑ گئی اور اب دہشت گردگروہوں کے زیرِ استعمال میں ہے ۔
چین و امریکہ مسابقت عروج پر ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجارتی سامان پر محصولات بڑھانے کی روش پرگامزن ہیں چین جس تیزی سے اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کررہاہے وہ ساری دنیا کو بخوبی معلوم ہے توکیسے ممکن ہے کہ امریکہ ایسی تیاریوں سے لاعلم ہوبلکہ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ چین پر نظر رکھنے کے لیے افغان ایئربیس بگرام کا طالبان سے کنٹرول واپس لیا جائے خیر ایسی کسی کوشش میں تو شاید پاکستان ساتھ نہ دے کیونکہ پاک چین شراکت داری اب تمام شعبوں تک وسعت اختیار کر چکی ہے علاوہ ازیں بھارت دشمنی دونوں ممالک میں ایسی قدر مشترک ہے جس کی بناپرپرپاک چین دوطرفہ تعاون فروغ پذیرہے اِس لیے یہ تو ممکن نہیں کہ پاکستان کسی چین مخالف سرگرمی کا حصہ بنے مگر اِس کے باوجود امریکہ نہیں چاہے گا کہ امریکہ وچین میں براہ راست ٹکراﺅ کی نوبت آئے ایسی صورتحال اگر پیداہوتی ہے تو پاکستان ہی وہ واحد ملک ہوسکتاہے جو دونوں میں سلسلہ جنبانی کی بساط بچھانے میں مددفراہم کرنے کے ساتھ کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کر سکتا ہے تومذکورہ حالات کے تناظرمیں اگر عمران خان کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں کوئی ہمدردی کی رمق ہے بھی تو طویل مدتی مقاصد کو محض ایک شخص کے لیے تعلقات خراب کرناپسند نہیں کرے گی اصل بات یہ ہے کہ امریکی سینٹریاکسی اہم سیاسی شخصیت سے عطیات کے عوض حمایت میں بیان حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں کیونکہ امریکی سیاست میں عطیات کومعیوب تصورنہیں کیا جاتاریاستوں کے مابین تعلقات مفاد کے تابع ہوتے ہیں جوکسی شخصیت پر قربان نہیں کیے جا سکتے یہ سمجھنے کے لیے یوکرینی صدر زیلنسکی کی اوول آفس میں عزت افرائی عمدہ مثال ہے۔

ٹیگز: