Wed, September 16, 2026

سٹریٹ موومنٹ یاتبدیلی کاکمال....؟

سٹریٹ موومنٹ یاتبدیلی کاکمال....؟

لوگ کہتے ہیں مرشدجیل میں ہویاجھیل میں، مریددن کیا۔؟راتوں کوبھی بے قراررہتے ہیں پرہمارامرشدتونہ جیل میں ہے اورنہ کسی جھیل میں لیکن اس کی یادمیں ہم پھربھی بے قراررہتے ہیں۔ ہردوسرے دن ہم مرشدکی آن لائن دعائیں نہ لیں توہمیں چین نہیں آتا۔پیرخالدقاسمی یہ ہمارے بچپن کے یاراورایک زمانے میںشرارتوں کے استادرہے ہیں۔یہ اب جس طرح ہمیں پریشانیوں سے نکلنے کے وظائف بتاتے ہیں ایسے ہی یہ بچپن میں ہمیں مشکلات سے بچنے کے نت نئے طریقے اورگر سکھایاکرتے تھے۔ہمیں آج بھی یادہے مرشد کی ہدایت پرہم نے دس بارنانی کی فوتگی کے بہانے مدرسے سے چھٹیاں لیں۔ آخر جب استاد جی نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ او ظالمو۔ ایک نانی کو کتنی بار مارنا اور قبر میں اتارنا ہے۔ تب ہم نے نانی کی جان بخشتے ہوئے اس بہانے مزیدچھٹیاں لینے سے انکار کیا۔ ایسے گراورہنرسکھانے کے علاوہ بھی مرشدکے ہم پر بڑے احسانات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ مادہ پرستی اورنفسانفسی کے اس دورمیں بھی وہ ہمیں نہیں بھولے ہیں۔ دوسری شادی کےلئے کراچی جانے کی طرح تبلیغی چلہ پرجانے سے پہلے بھی صاحب حالت خواب میں ہم سے رخصت لیکرچالیس دن کے لئے ایسے غائب ہوئے کہ ہمیں خبرہی نہ ہوئی۔ ہم اگرشہرکی روشنیوں میں گم اور کھوکررابطہ نہ کریں تویہ خودفون کرکے حال احوال دریافت کرلیتے ہیں۔کچھ دن پہلے کال کر کے پیرصاحب باتوں باتوں میں اپنے ایک مرید مولانا مومن شاہ جوگاو¿ں میں ہی رہتے ہیں اورایک مذہبی جماعت کے سرکردہ رہنما ہونے کے ساتھ اب خودایک بڑے پیرکے درجے پربھی فائزہوچکے ہیں کے بارے میں گلہ کرنے لگے کہ شاہ صاحب کوایک چھوٹے سے کام کاکہاتھامگرتیرہ دن میں بھی اس نے وہ کام نہیں کیا۔ تیرہ کا لفظ سنتے ہی ہم نے فوراً ایک قہقہ لگاتے ہوئے کہاکہ مرشد آپ بھی بڑے سادہ ہیں۔ اس صوبے میں اگلوں نے تیرہ سال میں کچھ نہیں کیا اور آپ تیرہ دن کا رونا رو رہے ہیں۔ تیرہ سال یہ ایک بہت بڑا عرصہ ہے۔ کام کرنے والے لوگ سال نہیں دن اورمہینوں میں بھی ایسے ایسے کام کرجاتے ہیں کہ دنیاحیران رہ جاتی ہے لیکن دل میں ہی اگرکام نہ کرنے کاپکاارادہ ہو توپھروہ گاو¿ں کے پیرہویااڈیالہ کے مرشد تیرہ دن اورتیرہ سال میں بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ وہ جو اب نہیں تو کب، ہم نہیں توکون کے نعرے لگارہے تھے خیبرپختونخوامیں ان کے تیرہ سال ہوگئے ہیں لیکن ان تیرہ سالوں میں اس صوبے کے اندر تباہی اور بربادی کے سواکچھ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی والے اب نہیں توکب اورہم نہیں توکون کے نعرے لگانے کے بجائے ایک پانچ سالے میں ہی اگرکمرکس کر کچھ کرتے توآج انہیں مردہ سیاسی گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے سٹریٹ موومنٹ کے ڈرامے کرنے کی ضرورت اورنوبت کبھی پیش نہ آتی۔ایک طرف صوبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے۔بدامنی کے واقعات روزبروزبڑھتے اوربادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔دوسری طرف مہنگائی نے عوام کاجیناایساحرام کیاہواہے کہ اللہ کی پناہ۔صوبے میںبیس کلوآٹے کے ایک تھیلے کی قیمت ایک بارپھرتین ہزارروپے تک پہنچ چکی ہے۔اس کے علاوہ دیگراشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ترقیاتی کاموں کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں۔ پہلے پھربھی تھوڑے بہت ترقیاتی کام ہوتے تھے اب تویہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہوکررہ گیاہے۔لوگ سمجھ رہے تھے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بعدسہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے سے صوبے اورعوام کے حالات بدل جائیں گے لیکن افسوس وزارت اعلیٰ کے منصب وکرسی پرچہروں اورناموں کی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کی جانب سے ایساکوئی اقدام تو نظر نہیں آ رہا جو اس صاحب نے صوبے کی ترقی اور عوامی مفاد کے لئے اٹھایا ہو لیکن بادشاہ سلامت کے لاہور اور کراچی کے چکر سب کو یاد ہے۔ صوبہ مہنگائی،غربت اور بیروزگاری کے ساتھ بدامنی کی آگ میں جل رہاہے مگر کپتان کے کھلاڑیوں کوسیاست سیاست کھیلنے سے فرصت نہیں۔ کپتان کے نام نہاد و نامراد عاشقوں نے ”عشق کپتان“ کا ڈھنڈورا پیٹ اور ڈرامہ رچا کرنہ صرف ایک پورے صوبے کوتباہ کر دیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کی سیاست کوبھی داو¿ پر لگا دیا ہے۔ کیا عوام کوترقی سے دوراورصوبے کوتباہی کے دہانے پر پہنچانے کا نام ”عشق کپتان“ ہے۔؟ کپتان اور لیڈر اگرجیل میں ہو تو کیا ملک اور صوبے کے اندر ترقی کا عمل پھر آگے نہیں بڑھتا۔؟ اس ملک میںن لیگ اورپیپلزپارٹی کے لیڈربھی تو گرفتار ہوئے اور بار بار قیدہوئے۔ میاں نوازشریف اور آصف زرداری بھی توکافی عرصے تک جیل میں رہے۔ ان دونوں کی گرفتاری اورقیدسے کیاملک میں کہیں ترقی کاعمل رک گیاتھا۔تحریک انصاف کے کارکن اورکپتان کے کھلاڑی اپنے لیڈروکپتان کی رہائی کے لئے ایک نہیں ہزار بار احتجاج، مظاہرے، دھرنے، جدوجہداورکوشش کریں لیکن عوام اورترقی کوبھی نہ بھولیں۔خیبرپختونخوا میں اگر تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہو گی توناکامی کایہ ملبہ سیدھاکپتان کے سرگرے گااوریہ ایک صوبائی حکومت کی نہیں بلکہ پی ٹی آئی اورعمران خان کی ناکامی شمارہوگی۔عوام میں پی ٹی آئی کوناکام وبدنام کرنے سے توکپتان جیل سے باہرنہیں آئیں گے۔کھلاڑی اگرواقعی سنجیدہ اورمخلص ہیں کہ عوام اورایوان میں ان کانام گونجے تواس کے لئے انہیں ایساکچھ کرناپڑے گاکہ جس پرلوگ تھوتھوکرنے کے بجائے واہ واہ کردیں۔تیرہ سال اگریہ احتجاج، مظاہروں، دھرنوں اوردوسروں کوگالیاں دینے پر ضائع نہ کرتے توآج انہیں گلیوں میں نہ آنا پڑتا۔ گلیوں میں تو وہی لوگ آتے ہیں جن کے ہاتھ اور دامن میں کچھ نہ ہو۔کیاتحریک انصاف کے ہاتھ اوردامن میں واقعی کچھ نہیں۔

ٹیگز: