مذاکرات کی ہَوا چلی اور بند ہو گئی، پھر وہی حبس، لُو کی دعائیں، ایک دو تین چار پانچ کو میز پر بٹھانے کی کوششیں بیل منڈھے نہ چڑھ پائی، چوتھا مسلسل انکاری، پانچواں چوتھے کے ماضی اور حال سے بیزار، اپنے فرائض منصبی میں دن رات مصروف، وطن پاک کے دشمنوں کا صفایا کرنے میں مگن، اپنی مہارت، تجربے، حب الوطنی اور اللہ کی غیبی مدد سے دشمنوں کو وہ مار لگائی کہ وہ اب تک اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ چوتھا مسلسل صدمات سے نڈھال، ”وہ صدمے سہے ہیں کہ خدا جانتا ہے“ ڈھائی سال ہونے کو آئے قید میں ہے ”کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی“ ملاقاتیں بند، رابطے ختم، کس سے دل کی بات کہیں، دکھڑے روئیں۔ ”دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے، ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے“ جن تک یہ خبر پہنچی انہوں نے اسے ڈھونگ قرار دیا، ملاقاتیں 8 فروری (یوم سیاہ) تک بند، خواجہ آصف نے کہا رویہ بدلو ”کیسے بدلیں پوتروں کے بگڑے، آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے“ جیل سے باہر منگل شو لگانے والوں کا علاج واٹر کینن سے غسل صحت، علیمہ باجی کا اسلامی ٹچ، سورة یاسین کے بعد ختم قرآن کا ورد، ”دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں“ نک دا کوکا پر رقص کرنے والے ”یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے“ معروف تجزیہ کار سعد چودھری نے مومن خان مومن کا شعر سنایا ”چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومن، جب دئیے رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا“ ملاقاتوں اور مذاکرات سے مایوس ”بڑے خان صاحب“ نے کسی طرح پیغامات باہر پہنچائے مذاکرات نہیں رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ تیز کرو، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پنجاب میں ناکام ہو کر عازم کراچی ہوئے پیپلز پارٹی نے ٹوپی کرا دی معاف کیجئے اس کے سینئر وزیر سعید غنی نے ایئر پورٹ پہنچ کر سندھی ٹوپی اور اجرک پہنائی پولیس سکواڈ حفاظت پر مامور، ملک بھر سے سب سے زیادہ پختون کراچی میں ہیں۔ انہوں نے ڈھول تاشوں سے استقبال کیا۔ اپنے چینلز نے شور مچایا، 16 میل لمبا جلوس عوام کا سمندر اُمڈ آیا، ایک عینی شاہد نے قسم کھا کر کہا ایئر پورٹ پر ڈھائی تین سو افراد تھے ایئر پورٹ سے باہر آئے جلوس میں اتنے ہی اور شامل ہو گئے۔ ویلاگرز نے شور مچا دیا۔ خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ پنڈی اسلام آباد میں پریشانی، ایک ویلاگر دور کی کوڑی لائے سہیل آفریدی اور بلاول میں خفیہ ملاقات، رہائی کب ہو گی، دوسرے نے گرہ لگائی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا ہو گئیں، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنائےں گی۔ ”کیا واقعی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی گزشتہ منگل کی تند و تیز پریس بریفنگ کے بعد بھی ایسی خبریں درخور اعتنا سمجھی جائیں گی؟“ وزیر اعلیٰ اپنی برادری سے ملاقاتوں، صحافیوں سے بات چیت اور اجتماعات کے ذریعے 8 فروری کو یوم سیاہ کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، نہیں جانتے کہ پیپلز پارٹی نے انہیں پنجاب کے برعکس توقیر دی ہے حمایت نہیں کی۔ پی ٹی آئی کے رہنما شوکت بسرا کی ایک ٹوئٹ نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ سندھ حکومت کی عزت افزائی کا شکریہ لیکن اس بات کو نظر انداز نہ کیا جائے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک ہی ہتھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک سیانے نے سیانی بات کی کہ پنجاب میں پابند پروٹوکول اور سندھ میں پابندیوں سے آزاد پروٹوکول کے ذریعہ اس بات کا اندازہ لگانا مقصد ہے کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو ملک بند کرنے، ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کے لیے کتنا ہجوم اکٹھا کر سکتی ہے، جس کے بعد سخت فیصلے کیے جائیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بعد مستعار لیڈرز بھی قسمت آزمانے لاہور وارد ہوئے۔ گجرات میں مختصر سے قافلے پر ”حملہ“ ہو گیا ایک یوتھئے نے آواز لگائی حملہ پرویز الٰہی نے کرایا ہے۔ گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، سرد ہواﺅں سے ٹھٹھرتا قافلہ زمان پارک
میں پناہ گزیں ہوا۔ جہاں محمود اچکزئی نے روایتی چادر لپیٹی (اسی چادر کا مذاق خان نے بھرے جلسہ میں اڑایا تھا) اور اعلان کیا کہ ”ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں آﺅ ہمارے ساتھ چلو“ جس حکومت کو جعلی اور ظالم قرار دیتے ہیں اسی حکومت کے بانی سربراہ نواز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، اللہ سیدھے راستہ پر چلائے، مزے کی بات اپنی ناکامیوں کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈال دیا بولے، ”لاکھوں لوگ خان کے گن گاتے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹی کے بیس لوگ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے، سروے آ گیا۔ فوج کی کارکردگی پر مطمئن افراد کی تعداد میں اضافہ، حکومت کی کارکردگی پر 40 فیصد شہریوں کا اظہار اطمینان، ن لیگ کی مقبولیت 9 فیصد بڑھ گئی جبکہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے باوجود ذرائع کے حوالے سے یہ خبر عام کی گئی کہ موجودہ وفاقی اتحادی حکومت کو معیشت، مہنگائی اور دیگر شعبوںمیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 6 ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، بصورت دیگر کابینہ میں یا وزیر اعظم کی تبدیلی ہو سکتی ہے جبکہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ونڈر بوائے کی تلاش کی جگہ ونڈر فل بوائے سے کہا گیا ہے کہ وہ بجٹ تک اپنی کارکردگی دکھائیں تاکہ خواجہ آصف کے بقول آئندہ چھ ماہ میں آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل کی جا سکے مبینہ طور پر طاقتور طبقہ حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں، معیشت درست سمت میں چلنے کے باوجود بڑے سرکاری اداروں کا خسارہ 300 فیصد بڑھ گیا جس سے قومی خزانے کو 23 ارب کا جھٹکا لگا ہے، اقدامات سے عوام کو ریلیف نہیں ملا جو سنجیدگی سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی عدم استحکام پر توجہ کی ضرورت ہے سیاسی استحکام سے متعدد ممالک کی جانب سے اربوں کی سرمایہ کاری کے وعدوں پر عملدرآمد ممکن ہو سکے گا، ادھر بنی گالہ کی نیلامی کی خبریں آ رہی ہیں راولپنڈی کے اسسٹنٹ کمشنر کا اشتہار شائع ہوا ہے کہ بنی گالہ کی 248 کنال 8 مرلے اور 405 کنال 3 مرلے اراضی جو فرح گوگی اور بشریٰ بی بی کے نام ہے نیلام کی جائے گی۔ بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر یہ اراضی بطور رشوت لی، فرح گوگی مفرور ہے اور بشریٰ بی بی 10 سال قید کاٹ رہی ہیں۔