Wed, September 16, 2026

سرد موسم اور انسانی رویے

سرد موسم اور انسانی رویے

چوپال سجی ہوئی تھی، ماحول میں الاﺅ کی وجہ سے خاصی گرمی تھی اورکسی کو بھی باہر کے خون جمادینے والے سرد ماحول سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ، گرم چادر اوڑھے چوپال میں داخل ہوئے۔ سب احترام سے کھڑے ہوگئے ، چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ دیا۔نتھو، پتھو نے کہا چپ سائیں جی آج تو یہاں ماحول بہت گرم اور باہر انتہائی سرد ہے۔ اس پر چاچا رفیق فورا بولے بچوں میرے پاس آپ کوبتانے کے لیے آج کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔سب چاچا رفیق کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ بات کہاں سے شروع کرتے ہیں۔چپ سائیں نے بولنے کا اشارہ دیا۔ 
چاچا رفیق نے کہا میرے چوپال کے بھائیو اور دوستو، ،کل انتہائی سرد رات تھی۔ میں اپنے بیٹے اور پوتے کے ساتھ گاڑی میں کسی تقریب سے آ رہا تھا۔ رات کوئی گیارہ بجے کا وقت ہو گا۔۔۔ میرے بیٹے نے گاڑی اشارے پر روکی۔۔۔ گاڑی سے باہر نظر پڑے تو ایک بارہ ، تیرہ برس کا بچہ سردی سے ٹھٹھررہا تھا، وہ ننگے پاﺅں تھا، اس وجہ سے سردی کچھ زیادہ ہی لگ رہی تھی۔ میرے پوتے کا دل پسیج گیا۔۔ بولا داد جی اور بابا اگر آپ کہیں تو میں اس بچے کو اپنی جوتا دے دوں۔۔ میں تو گاڑی میں ہوںاور گھر میں میرے پاس بہت سے جوتے ہیں لیکن یہ بچہ تو ننگے پاﺅں ہے اور سردی بہت ہے۔۔۔ ہم سب بڑوں نے اس کی تعریف کی اور کہا کہ فورا دے دو۔۔ یہ کہہ کر اس نے گاڑی کاشیشہ نیچے کیا اور بچے کو اشارہ کیا۔۔ وہ گاڑی کی طرف لپکا۔۔۔ چوپال کے دوستو میرے پوتے نے جوتا اس کی طرف بڑھادیا۔۔ بچے نے فورا جوتا پہنا اور شکر گزار نظروں سے دیکھا۔۔۔ دل ہی دل میںمیں دعائیں دینے لگا۔۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر ہم سب بھی بہت خوش ہوئے، میرے بیٹے نے کھانے کی کچھ چیزیں بھی اس کو دیں اور ہم چلے بنے۔۔ چاچا رفیق بولے۔۔ بھائیو بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔۔۔ دو روز قبل بھی انتہائی سرد رات تھی۔۔۔حتی کہ میں نے ایک دوسویٹر اور ایک جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن سردی محسوس کررہا تھا۔۔۔ ایک مصروف چوک سے گزرا تو۔۔۔ ایک اپنی عمر کے شخص کو فٹ پاتھ پر بیٹھا پایا۔۔ وہ گدڑی لپیٹ کر بیٹھا 
ہوا تھا۔۔ بال اٹے ہوئے تھے لیکن سردی سے کانپ رہاتھا۔۔ میں ایک لمحے کے لیے رک گیا۔۔ دو تین منٹ اس مفلوک حال شخص کو دیکھا۔۔ پھر اپنی جیکٹ اتاری اور اس شخص کی طرف بڑھائی، اس نے جھٹ سے پہنی اور بہت خوش ہوا۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کے جذبات کو محسوس کرسکتے تھے لیکن الفاظ نہیں تھے۔۔۔ چوپال کے دوستو یہ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور نیکیاں ہیں جو اس سرد موسم میں بھی ہم کرسکتے ہیں۔۔ میں تو بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا دھیان اس طرح نہیں جاتا اور ہم زمانے کی تیزی کی وجہ سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔ چپ سائیں چاچا رفیق کی بات سن کر زیر لب مسکرائے اب سب ان کے بولنے کے منتظر تھے۔
توقف کے بعد چپ سائیں بولے۔۔ بھئی رفیق وا ہ واہ بھئی آپ نے تو کمال کردیا۔۔۔ ہم سب کو اپنے اندر اس قسم کے احساس اور جذبات کو اجاگر کرنا چاہئے کیونکہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بڑی آسائش کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ دوستو موسم اگرچہ بہت سرد ہے لیکن جذبات کو سرد نہیں کرنا چاہئے۔ احساسات میں انتہائی گرم جوشی ہونی چاہئے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے۔دوستو! آج اس حوالے سے تھوڑی بات کرتا ہوںکہ سرد موسم، جسے ہم عام طور پر موسمِ سرما کے نام سے جانتے ہیں، نہ صرف فطرت میں تبدیلی لاتا ہے بلکہ انسانی رویوں، جذبات اور طرزِ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دن چھوٹے، راتیں لمبی، اور ہوا میں ایک مخصوص سرسراہٹ آ جاتی ہے، جو انسان کے جسم، دماغ اور احساسات کو متاثر کرتی ہے۔
سرد موسم کا سب سے نمایاں اثر انسانی مزاج اور ذہنی کیفیت پر پڑتا ہے۔ دن کے چھوٹے ہونے اور روشنی کی کمی کی وجہ سے بعض افراد میں اداسی یا افسردگی کے آثار نمودار ہو سکتے ہیں، جسے سائنس میں سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر یعنی ”سیڈ“ کہا جاتا ہے۔بعض افراد سست روی اور کم توجہ کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس خاموشی کو تخلیقی اور مطالعہ کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔سرد موسم انسان کے جسمانی رویوں کو بھی متاثر کرتا ہے ،خون کی گردش میں کمی اور جسمانی توانائی میں کمی اکثر محسوس کی جاتی ہے۔لوگ زیادہ آرام طلب ہو جاتے ہیں اور بیرونی سرگرمیوں میں کمی آ جاتی ہے۔سستی کے اثرات کے ساتھ ساتھ کچھ افراد ورزش یا دیگر جسمانی سرگرمیوں میں کمی محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، لمبی راتیں اور کم شور کچھ لوگوں کے لیے ذہنی سکون اور تخلیقی صلاحیت بڑھانے کا موقع بن سکتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سرد موسم انسان کو گھر کے اندر محدود کر دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سماجی تعلقات اور خاندانی میل جول کو فروغ بھی دیتا ہے ،لوگ زیادہ تر خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے لگتے ہیں۔ چائے یا کافی کے گرد بیٹھ کر کہانیاں سنانا اور یادیں تازہ کرنا، سرد موسم کی ایک خوبصورت روایت ہے۔تہوار، میلوں اور خوشیوں کا موسم، خاص طور پر سردیوں میں، انسانی رویے میں خوش مزاجی اور اجتماعیت پیدا کرتا ہے۔سرد موسم انسان کی خوراک اور روزمرہ عادات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ صاحبو!لوگ زیادہ کیلوری والی اور حرارت پیدا کرنے والی غذا¶ں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔یہ عادات جسمانی حرارت اور توانائی میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن کبھی کبھار وزن بڑھنے اور سستی کا سبب بھی بنتی ہیں۔گھر میں زیادہ وقت گزارنے اور کم حرکی سرگرمی کی وجہ سے انسان زیادہ آرام طلب ہو جاتا ہے۔سردی انسانی رویے پر نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اثرات بھی ڈالتی ہے مزاج میں تبدیلی، سستی، یا خوشگوار سکون پیدا ہونا عام ہے، بعض افراد تنہائی میں گھلنے مِلنے کی بجائے اپنے خیالات میں ڈوب جاتے ہیں، جو خود شناسی اور غور و فکر کا سبب بن سکتا ہے۔
اجتماعی رویے میں، لوگ دوسروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں، کیونکہ سردی کے موسم میں مشترکہ سرگرمیاں محدود لیکن یادگار ہوتی ہیں۔صاحبو ! قابل غور بات یہ ہے کہ سرد موسم صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک جذباتی، جسمانی اور سماجی تجربہ بھی ہے۔ جو لوگ اس موسم کے حسن اور اثرات کو سمجھ کر اپنے رویوں کو ڈھالتے ہیں، وہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی سکون اور خوش مزاجی حاصل کرتے ہیں۔ سردی کی نرم ہوا، سرسراہتی ہوائیں، اور مدھم دھوپ دراصل انسانی جذبات کو بھی جھنجھوڑتی ہیں، اور یاد دلاتی ہیں کہ ہر موسم کے ساتھ رویے بدلتے ہیں، اور ہر تبدیلی میں خوبصورتی چھپی ہوتی ہے، لہذا سردی کی سختی سے سخت مزاج ہونے کی بجائے ضرورت مندوں کی گزرتے ہوئے دلجوئی کریں اور سراپا گرمی جوشی محسوس کریں۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: