شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے فرمایاتھا کہ۔۔
کھول آنکھ زمیں دیکھ،فلک دیکھ،فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں
یہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیں
ہم نے جب بھی آنکھیں کھولیں تو ہمیں سورج کی تب وتاب اور رعنائی ہمیشہ مغرب میں ہی دکھائی دی۔وجہ معلوم سب کو لیکن ہماری میراث ہمیں مغرب میں ہی نظرآئی،وہیں پڑھائی جاتی رہی وہیں پھلتی پھولتی رہی۔ہمارے حصے میں یہاں ایک دوسرے سے نفرت رہی۔رواداری کی کمی رہی۔دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ ہی سرے سے ختم رہااور پھر دوسرے کی ترقی سے جلنے کی مشقت، ہم سب بڑی خوشی سے سہنے کے عادی بنے۔ حسد ہم سب جانتے ہیں کہ نیکیوں کو کھاجاتا ہے لیکن ہم خوشی سے اپنی نیکیوں کو اس آگ کی نظر کرنے کے ”پرانے پاپی “ہم علم وایجادات سے خود کو پرے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا بزنس دل جمی سے کرتے آئے ہیں لیکن اب دنیا ڈیجیٹل ہے۔گلوبل ویلج حقیقت کا روپ دھارے ہمارے سامنے بیٹھا ہے۔ہمیں چیلنج کررہا ہے کہ آو¿ میرے ساتھ چلو۔نہیں چلو گے تو اب صرف پیچھے نہیں رہوگے بلکہ ۔۔تمہاری داستاں نہ ہوگی داستانوں میں۔۔
اب ہمیں اپنی داستان لکھنی ہے۔ہماری نئی نسل جنریشن زیڈ تو یہی ٹیکنالوجی کی زبان سمجھتی ہے۔ٹیکنالوجی دیکھتی،ٹیکنالوجی پڑھتی ،یہی کچھ اس کا اوڑھنا بچھونا ۔اس نسل کو راستہ دکھانا پرانی نسل یعنی بومرز کی ذمہ داری ہے ۔بھلے جین زی والے بومر ز کو کم آئیگی کا احساس دلاکر داد تحسین جمع کرنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت نہیں بدلے گی کہ بومرز ہی اس نسل کو راستہ دکھائیں گے۔وہی اس نسل کی تربیت کا سامان کریں گے وہی اس نسل کے لیے آگے بڑھنے اور گلوبل ویلج سے اپنا معاشی حصہ وصول کرنے کا سامان فراہم کریں گے۔اس ڈیجیٹل انقلاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کےلے حکومت کا احساس کرنا لازمی ہے۔پاکستان میں یہ ذمہ داری وزیراعظم شہبازشریف کی ٹیم کی اہم رکن خواجہ زشزہ فاطمہ کی ہے۔
اب ڈیجیٹل سے بھی کچھ آگے آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا چیلنج بھی ہمارے سامنے ہے ۔یہ چیلنج صرف کسی ایک نسل کا نہیں بلکہ بومرزاور جین زی دونوں قسم کے حضرت انسان برابر اس کا سامنا کررہے ہیں ،حکومت نے اس ڈیجیٹل سفر میں ایک تاریخی اعلان کیا ہے ۔یہ تاریخی اقدام ملک بھر میں اگلے ماہ یعنی نو سے پندرہ فروری کے درمیان ”انڈس اے آئی ویک“ منانے کا اعلان ہے۔حکومتی سرپرستی میں اس ہفتے کا مقصد مصنوعی ذہانت کی اہمیت کواجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کومعاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے راستے تلاش کرنا ہے۔یہ اعلان واضح پیغام ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو قومی ترقی، معیشت اور روزگار کا مرکزی ذریعہ بنانے جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت ٹیکنالوجی اب قومی ترجیح بن چکی ہے اور پاکستان اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر اب کوئی چارہ باقی بچاہی نہیں ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی مسلسل محنت، واضح سمت اور مضبوط قیادت نے پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے عملی دور میں داخل کر دیا ہے۔ انڈس اے آئی ویک ایک قومی پلیٹ فارم ہے جو حکومت، نجی شعبے، تعلیمی ادارے، اسٹارٹ اپس، نوجوانوں اور عام شہریوں کو ایک مقصد پر اکٹھا کرے گا۔اس ہفتے کے دوران مصنوعی ذہانت کو آسان زبان، قابلِ رسائی اور عملی استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔نوجوانوں کے لیے نئے سکلز سیکھنے، عملی تربیت حاصل کرنے اور عالمی معیار کی سرٹیفکیشن کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس عملی کام سے ملک بھر میں ٹیکنالوجی کی نمائش، نئے آئیڈیاز، ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع سامنے آئیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ گیمنگ اور تجرباتی سرگرمیوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی سے جوڑا جائے گا۔ تجرباتی اے آئی ایرینا، اور عوامی سطح پر انٹرایکٹو سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔9 فروری کو اسلام آباد میں انڈس اے آئی سمٹ سے اس قومی اقدام کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں سیکھنے، نئی چیزیں آزمانے اور عوامی شمولیت پر مبنی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔9 سے 15 فروری تک ملک بھر کے تعلیمی ادارے، کمپنیاں اور سرکاری ادارے انڈس اے آئی ویک کے تحت سرگرمیوں کا انعقاد کریں گے، اور پورا پاکستان ایک ڈیجیٹل سمت میں متحرک نظر آئے گا۔اس ویک کے انعقاد میں عالمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ پاکستان ایک سنجیدہ، تیار اور قابلِ اعتماد ٹیک پارٹنر کے طور پر دنیا کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے بھی تیار ہورہاہے۔ انڈس اے آئی ویک 2026 پاکستان کے لیے ڈیجیٹل خوداعتمادی، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور عالمی سطح پر مقام بنانے کی سمت ایک بڑی پیش رفت ہے۔
حکومت پاکستا ن کا شکریہ کہ اس کو کم ازنوجوانوں کی ضرورت کا علم ہے اور اسی علم کی بدولت حکومتی ترجیحات میں اب جدید ٹیکنالوجی کا فروغ شامل ہے۔ہمارے نوجوان بہت محنتی ہیں۔ہر چیز سیکھ لیتے ہیں بغیر سرپرستی کے بھی اپنے لیے راستے بنالیتے ہیں اس وقت ہمارے فری لانسرز دنیا کے لیے اپنی خدمات پیش کرکے ملک میں زرمبادلہ کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کا سامان بھی کررہے ہیں۔ان نوجوانوں کو ایک سمت کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارمز بھی درکار ہیں اور حکومت کا کام ہی ایسے اقدامات کرنا ہوتا ہے جس سے ملک کی معاشی سرگرمیاں آگے سے آگے بڑھیں۔ نوجوانوں کو کام کے مواقع وقت پر ملتے رہیں۔اور اب یہی کام موجودہ حکومت کررہی ہے۔ہم دنیا میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں اب اس دفاعی کامیابی اور فوجی ڈپلومیسی کو معاشی کامیابیوں میں بدلنا ہے۔حکومت اس اے آئی ویک کے ذریعے بہت سا بجٹ عوام کے لیے لگانے جارہی ہے اب اس جین زی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بومرز کے اس کام کو اپنے لیے نئے راستوں کی تلاش سمجھیں نہ کہ صرف سستی سیاست اور خود کو پرانی نسل کے سامنے بطور ایک مقابلہ کرنے والے کے پیش کریں۔اگر ایسا ہوا تو خاطر جمع رکھیں بومر ز آپ کو جیتنے نہیں دیں گے لیکن یہ کسی کی جیت نہیں بلکہ اس ملک کی ہارہوگی اور میں ہارنا نہیں چاہتا۔کیونکہ میں شاعر مشرق سے اس فرمان پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ ۔۔
دیکھیں گے تجھے دورسے گردوں کے ستارے
ناپید تیرے بحر تخیل کے کنارے