Wed, September 16, 2026

اچکزئی بھی جھنڈے والی گاڑی میں !

اچکزئی بھی جھنڈے والی گاڑی میں !

کئی دھائیاں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے طرزعمل اور ان کے وطیروں کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس سارے عمل کو سرکس یا تماشے کے علاوہ کوئی بھی نام نہیں دیا جا سکتا۔ کئی ماہ قبل جب بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ میں کافی شور تھا اور یہ دلیل دی جارہی تھی کہ بلدیاتی ادارے تو جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں تو میں نے اس صورتحال پر ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں صورتحال کا جائزہ پیش کرنے کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا یہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ثابت ہوں گے یا پھر کرپشن کی؟۔ سیاست دانوں کی جانب سے کرپشن، بدعنوانی، الزام تراشی اور بدتمیزی کا سلسلہ تو بہت پرانا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی اس میدان میں انٹری کے بعد تو یقینا نئے سٹینڈرڈ سیٹ ہوئے ہیں۔ روز روز کے احتجاج، بیانات، الزامات، جلسے، دھرنے اور ایک دوسرے کو غدار کہنے کے سلسلے نے لوگوں کو سیاست سے بدظن کر کے رکھ دیا ہے۔ عام آدمی نہ حکومت گرانا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کو جیل میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے، وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ ملک چلے، بازار کھلے رہیں، نوکریاں ملیں، مہنگائی قابو میں آئے اور بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔
 ایسے حالات میں جب حکومت نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تو یقینا یہ فیصلہ صرف ایک آئینی تقاضا پورا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح سیاسی سوچ بھی موجود ہے۔ اس فیصلہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ان دونوں احباب کا جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔ اس وقت پاکستان کوجس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام ہے کیونکہ معیشت پہلے ہی دباو¿ میں ہے، عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں، آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ معاملات اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں، اور ایسے میں اگر اندرون ملک سیاسی جنگ بھی جاری رہے تو نقصان حکومت کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے اندر سے ایسے چہرے سامنے لانے کی کوشش کی جو کم از کم پارلیمان، آئین اور سیاسی نظام کو تسلیم تو کرتے ہوں، نہ کہ ہر وقت نظام کو لپیٹنے کی بات کریں۔
محمود خان اچکزئی کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو سخت بات تو ضرور کرتے ہیں مگر سیاسی انارکی کے قائل نہیں۔ وہ اسمبلی کو مانتے ہیں، آئین کو مانتے ہیں اور اختلاف کو ایوان کے اندر رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ بات بہت اہم تھی کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو سیاست کو گالی، دھمکی اور نفرت کے بجائے سیاسی انداز میں لے کر چلے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر قبول کیا ہے۔
اسی طرح سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کے انتخاب بھی اسی سوچ کا تسلسل قرار دیا جا سکتا ہے۔ سینیٹ وہ ایوان ہے جہاں ملک کے طویل المدتی فیصلے ہوتے ہیں۔ وہاں اگر ہر روز ہنگامہ ہو تو قانون سازی ممکن نہیں رہتی۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا مزاج نسبتاً سنجیدہ ہے۔ وہ اختلاف بھی کرتے ہیں تو حد میں رہ کر۔ حکومت کے لیے یہ بات اہم تھی کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی آواز ایسی ہو جو بات کرے، صرف شور نہ مچائے۔ اب اس سارے معاملے میں تحریک انصاف کا کردار واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست پچھلے کچھ عرصے سے مکمل طور پر ٹکراو¿ کی سیاست بن چکی ہے۔ ان کا بیانیہ سادہ ہے: یا ہم اقتدار میں ہوں گے یا نظام نہیں چلے گا۔ یہ وہ سوچ ہے جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی نے نہ صرف حکومت بلکہ پارلیمان، الیکشن کمیشن، عدالتوں اور دیگر اداروں پر بھی مسلسل حملے کیے ہیں۔ اس رویے نے ملک میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا ہے۔
حکومت بار بار یہ پیغام د یا ہے کہ اختلاف کریں، تنقید کریں، مگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے اس راستے کو اپنانے کے بجائے سڑکوں، سوشل میڈیا اور بیرونی دنیا میں پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اگر سیاسی درجہ حرارت کوکم کرنا ہے تو پی ٹی آئی کے سخت رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپوزیشن کے اندر موجود نسبتاً سنجیدہ قوتوں کو آگے لانا ہوگا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی ضدی سیاست نے خود اس کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ جماعت تبدیلی کے نعرے کے ساتھ سامنے آئی تھی، مگر آج اس کا نعرہ صرف ایک قیدی کی رہائی اور اقتدار میں واپسی بن کر رہ گیا ہے۔ عوامی مسائل، مہنگائی، بے روزگاری اور معیشت جیسے موضوعات پی ٹی آئی کی سیاست میں کہیں پیچھے چلے گئے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت، چاہے اس پر جتنی بھی تنقید ہو، کم از کم یہ کوشش تو کر رہی ہے کہ ریاستی نظام بہتر انداز میں چلتا رہے۔
اگر ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اپوزیشن لیڈر کس پارٹی سے ہے، وہ یہ دیکھتا ہے کہ ملک میں سکون ہے یا نہیں؟ اگر سڑکیں بند ہوں گی، کاروبار متاثر ہوگا، سرمایہ کار خوفزدہ ہوں گے تویہ نقصان سب کو ہوگا۔ حکومت کا یہ فیصلہ کہ اپوزیشن کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو پارلیمان پر یقین رکھتے ہیں، دراصل اسی عام آدمی کے مفاد میں ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہونا کسی ایک دن کا کام نہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ حکومت نے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے، لیکن اگر پی ٹی آئی نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں۔ ضد کی سیاست کبھی بھی ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاست دانوں نے نظام کو یرغمال بنانے کی کوشش کی ہے، نقصان ہمیشہ عوام کا ہی ہواہے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی تقرری دراصل یہ پیغام ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ختم نہیں کرنا چاہتی بلکہ اسے ایک آئینی کردار دینا چاہتی ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایک مضبوط مگر ذمہ دار اپوزیشن جمہوریت کے لیے ضروری ہے، مگر ایک ایسی اپوزیشن جو ہر وقت نظام گرانے کی بات کرے، وہ ملک کو آگے نہیں لے جا سکتی۔ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس بات کو سمجھے کہ اگر اسے واقعی عوامی سیاست کرنی ہے تو اسے پارلیمان کے اندرایک مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، قانون سازی میں حصہ لینا ہوگا اور صرف احتجاجی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی اور اپنی سخت پالیسی پر قائم رہتی ہے تو پھر سیاسی درجہ حرارت کم ہونے نہ ہونے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔پاکستان کو اس وقت جذباتی نہیں بلکہ سنجیدہ سیاست کی ضرورت ہے۔ نعرے نہیں، حل چاہیے۔ الزام نہیں، قانون چاہیے۔ حکومت نے کم از کم یہ کوشش کی ہے کہ سیاست کو ایک مہذب راستے پر لایا جائے۔ اب یہ تحریک انصاف پر منحصر ہے کہ وہ سیاست کو لڑائی ہی بنائے رکھتی ہے یا قومی ذمہ داری کا ثبوت دیتی ہے۔یقینا تاریخ میں وہی جماعتیں یاد رکھی جاتی ہیں جو مشکل وقت میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہوں، نہ کہ وہ جو ضد اور انا کی سیاست میں ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل دیں۔
 

ٹیگز: