Wed, September 16, 2026

وزیر اعلیٰ کا عزم اور فیصلے

وزیر اعلیٰ کا عزم اور فیصلے

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ظلم اور ناانصافی پر مبنی معاشرے جلد یا بدیر اپنا وجود کھو دیتے ہیں ظلم و زیادتی اور کرپشن چاہے کسی بھی شکل میں ہو ان کا تدارک کیے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب کسی سراب کی مانند ہی رہتا ہے عوام کے خیر خواہ ارباب اختیار ریاستی نظام اور سرکاری اداروں کی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سعی کرتے ہیں ایک لمبے عرصہ کے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب اصلاحات، نظام کی مثبت تبدیی اور عوامی عملداری کے ایک نئے تاہم کٹھن راستے پر گامزن نظر آتا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس ضمن میں ان دنوں خاصی سنجیدہ اور پر عزم نظر آتی ہیں وہ جس بدلے ہوئے اور جارحانہ انداز میں بیوروکریسی اور پولیس میں اصلاحات اور انکا قبلہ درست کررہی ہیں وہ یقیناً قابل ستائس ہے اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو اس سے عوام کے مسائل اور تکالیف کے خاتمے میں دو رس نتائج برآمد ہونگے اور پاکستان میں بہتر گورنس کے نئے معیار قائم ہونگے۔
مریم نواز جس انداز میں محکمہ پولیس اور صحت کے شعبے میں سخت احتسابی عمل متعارف کرا رہی ہیں وہ غیر معمولی ہے اب دیکھنا یہ ہے آئی جی پنجاب اور صحت کے حکام اس چیلنج کو قبول کر کے اپنے شتر بے مہار محکموں کو کیسے لگام ڈالتے ہیں عوام کو اگر ریلیف ملے گا تو اس سے حکومتی جماعت کی مقبولیت کا گراف بہتر ہوگا۔ دیکھا جائے تو وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے جس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس پر اب تک خرچ کیے گئے کھربوں روپے کے فنڈز کی کیا افادیت رہی؟۔
مریم نواز نے اعلیٰ سطح میٹنگز میں یہ واضح کر دیا ہے کہ اب کرپشن بالکل برداشت نہیں ہوگی۔ رشوت، جھوٹ یا اعداد و شمار میں ہیر پھیر پر فوری کارروائی ہوگی۔ جو غلط طریقے سیکھے گئے ہیں انہیں چھوڑنا ہوگا۔ سیکھنا آسان ہے، غلط عادت چھوڑنا اصل امتحان ہے۔ میں نے کبھی ذمہ داری سے بچنے کا جواز قبول نہیں کیا۔ کوئی واقعہ ہو، کوئی بچہ گرے، کوئی حادثہ ہو، یہ نہیں سنا جائے گا کہ جگہ نجی تھی یا کسی اور کی ملکیت تھی۔ شہری کی جان سب سے پہلے ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں پولیس، صحت اور دیگر سرکاری شعبوں میں نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر سروس ڈلیوری کے لیے متعدد اہم احکامات جاری کیے ہیں ۔ اُنہوں نے پولیس اصلاحات کے لیے صرف تین ماہ کی معیاد مقرر کی ہے جس کے مطابق ہر پولیس سٹیشن میں پینک بٹن نصب کیے جائیں تاکہ شہری براہِ راست شکایات درج کرا سکیں۔ ہر پولیس سٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم (Body Camera) فراہم کیے جائیں گے تاکہ کارروائیوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ عوام کو آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ اور آن لائن ایف آئی آر درج کرنے کے نظام کا آغاز کیا جائے۔ پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر شہری سے احترام سے پیش آئیں اور چھوٹے موٹے معاملات دو سے تین گھنٹوں میں حل کریں۔ یہ اقدامات صوبائی پولیس کی شفافیت، عوامی اعتماد اور نظم و ضبط کو مضبوط کرنے کے لیے بہت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔یہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگاکہ صوبائی دارالحکومت میں پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مربوط کارروائی کے لیے سی سی پی لاہور بلال صدیق کمیانہ کا پیشہ ورانہ کردار کافی اہم رہا ہے ۔ان کی مضبوط گرفت نے لاہور کے امن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔گو کہ آپریشن ونگ کی مجموعی کارکردگی قابل ذکر نہیں رہی تاہم ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا تفتیشی نظام میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کو اس وقت ڈی آئی جی انعام وحید ، ڈی آئی جی احمد جمال اور ڈی آئی جی اشفاق خان جیسے منجھے ہوئے اور اچھی شہرت کے حامل افسران کی فیلڈ میں ضرورت ہے۔ 
صحت کے شعبے میں بھی مریم نواز نے متعدد تحریکِ نو اور اصلاحاتی احکامات دِیئے ہیں ہسپتالوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت مریضوں کے ریکارڈ اور ڈاکٹری کارکردگی انٹرنیٹ بیسڈ سسٹمز پر مبنی ہوں گے صوبے بھر کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کو“Safe City”سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ صحت کی سہولیات میں شفافیت اور جدید آلات کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام کا آغاز ہوا جس کا مقصد گھر گھر جاکر بنیادی تشخیص اور ابتدائی طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدامات صحت کے نظام میں شفافیت، سہولت اور دور افتادہ علاقوں تک بہتر سروس پہنچانے میں سنگِ میل ثابت ہونے کی امید رکھتے ہیں۔مریم نواز نے سرکاری اداروں میں انسداد بدعنوانی اور شفاف حکمرانی کے لیے محکمہ جاتی انسپیکشن ٹیمیں فعال کی ہیں تاکہ عوام کو بروقت اور موثر خدمات مہیا ہوں۔ بعض مقامات پر جیسے کہ قصور میں گٹروں پر سر کے ڈھکن لگانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے کھیل معاشرے کی صحت مند ترقی، نوجوانوں کی کردار سازی اور قومی یکجہتی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔جیسا کہ کھیل جسمانی فٹنس کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، قیادت، ٹیم ورک اور اعتماد جیسی صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں کھیلوں کے فروغ اور خواتین کو مواقع دینے کے لیے جامع وژن کے تحت عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔صوبے بھر میں کھیلوں کے میدان آباد کیے جا رہے ہیں، نئے سپورٹس پراجیکٹس اور میگا ایونٹس منعقد کیے جا رہے ہیں۔کھیلتا پنجاب پنک گیمز 2026 پاکستان میں خواتین کھیلوں کا سب سے بڑا اور تاریخی ایونٹ ثابت ہوا۔گیارہ فروری کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں پنک گیمز کا افتتاح کیا۔ایونٹ میں پنجاب بھر سے ریکارڈ 2000 خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کی۔پنجاب نے نیشنل گیمز اور قائداعظم گیمز میں سب سے زیادہ میڈلز حاصل کیے۔اگلے ایک سال میں 184 سپورٹس پراجیکٹس مکمل کیے جائیں گے۔

ٹیگز: