فن لینڈ کی مس سارہ دزافسے سے مس فن لینڈ کا تاج واپس لے لیا گیا، کیونکہ انہوں نے چینی شہریوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے ایک نسل پرستانہ پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سارہ نے تھائی لینڈ میں منعقدہ مس یونیورس مقابلے میں فن لینڈ کی نمائندگی کی تھی۔
سارہ نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں وہ اپنی آنکھوں کو کنارے سے کھینچ کر ایک چینی شخص کے ساتھ کھانا کھا رہی تھیں، اور اس کے ساتھ ایک متنازعہ کیپشن لکھا تھا کہ ’’ایک چینی کے ساتھ کھاتے ہوئے‘‘۔ اس پوسٹ پر جاپان، چین اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک سے سخت ردعمل آیا۔ سارہ نے بعد میں اس حرکت پر معذرت کی، لیکن ان کی معذرت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان سے مس فن لینڈ کا تاج واپس لے لیا گیا۔
فن لینڈ کے وزیراعظم نے سارہ کے اس عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر سوچا سمجھا اور احمقانہ عمل قرار دیا، جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ مس فن لینڈ کی تنظیمی کمیٹی نے بھی اس پوسٹ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ نسل پرستی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔