نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو قابلِ ذکر لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کی ہے، جس سے پاکستان کے لیے سیکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ افغان طالبان نے ایسے دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک ماحول قائم کیا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کا دعویٰ کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، درست نہیں ہے۔ اس میں کہا گیا کہ افغان طالبان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے، اور افغان سرزمین پر کئی خطرناک عسکریت پسند گروہ، جیسے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان، فعال ہیں۔
خصوصی طور پر، رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد حملے کیے ہیں، جس سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔ 2025 میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اور اس نے پاکستان کی فوجی ملکیت والے کاروبار اور چینی سرمایہ کاری کو بھی اپنا ہدف بنایا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان کے اندر ٹی ٹی پی کے حوالے سے مختلف نظریات ہیں۔ کچھ طالبان رہنما اس گروہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں خلل ڈالنے والی قوت سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر ٹی ٹی پی کے ساتھ تاریخی تعلقات کی بنا پر اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں طالبان کے اندر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی نہ تو ارادے ہیں اور نہ ہی اس کو روکنے کی صلاحیت۔
علاوہ ازیں، رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جن کی بدولت داعش خراسان کی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں، اور کئی اہم گرفتاریاں بھی کی گئیں ہیں، جیسے کہ 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان کی گرفتاری۔
آخر میں، اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔