چوپال سجی ہوئی تھی، اہل علاقہ موجود تھے اور چپ سائیں کے منتظر تھے۔چپ سائیں کی تھوڑی دیر کے بعد چوپال آمد ہوئی، ایسے لگا جیسے کوئی منسٹر یا پھر’’ بڑا ‘‘ آدمی چوپال میں آگیا ہو۔ سب ان کے احترام میںکھڑے ہوگئے اورسرد موسم میں بھی ماحول گرم ہوگیا۔نتھو اور پھتو نے بات کا آغاز کیا اور کہا کہ سائیں جی آج توسودی پہلوان(فرضی نام) بھی چوپال میں آئے ہیں۔ وہ کافی دیر سے آپ کے منتظر ہیں۔ سائیں نے کہا کہ جی آیاں نوں پہلوان جی۔۔ خیر تو ہے آج اکھاڑے کا رخ کرنے کی بجائے چوپال کا رخ کرلیا۔۔ اس پر سودی پہلوان نے کہاکہ سائیں جی۔۔۔ بڑا دل کررہا تھا کہ کچھ دل کی باتیں کروں۔۔ اکھاڑے ، دھوبی پٹکے سے بھی باہر نکلوں۔۔۔سائیں جی بولے۔۔کیا وجہ بنی۔۔آواز غمگین اور دل میں کچھ درد سا ہے۔۔ اس پر سودی پہلون نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہاکہ۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے۔۔ اکھاڑے ویران ہوتے جارہے ہیں۔۔ نوجوان اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ میں تو یہ کہوں گاکہ ان کو موبائل کی وجہ سے موبائلیریا ہوگیا ہے۔۔۔ اس پر سب ہنس پڑے۔۔ نتھو ، پھتو بولے۔۔ پہلوان جی یہ ملیریا تو سنا تھا لیکن موبائلیریا ۔۔۔ کیا بیماری ہے، کیا کوئی نیا وائرس آگیا ہے؟۔۔ اس پر سودی پہلوان بولے۔۔ پتری ۔۔۔ یہ وہ وائرس ہے، جو اندر اندر سے ہماری نئی نسل کا دماغ ’’خراب‘‘ کررہا ہے۔۔۔ نتھو اور پھتو دوبارہ بولے۔۔ پہلوان جی اس بارے میں کچھ تو بتائیں۔۔ سودی پہلوان نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔ کہا ایک دور تھا ۔۔ نوجوان اکھاڑے کا رخ کرکے۔۔ گوڈی کرتے۔۔۔ ڈنڈ بیٹھک کرتے۔۔۔ ہم جدی پشتی پہلوان ان کو دودھ، بادام رگڑ کر خشخاص شامل کرکے ،مشروب دیتے۔۔۔ گرمی میں بھی ۔۔ ان کے پھرتیلے جسم کو کچھ نہ ہوتا اور وہ پٹھاری مارتے ، دھوبی پٹکا اور واہ واہ۔۔۔ اکھاڑے میں ڈھولچی ماحول کو گرما دیتے۔۔۔ افسوس۔۔۔ آج کل نوجوان موبائل میں ایسے گم ہوگئے ہیں کہ انہوں نے اپنی صحت تباہ کرلی ہے اور اکھاڑا تو دور کی بات۔۔۔انگریزی جم کا رخ بھی نہیں کرتے۔۔ سائیں جی بھلا ان کی کوئی بھی سرگرمی ہوگی اور اس نسل جس نے باگ ڈور سنبھالنا ہے۔ اس میںہمت
کہا ں ہوگی۔۔ میں اس کلموہے موبائل کے استعمال کے خلاف نہیں لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال تو موبائلیریا ہی کا باعث بن رہا ہے ناں۔۔۔
اس پر چپ سائیں بولے حق ہو!۔۔۔سودی پہلوان آپ کی تشویش بجا ہے۔۔ بچو آج میں پہلوان جی کے جذبات کی ترجمانی کروںگااور اس بارے میں ہی چوپال میں بات کروںگا۔ سائیں جی نے کہاکہ بچو۔۔ملیریا تو فقط ایک مچھر کی وجہ ہوتا ہے ، تاہم اس کا علاج تو ہفتے، دس دن میں ہوہی جاتا ہے لیکن جس بیماری کی نشاندھی سودی پہلوان جی نے کی ہے یعنی موبائلیریا ۔۔۔ تو وہ ۔۔ کسی حد تک ناقابل علاج ہی ہے۔۔۔ بچوں، یہ بھی سچ ہے کہ موبائل کا زیادہ استعمال نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے اور اسی وجہ سے ان کی سرگرمی صرف ایک کمرے ا وربستر تک محدود ہوگئی ہے۔۔ ایک دور تھا۔۔ جب ہرجوان ہونے والا بچہ اکھاڑوں کا رخ کرتا تھا اور پہلوانوں کو بڑے غور سے دیکھتا اور یہ سوچتا کہ میں بھی جب تھوڑا بڑا ہوجائوں گا تو پہلوانی ہی کروںگا۔۔۔افسوس۔۔ ہمارے لاہور جیسے شہر میں اب اکھاڑے ختم ہی ہوتے جارہے ہیں۔۔ ایک دور میں آزادی پارک کے ساتھ بڑا اکھاڑہ تھا لیکن اب تو بس ویرانی سی ویرانی ہے۔۔خیر ۔۔بچو سودہ پہلوان جی کی جوانی گواہ ہے کہ وہ بڑے تگڑے یعنی زور آور تھے لیکن اس کے باوجود محلے میں نیچی نظر کرکے گزرتے۔ ان کے استاد اور داد ا استاد بھی ایسے ہی تھے۔۔۔ پر آج کل کی نسل نجانے کدھر جا رہی ہے۔۔۔ اس دور میں تو پہلوانوں کی سوغات سردائی ہوتی تھی اور آج کل کے بچے ۔۔۔ سوڈا واٹر اور برگر، شوارموں کے پیچھے ہمت ختم کررہے ہیں۔
دوستو!آج کا انسان بے شمار سہولتوں، جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ترقی کے باوجود جس اندرونی بحران کا شکار ہے، وہ اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ بظاہر ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، مگر باطن میں ایک ایسی کھوکھلا پن پیدا ہو چکا ہے جو معاشرتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ سچائی، دیانت، برداشت، احترام اور احساسِ ذمہ داری جیسی اقدار رفتہ رفتہ کمزور پڑتی جا رہی ہیں، اور یہی کمزوری موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
صاحبو!اخلاقی اقدار کسی بھی معاشرے کی روح ہوتی ہیں۔موبائیلریا نے سب ختم کردیا ہے۔۔ انسان اگرچہ ایک دوسرے کے قریب ہیں لیکن وہ حقیقت میں دور ہوتے جارہے ہیںاور صرف موبائل سٹیٹس دیکھ کر ہی باعلم ہوتے ہیں کہ فلاں گھر خوشی ، غمی ہے۔۔۔افسوس۔۔
دوستو!اخلاقی اقدار کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ کبھی گھر بچوں کی پہلی درسگاہ ہوا کرتے تھے، جہاں بڑوں کا احترام، سچ بولنے کی عادت اور دوسروں کا خیال رکھنا سکھایا جاتا تھا۔ آج والدین خود معاشی دوڑ میں اس قدر مصروف ہیں کہ بچوں کی اخلاقی تربیت ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ نتیجتاً نئی نسل ڈگریاں تو حاصل کر رہی ہے، مگر کردار سازی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں کا کردار بھی اس حوالے سے سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتا۔ امتحان میں کامیابی ہی مقصد بن چکا ہے، جبکہ ایمانداری، محنت اور اخلاقی جرات جیسے اوصاف پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
چوپال کے دوستو!اس تاریک منظرنامے میں امید کی کرن اب بھی موجود ہے۔ اخلاقی اقدار کی بحالی ناممکن نہیں، بس اس کے لیے اجتماعی شعور اور سنجیدہ کوشش درکار ہے۔ ہم آج بھی دوبارہ اکھاڑوں کا رخ کرسکتے ہیں۔موبائلیریا کے وائرس سے نکل سکتے ہیں اورسودی پہلوان کی طرح’’ تگڑے‘‘ پہلوان بن سکتے ہیں لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں فرد کی سطح پر خود احتسابی کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم معاشرے کی خرابیوں کا حصہ ہیں یا بہتری کا ذریعہ۔ خاندان کو دوبارہ اخلاقی تربیت کا مرکز بنانا ہوگا، جہاں بچے صرف کامیاب نہیں بلکہ اچھے انسان بننے کا خواب دیکھیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ معاشی ترقی، سائنسی کامیابیاں اور مادی سہولتیں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک اخلاقی اقدار مضبوط نہ ہوں۔ اگر ہمیں آنے والے وقتوں میں ترقی کرنا ہے تو نئی نسل کو ڈرائنگ روم سے نکل کر اکھاڑے کا رخ کرنا ہوگا۔۔۔اس طرح سودی پہلوان بھی خود کوـ’’ کمزور‘‘ نہیں سمجھیں گے بلکہ دوبارہ توانا محسوس کریں گے۔۔۔ لہٰذا بچوں ڈرائنگ روم نہیں اکھاڑے آباد کرو۔۔رہے نام اللہ کا۔۔۔