اسلام آباد : نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مون سون کے ساتویں مرحلے سے گزر رہا ہے، جبکہ مزید دو مرحلے ابھی باقی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے گلگت بلتستان، کشمیر، اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیروں مصدق ملک اور عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مون سون کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور آئندہ برسوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل اور تیز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث تقریباً 670 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 80 سے 90 افراد لاپتا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10 ستمبر تک مون سون کے باقی دونوں مرحلے مکمل ہو جائیں گے، جس کے بعد نقصانات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ حکومت، فوج اور دیگر ادارے مل کر ریسکیو اور ریلیف کا کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر 400 سے زیادہ ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں جیسے بونیر وغیرہ میں امدادی سامان بھیجا جا رہا ہے، اور آرمی ایوی ایشن بھی کسی بھی ایمرجنسی میں زخمیوں کو بڑے اسپتالوں تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ سی ایم ایچ سمیت تمام بڑے فوجی اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
آخر میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ حکومت جلد ہی سیلاب متاثرین کے لیے ایک قومی ریلیف پیکیج منظور کرے گی، تاکہ متاثرہ لوگوں کو جلد از جلد مدد دی جا سکے۔