Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ رولز 2025 کا تقابلی جائزہ

سپریم کورٹ رولز 2025 کا تقابلی جائزہ

سپریم کورٹ کے سب سے پہلے رولز یعنی قواعد 1956، دوسری مرتبہ 1980 جبکہ تیسری مرتبہ رواں برس مرتب کئے گئے۔ آرٹیکل 191 سپریم کورٹ اور آرٹیکل 202 ہائیکورٹس کوبااختیار بناتا ہے کہ یہ عدالتیں، آئین اور قانون کے تابع، عدالتی اْمور کو منظم اورعدالتی طریقہ کارکو وضع کرنے کی بابت قواعد بنا سکتی ہیں۔ یاد رہے نئے قواعد کو ترتیب دینے کے لئے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے رواں برس 14 مارچ کو جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل چار رْکنی کمیٹی تشکیل دی۔اس کمیٹی نے ملک بھر کی بار کونسلز، بار ایسوسی ایشنزاور ججوں کے ساتھ ملکر حتمی مسودہ تیار کیا۔ سپریم کورٹ کے تمام ججوں کے تفصیلی غور و خوض اور منظوری کے بعد رواں ماہ اگست میں نئے قواعد نافذ کردیئے گئے۔
نئے قواعد عدالتی اْمور میں جدت، ڈیجیٹلائزیشن، عالمی معیار کے عدالتی نظام کیساتھ مطابقت کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ تقریباً نصف صدی پہلے بنے ہوئے قواعد میں شامل فرسودہ شقوں کو ہٹا کر نئے قواعد شامل کئے گئے ہیں۔ یہ قواعد عدالتی طریقہ کار کو آئین و قانون بلکہ دور حاضر کی ڈیجیٹلائزیشن کیساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے۔ سپریم کورٹ قواعد، 2025 سات حصوں، اڑتیس آرڈرز، اور چھ شیڈولز پر مشتمل ہیں، جس میں سابقہ قواعد کی تقریباً 280 دفعات میں ترامیم کی گئی ہیں۔
اگر 1980 اور 2025 کے قواعد کا اختصار کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تو 2025 کے قواعد منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ:
دائرگی کا طریقہ:  1980 کے قواعد کے تحت صرف کاغذی دائرگی قبول تھی، جبکہ نئے قواعد کے تحت دائرگی مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ کار کے تحت ہی قابل قبول ہوگی۔
سماعت کا طریقہ کار:  پرانے قواعد کے مطابق فریقین/وکلاء کا کمرہ عدالت میں موجود ہونا لازم تھا جبکہ نئے قواعد میں وڈیو لنک کے ذریعہ سماعت کی سہولت بھی موجود ہے۔
عدالتی فیس اور قانونی امداد: کئی عشروں بعد عدالتی فیسوں پر نظر ثانی، وکیل اور سرکاری اخراجات کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ فوجداری درخواستیں فیس سے مستثنیٰ ہیں (تصدیق شدہ کاپیوں کے علاوہ)؛ کاپیاں جیل سے جمع کرائی گئی درخواستوں کے لیے مفت ہیں۔ مجرمانہ معاملات سے متعلق، حبس بے جا اور آرٹیکل 184(3) کی درخواستیں فیس سے مستثنیٰ ہیں۔ رجسٹرار سزائے موت کے مقدمات میں ریاستی خرچ پر وکیل کا تقرر کر سکتا ہے۔ فیس، اخراجات، سیکیورٹی ڈیپازٹ کی ہر تین سال بعد نظرِ ثانی ہوا کرے گی۔
وکلاء یونیفارم: نئے قواعد کے مطابق وکلاء شیروانی یا سیاہ کوٹ پہن سکتے ہیں۔ گاؤن پہننا اب اختیاری ہے جبکہ سینئر وکلاء چاہیں تو پورا سال گاؤن پہن سکتے ہیں۔
ریکارڈ تک رسائی:  پرانے قواعد کے تحت عدالتی ریکارڈ / دستاویزات تک رسائی محدود تھی، جبکہ نئے قواعد کے تحت آن لائن سہولت کی بدولت ریکارڈ تک رسائی آسان بنا دی گئی ہے۔
رجسٹرار کا اختیار و کردار: نئے قواعد کے تحت رجسٹرار کو عدالت کے دفتری، نگرانی اور انتظامی اْمور میں بہت زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے جبکہ پرانے قواعد میں رجسٹرار کے اختیارات محدود تھے۔
دستاویزات کی نوعیت: نئے قواعد کے تحت دستاویزات سافٹ کاپی/آن لائن صورت میں دستیاب ہونگے جبکہ پہلے ایسا ممکن نہ تھا۔
بینچوں کی تشکیل: نئے قواعد میں 26 ویں آئینی ترمیم اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ بینچوں کی تشکیل، ترتیب کے نئے نظام و طریقہ کار یعنی بینچوں کی تشکیل کے لئے کمیٹی کے کردار کو وضح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنایا گیا ہے۔ جبکہ پرانے قواعد میں بینچوں کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید /پسند ناپسند پر منحصر ہوا کرتی تھی۔
ہنگامی مقدمات: پرانے قواعد کے تحت عدالتی کاروائیاں طویل ہوجایا کرتی تھیں، جبکہ نئے قواعد کے تحت ہنگامی نوعیت کے مقدمات 14 دن میں نمٹانے کے لئے طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔
نظر ثانی اور اپیل: نئے قواعد کے تحت فیصلے کے خلاف صرف ایک نظر ثانی یا اپیل کی جاسکے گی۔ فضول نظرثانی /جائزے کی صورت میں جرمانے متعارف کروائے گئے ہیں۔ جبکہ پرانے قواعد کے تحت مخصوص شرائد نہیں تھیں۔
سوموٹو/توہین عدالت مقدمات: آرٹیکل 184 (3) یعنی سوموٹو اور توہین عدالت مقدمات کے لئے انٹرا کورٹ اپیل تعارف کروائی گئی ہے جبکہ پرانے قواعد میں یہ سہولت موجود نہ تھی۔
انٹراکورٹ اپیل: نئے قواعد کے تحت انٹرلاکیوٹری آرڈرز کی اپیلیں کم از کم دو ججوں پر مشتمل بینچ سنے گا جبکہ دیگر تمام اپیلیں، بشمول بریت کے خلاف، تین ججوں سے کم بینچ نہیں سنے گا۔
مقدمات کی منتقلی: نئے قواعد کے تحت فیملی کورٹس ایکٹ 1964 اور آرٹیکل 186A کے تحت منتقلی مقدمات کی درخواستیں اب تسلیم شدہ ہوں گی۔
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ: نئے قواعد کے تحت سپریم کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی رجسٹریشن کے لیے تحریری ٹیسٹ ختم کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں پانچ سال کی سٹینڈنگ رکھنے والا وکیل رجسٹریشن کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔
یاد رہے یہ تقابلی جائزہ اختصار کیساتھ کیا گیا ہے۔ عوام الناس اور خصوصا وکلاء برادری کی سہولت و مطالعہ کے لئے سپریم کورٹ کے نئے قواعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ دہائیوں پرانے قواعد انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں اضافے کا سبب تھے۔ پاکستانی نظام انصاف کو بہتر کرنے کیلئے دورِحاضر کے تقاضوں خصوصا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعتوں و فوائد کو سمیٹنا اشد ضروری تھا۔ رواں برس سپریم کورٹ میں دائرگی کے لئے ای سسٹم کو متعارف کروانا بھی اسی سلسلہ کی اک کڑی تھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر دہائی کے اختتام پر پاکستانی اعلیٰ عدلیہ سے متعلقہ قوانین و قواعد کا از سرنو جائزہ لیا جائے تاکہ نئے قوانین و قواعد مرتب کئے جاسکیں۔

ٹیگز: